منیب اور مغیث کا قتل ،مجرمان کی سزائے موت کیخلاف اپیل

منیب اور مغیث کا قتل ،مجرمان کی سزائے موت کیخلاف اپیل

  

 لاہور (نامہ نگار خصوصی) لاہور ہائیکورٹ نے سیالکوٹ میں مشتعل ہجوم کے سرعام تشدد سے قتل ہونیوالے دو بھائیوں کے مجرموں کی سزائے موت کے خلاف اپیل کی سماعت 2 فروری تک ملتوی کرتے ہوئے مجرموں کے وکیل کوآئندہ تاریخ سماعت پربحث مکمل کرنے کی ہدایت کردی۔مسٹر جسٹس عبدالسمیع خان اور مسٹر صداقت علی خان پر مشتمل دو رکنی بنچ نے انسداد دہشت گردی عدالت سے سزائے موت پانے والے مجرموں امین اور وارث سمیت متعدد درخواست گزاروں کی اپیل پر سماعت کی، مجرموں نے اپیل میں موقف اختیار کر رکھا ہے کہ انسداد دہشت گردی عدالت گوجرانوالہ نے ناکافی گواہان اور ناقص تفتیش کے باوجود دو بار سزائے موت کا حکم سنایا ہے ،ٹرائل کورٹ کی دی گئی سزا کالعدم کی جائے اور باعزت بری کرنے کا حکم دیا جائے، ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نے دو رکنی بنچ کو آگاہ کیا کہ 15اگست 2010کو دوسگے بھائیوں منیب اور مغیث کو سیالکوٹ کے گاؤں بٹرانوالی میں ایک مشتعل ہجوم نے سرعام تشدد کا نشانہ بناکر موت کے گھاٹ اتاردیا تھا،انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت گوجرانوالہ کے جج مشتاق گوندل نے 20 ستمبر 2011 کو کیس کافیصلہ سناتے ہوئے منیب اور مغیث کے قتل میں ملوث 7 افراد کو سزائے موت اور 6 افراد کو عمر قید کی سزاسنائی تھی جبکہ 5 افرادکوبری کردیا گیا تھا، سیالکوٹ کے سابق ڈی پی او وقارچوہان سمیت 9پولیس اہلکاروں کو بھی 3 سال قید کی سزاسنائی گئی تھی ، اپیل کنندگان کے وکیل نے عدالت سے مزید دلائل دینے کے لئے مہلت کی استدعا کی جس پر سماعت عدالت 2فروری تک ملتوی کردی گئی ۔

مزید :

صفحہ آخر -