خواجہ آصف کے بجلی نرخوں میں کمی ،صنعتوں کو لوڈشیڈنگ سے استثنٰی دینے کا اعلان

خواجہ آصف کے بجلی نرخوں میں کمی ،صنعتوں کو لوڈشیڈنگ سے استثنٰی دینے کا اعلان ...

  

                                اسلام آباد( مانیٹڑنگ ڈیسک +اے این این) وزیر پانی و بجلی خواجہ محمد آصف نے بجلی کے نرخ کم کرنے اور صنعتوں کو لوڈ شیڈنگ سے مستثنیٰ قرار دینے کا علان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک سے بجلی بحران ختم کرنے میں مزید3سال لگیں گے،قوم کو ستمبر2017تک انتظار کرنا ہو گا، فرنس آئل کی کمی نہیں ،اس وجہ سے بجلی کے بحران کا کوئی خطرہ نہیں،پی ایس او کے بقایا جات بتدریج ادا کئے جا رہے ہیں،کراچی الیکٹرک کے ساتھ نیا معاہدہ نئی شرائط کے ساتھ ہو گا،دہشتگردوں نے اب سرکاری تنصیبات پر بھی حملے شروع کر دئیے ہیں،گزشتہ روز بجلی کے دو ٹاورز کو اڑیاگیا ہے،نیشنل ٹرانسمیشن لائن19ہزار کلو میٹر پر محیط ہے ہر ٹاور کی حفاظت نہیں کی جا سکتی۔اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ کہ ملک سے توانائی بحران ختم کرنے میں مزید 3سال لگ سکتے ہیں،ہماری کوشش ہے کہ قوم کو ستمبر 2017 تک لوڈ شیڈنگ سے نجات مل جائے۔انھوں نے کہا کہ نیشنل گرڈ میں خرابی کے باعث یہ بریک ڈان ہفتے کی شب 12 بجے کے قریب شروع ہوا تھا اور ملک کے 80 فیصد علاقے کی بجلی چلی گئی تھی۔ انہوں نے کہا 19ہزار کلو میٹر ٹرانسمیشن لائن کا تحفظ نہیں کیا جاسکتا، نئی توانا پالیسی کے تحت بجلی پیدا کرنیوالے کارخانے بھی ٹرانسمیشن لگا سکتے ہیں ، گزشتہ 10 روز میں بجلی کی تنصیبات پر 3 حملے ہوئے، بجلی کی بحالی کا کام جاری ہے، امید ہے چند گھنٹوں میں پورا سسٹم بحال کردیا جائے گا۔ سرکار ی املاک کی حفاظتی اقدامات کئے جارہے ہیں ، دہشتگردی کے واقعات بلوچستان میں ہوتے ہیں ،بلوچستان حکومت سے کہا ہے کہ ایسے واقعات کی روک تھام کیلئے اقدامات کرے ۔ پچھلے دنوں تین واقعات ایک ہی علاقے میں ہوئے ، انہوں نے کہا کہ شہری علاقے 6 گھنٹے اور دیہی علاقے 8 گھنٹے تک کی لوڈشیڈنگ پر لے آئیں گے جبکہ انڈسٹریل علاقوں کو بلا تعطل بجلی فراہم کی جائے گی کیونکہ لوگوں کا روزگار وابستہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت پیپلزپارٹی کی گزشتہ حکومت کے غلط فیصلوں کو بھگت اور صحیح فیصلوں پر عمل کررہی ہے۔ پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کی گزشتہ حکومت نے مختلف اداروں کی نجکاری کے لئے ایک فہرست ترتیب دی تھی۔ موجودہ حکومت نے اس فہرست میں کسی نئے ادارے کو شامل نہیں کیا۔ موجودہ حکومت کوئی نئی نجکاری نہیں کر رہی ،ملک سے توانائی بحران ختم کرنے میں 3 سال لگ سکتے ہیں، ہماری کوشش ہے کہ قوم کو ستمبر 2017 تک لوڈ شیڈنگ سے نجات مل جائے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ نیشنل گرڈ سے کے الیکٹرک کو 650 میگا واٹ بجلی فراہم کی جا رہی ہے، 2011 میں مشترکہ مفادات کونسل نے فیصلہ کیا تھا کہ کے الیکٹرک کو 350 میگا واٹ بجلی فراہم کی جائے گی لیکن سندھ ہائی کورٹ نے اس فیصلے کے خلاف کے الیکٹرک کے حق میں حکم امتناعی دے دیا تھا۔ جس معاہدے کو بنیاد بنا کر حکم امتناع جاری کیا گیا تھا اب وہ ختم ہوگیا ہے۔ اس لئے کے الیکٹرک کے ساتھ معاہدے کے لیے نئی شرائط طے ہوئی ہیں، نئے معاہدے میں کے الیکٹرک کی پیداواری صلاحیت کو بھی مد نظر رکھا جائے گا تاہم نئے معاہدے تک کے الیکٹرک کی بجلی منقطع نہیں کی جائے گی۔انہوں نے کہاکہ بجلی کی قیمت میں کوئی اضافہ نہیں کیا جارہا بلکہ ہماری کوشش ہے کہ بجلی کی قیمت کم کر کے عوام کو ریلیف دیں انہوں نے کہا کہ ہمارے ذمہ پی ایس او کی ادائیگیاں واجب الاداءہیں ہم ان کی ادائیگی آہستہ آہستہ کررہے ہیں ۔ انھوں نے کہا کہ دہشت گردوں نے اب سرکاری تنصیبات پر حملے شروع کردیے ہیں، اوچ کے علاقے میں ٹرانسمیشن لائنوں کو دہشت گردوں نے اڑا دیا جس کے نتیجے میں گڈو بجلی گھر ٹرپ کر گیا جس سے تمام نظام تباہ ہو گیا۔ انھوں نے کہا کہ بجلی کی فراہمی کے نظام کو معمول پر لانے کے لیے تین پلانٹوں کو نیشنل گرڈ کے ساتھ منسلک کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یوایس اے آئی ڈی اور چائنہ سٹیٹ گرڈ کو کہا ہے ہماری ٹیکنیکل مدد کر د کریں اگر کو ئی سرکاری املاک پر حملہ کرے تو اس بچ سکیں تا کہ سارے سسٹم پر اثر انداز نہ ہو ،آئل کی قلت سے بجلی میں تعطل کا کوئی امکان نہیں ،فراس آئل کی صورتحال معمول پر آئی گئی ہے ہم نے 12کارگوز بک پی ایس او کے ذریعے بک کی ہوئی ہیں ۔

مزید :

علاقائی -