امریکہ بھارت گٹھ جوڑ خطے کے امن کیلئے خطرہ ہے ،مذہبی و سیاسی رہنما

امریکہ بھارت گٹھ جوڑ خطے کے امن کیلئے خطرہ ہے ،مذہبی و سیاسی رہنما

  

لاہور( نمائندہ خصوصی )مذہبی و سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے بارک اوباما کی جانب سے بھارت کو سلامتی کونسل کا مستقل ممبر بنانے کے اعلان کی شدید مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ امریکہ بھارت گٹھ جوڑخطے کے امن کے لیے خطرہ ہے ، دفاعی معاہدے اورسلامتی کونسل میں بھارتی مستقل رُکنیت کیلئے امریکی حمایت خطے کے امن کو سبوتاژ کرنیکی کوشش ہے۔جماعت اسلامی کے ڈاکٹر فرید پراچہ ،ملی مجلس شرعی کے مفتی محمد خان قادری اور پروفیسر ڈاکٹر محمد امین نے اپنے رد عمل میں کہا ہے کہ امریکہ بھارت کو خطے کاتھانیداربناناچاہتاہے ، اوبامہ کا دورہ بھارت امریکی منافقت کاپردہ چاک کرنے کیلئے کافی ہے, بھارت کو جوہری توانائی دینے کے پیچھے جو مقاصد کارفرما ہیں وہ چین اور پاکستان کو دباؤ میں رکھنا چاہتا ہے۔ جمعیت علماء اسلام (س) کے مولانا سمیع الحق اور مولانا عبدالرب امجد قاری اعظم حسین نے کہا ہے کہ امریکی تاریخ یہ بات ثابت کرتی ہے کہ امریکی حکومت ہمیشہ اپنے اتحادیوں کے ساتھ وہی سلوک کرتی ہے جو ایک چوہدری اپنے ہی پالے ہوئے غنڈووں کے ساتھ کرتا ہے۔اشرف عاصمی ایڈووکیٹ نے کہا کہ پاکستان کا بچہ بچہ اپنے وطن کی ایک ایک انچ کی حفاظت کرنے کے لیے پاک فوج کے ساتھ ہے۔تحریک استقلال کے مرکزی صدر رحمت خان وردگ نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ امریکہ نے ہر معاملے میں پاکستان کی بجائے بھارت کو ترجیح دی ہے ،ہر وقت امریکی راگ الاپنے والے حکمرانوں کو اب سمجھ آجانی چاہیے ۔پاکستانی مشیرخارجہ اوبامہ کے دورہ بھارت کو خطے میں کشیدگی کم کرنے میں معاون قراردیکرقوم کوطفل تسلیاں دینے کی بجائے خطے میں طاقت کے توازن کو برقراررکھنے کیلئے نئی پالیسیاں بنائیں۔جماعۃ الدعوہ کے مولانا امیر حمزہ نے کہا کہ پاکستان میں بھارتی مداخلت ،دہشت گردوں کی سرپرستی اور بلوچستان میں شدت پسندوں کی حمایت پر بھی بھارتی حکومت سے جواب طلب کرتے لیکن اوبامہ کو ممبئی حملے کے ملزموں کی تو فکر ہے لیکن سمجھوتہ ایکسپریس کے منصوبہ سازوں کا کیوں پتہ نہیں؟امریکہ دوہرا معیار ترک کر کے کشمیریوں پر ہونے والے ظلم کو بند کروائے اور مسئلہ کشمیر کو کشمیر ی عوام کی امنگوں کے مطابق حل کرنے کے لیے بھارت پر زور ڈالے۔جماعت اہلحدیث کے حافظ عبدالوحید شاہد روپڑی نے بارک اوباما کی جانب سے بھارت کو سلامتی کونسل کا مستقل ممبر بنانے کے اعلان کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان سے نکلتے ہی امریکی پاکستان کے دُشمن کی گود میں جا بیٹھے ہیں۔مرکزی جماعت اہلسنت پاکستان کے رہنماؤں قاضی عبدالغفار قادری علامہ فاروق احمد ضیائی نے کہا کہ اگر بھارت سی ٹی بی ٹی معاہدے پر دستخط کرنے سے انکاری ہے تو پھر کس قانون کے تحت بھارت کو نیوکلیئر فیول کی فراہمی کر رہاہے ،بھارت کے دورے پر پاکستان کو نظر انداز کرنا سوچی سمجھی منصوبہ بندی ہے ،انہوں نے کہاکہ امریکہ پاکستان سے مسلسل امتیازی سلوک کررہاہے،1971 کی جنگ ہویاایٹم ٹیکنالوجی کامعاہدہ ،امریکہ نے ہرمعاملے میں پاکستان کو ٹشو پیپرکی حد تک اہمیت دی ہے ۔خطے میں بھارتی بالادستی قائم کرنے کا امریکی خواب کبھی پورانہیں ہونے دیں گے۔جماعت اہلسنت پاکستان کے مفتی ظفر جبار چشتی نے کہا کہ بھارت کو جوہری توانائی دینے کے پیچھے جو مقاصد کارفرما ہیں وہ چین اور پاکستان کو دباؤ میں رکھنا چاہتا ہے۔ نریندر مودی جس انداز میں بارک اوباما کے آگے بیچھا جارہا ہے اِس سے پتہ چلتا ہے کہ بھارت چین و پاکستان کے سٹریٹیجک تعلقات سے کتنا خوف زدہ ہے۔ پاکستان کو چین ایران روس اور افغانستان کے ساتھ بہت ہی اچھے تعلقات کے لیے کو شاں رہنا چاہیے۔ مذہبی و سیاسی ر ہنما

مزید :

صفحہ آخر -