نائیجیریا‘ شدید لڑائی میں عام شہریوں سمیت درجنوں افراد ہلاک

نائیجیریا‘ شدید لڑائی میں عام شہریوں سمیت درجنوں افراد ہلاک

  

مائیدوگوری(آن لائن)نائیجیریا میں فوج نے ملک کے اہم شمال مشرقی شہر مائیدوگوری پر شدت پسند تنظیم بوکوحرام کے جنگجوؤں کے حملے کو پسپا کر دیا ہے۔اطلاعات کے مطابق شہر کے نواح میں جنگجوؤں اور سرکاری فوجیوں کے درمیان شدید لڑائی میں عام شہریوں سمیت درجنوں افراد ہلاک ہوئے ہیں۔مائیدوگوری نائجیریا کا وہ شہر ہے جہاں گذشتہ عرصے میں بوکوحرام کے حملوں سے بچنے کے لیے لوگوں کی ایک بڑی تعداد منتقل ہو چکی ہے ،بوکوحرام کے حملے کے بعد شہر میں کرفیو لگا دیا گیا ہے اور شہریوں نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ شہر کی سڑکیں سنسان پڑی ہیں اور وہاں صرف فوج اور پولیس کے اہلکار اور مقامی نوجوانوں کے جتھے گشت کر رہے ہیں۔ادھر تازہ اطلاعات کے مطابق جنگجوؤں نے مائیدوگوری کے شمال میں مونگونو نامی بڑے قصبے پر قبضہ کر لیا ہے۔گذشتہ چند ہفتوں سے بوکوحرام کے بدستور حملوں کے حوالے سے انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے خدشے کا اظہار کیا تھا کہ نائجیریا میں ہزاروں عام شہریوں کو ’بہت بڑے خطرے‘ کا سامنا ہے۔اس سے قبل بوکوحرام کے حملے کے بارے میں بات کرتے ہوئے صوبہ بورنو کے صدر مقام مائیدوگوری کے لوگوں کا کہنا تھا کہ رات کو ان کی آنکھ مسلسل دھماکوں اور گولیوں کی آواز سے کھل گئی۔شہر کے نواح سے ایک رہائشی نے بی بی سی کو بتایا کہ ’سینکڑوں ہزاروں لوگ‘ شہر سے فرار ہو رہے ہیں اور علاقے میں فوج بھی کم ہی نظر آ رہی ہے۔خاتون کا کہنا تھا کہ ’اب فوج نہیں ، ہمیں تو دعا ہی بچا سکتی ہے۔‘ خاتون کا اشارہ اس جانب تھا کہ جنگجوؤں کے خلاف فوج کی بجائے مقامی نوجوانوں کے جتھے علاقے میں پہرے دے رہے ہیں۔ایک دوسرے رہائشی کا کہنا تھا کہ عملی طور پر تمام شہر بند ہو چکا ہے، تمام کاروبار بند ہے اور سڑکوں پر کوئی گاڑی نظر نہیں آ رہی ہے۔ ’ہر شخص اپنے گھر میں دبک کے بیٹھا ہوا ہے، اور باہر صرف عام شہری پہرے دے رہے ہیں یا فوج اے اہلکاروں جو گلیوں میں گشت کر رہے ہیں۔‘نائجیریا کی فوج کے ترجمان کرس الوکادے نے ایک ٹویٹ میں اعلان کیا کہ صوبہ بورنو میں مائیدوگوری سمیت کچھ مقامات پر حملوں کے بعد صوبے میں کرفیو لگا دیا گیا ہے۔

مزید :

عالمی منظر -