بھارت کی طرف جھکاؤ سے سپر پاور کی دوغلی واضح ہو گئی ،سیاسی و عسکری ماہرین

بھارت کی طرف جھکاؤ سے سپر پاور کی دوغلی واضح ہو گئی ،سیاسی و عسکری ماہرین

  

 لاہور(جاوید اقبال+ محمد نواز سنگرا) امریکی صدر بار اوبامہ کے بھارت کے دورے میں دفاعی معاہدوں او ر نیشنل سیکیورٹی کونسل میں مستقل ممبر بننے میں حمایت سے خطے میں توازن بگڑ جائے گا۔امریکہ بھارت کی طرف جھکاؤ سے سپر پاور کی دوغلی پالیسی واضح ہو رہی ہے پاکستان کو اپنی خارجہ پالیسی تبدیل کرنے کیساتھ ساتھ دوستوں اور دشمنوں میں تمیز کرنے کی ضرورت ہے اور حکومت چین سمیت دیگر دوستوں سے تعلقات مضبوط کرے۔ان خیالات کا اظہار ملک کے سیاسی اور عسکری ماہرین نے ’’روز نامہ پاکستا ن‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل اور سابق گورنر لطیف کھوسہ نے کہا ہے کہ اگر ہماری آزادنہ اور خود مختار خارجہ پالیسی ہوتی تو آج ہمیں یہ دن نہ دیکھنا پڑتاجو ہمیں بھارت میں امریکی صدر کے دوسری مرتبہ دورہ کے دوران دیکھنے کو ملا ہے ہمارے حکمرانوں کے بھکاریوں والے رویے کیوجہ سے امریکہ نے خطے میں بھارت کو اپنا سٹرٹیجک پارٹنر بنا لیا ہے اور اس بھارت کی مستقل رکنیت سازی کی حمایت کی ہے جس کے متعلق اقوام متحدہ میں پہلے ہی ایک قرار داد منظور ہو چکی ہے کہ وہ کشمیر کامسئلہ اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے متعلق حل کرے۔ اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن)کے چئیر مین راجہ ظفر الحق نے کہا کہ امریکی صدر بارک ابامہ کے بھارت کیطرف جھکاؤ اور نیوکلئیرمعاہدوں سے خطے میں طاقت کا توازن بگڑ ہو جائے حکومت اس پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور پاکستان کبھی اپنے مفادات سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔مسلم لیگ(ق)کے مرکزی سیکرٹری اطلاعا ت سنیٹر کامل علی آغانے کہا کہ ہم امریکہ کے صف اول کے اتحادی ہیں مگر حکومت کی کمزور داخلہ اور خارجہ پالیسی کے باعث امریکہ کا بھارت کیطرف جھکاؤ بڑھ رہا ہے جو کہ پاکستان کیلئے خطر ناک ہے حکومت نام کی کوئی چیز ہو تو دنیائے عالم اس سے بات کرے ۔ایسے وقت میں جب امریکہ بھارت کی قربت میں جا رہا ہے تو پاکستان کو چین سمیت دیگر دوست ممالک سے تعلقات بہتر کرنے ہونگے۔اے این پی کے رہنما غلام احمد بلور نے کہا کہ امریکی دوغلی پالیسی کے خطے میں منفی اثرات مرتب ہونگے ۔امریکہ بھارت کو نواز کر خطے میں ایک غنڈے کا لائسنس دینا چاہتا ہے۔جماعت اسلامی کے سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ امریکہ اور بھارت میں بڑھتے ہوئے گٹھ جوڑ اور تعلقات سے حکومت کو ہوشیار رہنا ہو گا پاکستان کو خارجہ پالیسی کا از سر نو جائزہ لینا ہو گا تحریک انصاف کے رہنما عارف علوی نے کہا کہ امریکہ صدر کے بھارت میں یکطرفہ دورے پر تشویش ہے ایک طرف امریکہ بھارت سے دھڑا دھڑ دفاعی معاہدے کر رہا ہے اور دوسری طرف پاکستان کو لولی پاپ دے رہا ہے۔ایم کیو ایم کے مرکز ی رہنما فاروق ستار نے کہا کہ پاکستان کو امریکی رویے کو غور سے دیکھتے ہوئے بین الاقوامی سطح پر مضبوط تشخص کیلئے حکمت عملی تبدیل کر کے صرف امریکہ کی بجائے دنیا کے دیگر ممالک سے بھی رابط مضبوط کرنے چاہیں۔جنرل(ر)راحت لطیف نے کہا کہ بھارت کیساتھ دفاعی معاہدوں کے نیشنل سیکیورٹی کونسل کا ممبر بنانے میں حمایت کے اعلان سے واضح ہو گیا ہے کہ امریکہ ایشائی خطے میں بھارت کو ٹائیگر بنانا چاہتا ہے ۔نریندر مودی کو اوبامہ کی آشیر باد پاکستان کیلئے مشکلات کا باعث ہو سکتی ہے۔وائس ایڈمرل(ر)جاوید اقبال نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان معاملات میں امریکہ انڈیا کو سپورٹ کر رہا ہے اور مسئلہ کشمیر میں بھی امریکہ بھارت کی حمایت کرے گا،روس سمیت دیگر دوست ممالک سے تعلقات مضبوط بنانے ہوں گے۔ عسکری وسیاسی ماہرین

مزید :

صفحہ آخر -