روتے بِلبِلاتے بچے اور لاہور کا تعلیمی بورڈ

روتے بِلبِلاتے بچے اور لاہور کا تعلیمی بورڈ
روتے بِلبِلاتے بچے اور لاہور کا تعلیمی بورڈ

  


مشتاق احمد یوسفی نے لکھا ہے کہ بڑھاپے کی شادی اور بینک کی چوکیداری میں کوئی فرق نہیں۔ دونوں میں رات کے وقت ایک آنکھ کھلی رکھنا پڑتی ہے۔یہاں یہ وضاحت کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ اس بات کا بزرگوار عمران خان کی شادی سے کوئی تعلق نہیں۔ یوسفی صاحب کی اس بات سے مجھے خیال آیا کہ لاہور کے تعلیمی بورڈ کی چیئرمین شپ اس سے بھی زیادہ مشکل کام ہے۔ اس میں دن رات دونوں آنکھیں کھلی رکھنا پڑتی ہیں۔ حتیٰ کہ کان بھی کھلے رکھنا پڑتے ہیں۔ دروغ برگردن راوی کسی زمانے میں تعلیمی بورڈ، بیورو کریسی کے اعلیٰ افسروں کو ان کی ریٹائرمنٹ کے دنوں میں میٹرک کی ڈپلیکیٹ سند جاری کیا کرتے تھے ،جس میں ان کی تاریخ پیدائش میں ہیرپھیر کر دیا جاتا تھا، جس کے نتیجے میں ان کی نوکری میں از خود دو چار سال کی توسیع ہو جاتی تھی لیکن جب سے ہماری سیاسی حکومتوں نے ان اعلیٰ افسروں کو ریٹائرمنٹ کے بعد مختلف عہدوں پر تعینات کرنا شروع کیا ہے، تب سے کارِ خیر کا یہ سلسلہ بند ہو گیا ہے۔ ویسے بھی اب بورڈ کا سارا کام کمپیوٹرائزڈ ہو گیا ہے اس لئے ریکارڈ میں ہیرا پھیری مشکل ہی نہیں، ناممکن بھی ہو گئی ہے۔

ہمارے سارے تعلیمی بورڈ اب اخبارات اور ٹیلی ویژن چینلوں کی خبروں کا موضوع بنے رہتے ہیں، جس طرح الیکشن ہارنے والے سیاستدان، الیکشن کمیشن پر دھاندلی کا الزام لگاتے ہیں اسی طرح امتحان میں فیل ہونے والے امیدوار مارکنگ کے نظام پر نکتہ چینی کرتے ہیں اور احتجاج کے لئے سڑکوں پر نکل آتے ہیں۔

لاہور بورڈ کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر نصراللہ ورک شاید اسی لئے ابھی تک اپنے عہدے پر برقرار ہیں کہ وہ طلباء و طالبات کی بات سنتے ہیں، ان کے احتجاج پر کان دھرتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ

کچھ نہ کچھ ہوتا ہے جب خلقِ خدا بولتی ہے

بچے اگر مارکنگ کے نظام پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہیں تو درست ہی کرتے ہیں، کیونکہ ری چیکنگ کے نتیجے میں 58نمبر حاصل کرنے والوں کے 85 نمبر ہوجاتے ہیں اور 19نمبر حاصل کرنے والوں کے 91۔ اس کا مطلب ہے کہ کہیں نہ کہیں خرابی ضرور ہے جسے درست کرنے کی ضرورت ہے۔ مَیں خود بھی ہر سال بورڈ میں انٹر کی سطح پر ہیڈ ایگزامینر کے طور پر مارکنگ کرتا ہوں اس لئے سب ایگزامینرز کے عادلانہ اور ظالمانہ دونوں رویوں سے آگاہ ہوں۔ آج سے سولہ سال پہلے مَیں جب سب ایگزامینر تھا تو بعض سوالوں کے حاشیے میں ضرورت کے مطابق مختصر سا نوٹ لکھ دیا کرتا تھا۔ طالب علم اگر غیرضروری باتیں لکھ دیتا تو مَیں اس کے ایک کونے میں ’’غیر ضروری‘‘ لکھ دیتا۔ غیر متعلقہ بات ہوتی تو وہاں ’’غیر متعلقہ‘‘ کے الفاظ لکھ دیا کرتا تھا۔ میرے دوستوں نے پوچھا کہ ایسا کیوں کرتے ہو تو مَیں نے جواب دیا تھا: ’’اگر یہ پرچہ (خدانخواستہ) کسی عدالت میں چلا جائے تو یہ الفاظ دیکھ کر مجھے یاد آ جائے گا کہ مَیں نے کس چیز کے نمبر کاٹے ہیں‘‘۔ تب دوست میری بات سن کر مسکرا دیے اور سمجھ رہے تھے کہ مَیں وقت کا ضیاع کررہا ہوں، لیکن اب چونکہ طلباء و طالبات اور ان کے والدین مارکنگ کے سلسلے میں عدالت کے دروازے کھٹکھٹانے لگے ہیں تو بورڈ حکام نے فیصلہ کیا ہے کہ جہاں ضروری ہو ، وہاں سب ایگزامینر مختصر سا نوٹ لکھے تاکہ عدالت میں وضاحت کرنا آسان ہو۔

چند روز قبل لاہور بورڈ نے پنجاب بھر کے تعلیمی بورڈز کے مختلف مضامین کے سینئر ہیڈ ایگزامینر اور پیپر سیٹر ز کے لئے تربیتی ورک شاپس کا اہتمام کیا جس میں لاہور بورڈ کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر نصراللہ ورک کے علاوہ سیکرٹری لاہور بورڈ پروفیسر فقیر حسین کیفی اور کنٹرولر امتحانات جناب انور فاروق بھی شریک ہوئے۔ ورک صاحب نے یہاں اپنے خطاب میں ایک جملہ بہت دردمندی سے کہا کہ ہم لوگوں کو نااہل قرار دے دے کر تنگ آ گئے ہیں اب اپنے کام سے ناانصافی کرنے والوں کو خوفِ خدا کرنا چاہیے۔ ہم اگر طلباء و طالبات کے ساتھ انصاف کرتے ہیں تو دراصل حقوق العباد کے حکم کی تعمیل کرتے ہیں۔ انہوں نے نہایت شاندار بات کہی کہ پڑھانا پیغمبری پیشہ ہے، لیکن یاد رکھئے کہ پیغمبروں نے کبھی تنخواہ نہیں لی۔ ان کا یہ نکتہ بھی خاصا وزن رکھتا تھا کہ اساتذہ کو عزت خود سے کوئی نہیں دے گا، اس کے لئے خود انہی کو بہت کچھ کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب امتحانی نتائج آنے کے بعد بہت سے بچے ان کے سامنے آکر روتے ہیں۔ چیختے چلاتے ہیں اور بلبلاتے ہیں تو وہ چپ چاپ سنتے ہیں۔

مجھے لگ رہا تھا کہ ڈاکٹر نصراللہ ورک صاحب بچوں کا دکھ دیکھ کر تڑپ رہے ہیں اور وہ ہر حال میں انہیں انصاف فراہم کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے تمام بورڈوں کے چنیدہ ایگزامینرز کی تربیت کا آغاز کرکے بچوں اور والدین کے دکھ کو کم کرنے کے لئے پہلا قدم اٹھایا ہے۔ بورڈ کے سیکرٹری پروفیسر فقیر حسین کیفی نے انکشاف کیا کہ تعلیمی بورڈ کی ڈیوٹیوں کو لازمی سروس قرار دینے کے لئے کوششوں کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ اس کے لئے پنجاب اسمبلی میں ایک بل لانے کی تیاری ہو رہی ہے۔ بل کی منظوری کے بعد سکول یا کالج کا کوئی استاد بورڈ کی کسی ڈیوٹی سے انکار نہیں کر سکے گا۔

میرے خیال میں بورڈ کی مارکنگ پر اگر اعتراضات ہوتے ہیں تو اس کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ سکولوں کالجوں میں پڑھانے والے تجربہ کار اور اچھے استاد مارکنگ کے کام کو کارِ بے کار اور بے گار سمجھتے ہیں جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ مارکنگ کے دنوں میں، تازہ تازہ ماسٹر ڈگری حاصل کرنے والے لوگ پرائیویٹ کالجوں کی سفارش پر سرخ بال پوائنٹ لے کر بورڈ کے دفتر پہنچ جاتے ہیں، چنانچہ خطروں کے یہ کھلاڑی خوب قتل و غارت کرتے ہیں۔ سرکاری تعلیمی اداروں کے اساتذہ ذرا سنبھل کر مارکنگ کرتے ہیں۔ ان کے دل میں احتساب کا خوف بھی ہوتا ہے اور رسوائی کا ڈر بھی۔ سرکاری سکول یا کالج میں پڑھانے والا استاد اگر مارکنگ کے لئے نااہل ہو جائے تو یہ اس کے لئے ڈوب مرنے کا مقام ہوتا ہے۔ بورڈ کے سیکرٹری صاحب نے یہ بھی بتایا کہ آئندہ مارکنگ کا معاوضہ مارکنگ ختم ہونے کے 45دن کے اندر اندر ادا کر دیا جائے گا۔ یہاں مجھے تعلیمی بورڈ لاہور کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر نصراللہ ورک صاحب سے ایک گزارش کرنی ہے کہ سرکاری کالجز میں پڑھانے والے اساتذہ پہلے ہی مارکنگ کے لئے بہت کم آتے ہیں۔ اس پر ستم یہ ہے کہ پارٹ ون میں ہیڈ ایگزامینر بننے والے کو پارٹ ٹو میں ہیڈ ایگزامینر نہیں بنایا جاتا۔ اسے کہا جاتا ہے کہ وہ سب ایگزامینر کے طور پر کام کرے، جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ایک پارٹ میں ہیڈ ایگزامینر بننے والے لوگ دوسرے پارٹ کی مارکنگ چھوڑ کر گھر چلے جاتے ہیں۔ مجھے بتایا گیا ہے کہ ملتان بورڈ میں ایک ہی ہیڈ ایگزامینر پارٹ ون اور ٹو میں ہیڈ بنتا ہے۔ اگر لاہور میں بھی ایک بار یہ پریکٹس کرکے دیکھ لی جائے تو کیا مضائقہ ہے؟

آخر میں اتنا عرض کروں گا کہ اس تربیتی ورکشاپ میں شرکت کرکے مجھے احساس ہوا ہے کہ چیئرمین صاحب کی آنکھیں بھی کھلی ہیں اور کان بھی کیونکہ وہ روتے، بلبلاتے بچوں کو دیکھ بھی رہے اورسن بھی رہے ہیں۔

آخر میں اتنا عرض کروں گا کہ اس تربیتی ورکشاپ میں شرکت کرکے مجھے احساس ہوا ہے کہ چیئرمین صاحب کی آنکھیں بھی کھلی ہیں اور کان بھی کیونکہ وہ روتے، بلبلاتے بچوں کو دیکھ بھی رہے اورسن بھی رہے ہیں۔

 

مزید : کالم


loading...