وزیر اعظم کی سیاسی ،اقتصادی اور سیکیورٹی صورتحال پر قریبی رفقاءسے 8گھنٹے طویل مشاورت

وزیر اعظم کی سیاسی ،اقتصادی اور سیکیورٹی صورتحال پر قریبی رفقاءسے 8گھنٹے ...

                                اسلام آباد،مری(آئی این پی)وزیر اعظم نوا زشریف نے ملکی موجودہ سیاسی ‘ معاشی و اقتصادی اور دہشت گردی کیخلاف جاری جنگ سمیت سیکیورٹی کی صورتحال پر اپنے قریبی رفقاءسے 8 گھنٹے کی طویل مشاورت کی ہے‘ اس مشاورت میں وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف ‘ وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان ‘ وزیر خزانہ اسحاق ڈار شریک ہوئے۔ یہ طویل نشست مری میں وزیر اعظم میاں نوا زشریف کی رہائش گاہ پر ہوئی اور اس نشست کی تجویز و زیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے وزیر اعظم کو دی تھی۔ باخبر ذرا ئع کے مطابق وزیر اعظم نوا ز شریف نے ملک کی سیاسی صورتحال کے حوالے سے اہم مشاورت کی ہے جس میں اسحاق ڈار نے تحریک انصاف کی قیادت سے ہونے والے رابطوں اور جوڈیشل کمیشن کے قیام کیلئے حالیہ خط و کتابت کی تفصیلات بارے وزیر اعظم کو بریفنگ دی اور انہیں بتایا کہ حکومت کی طرف سے مجوزہ آرڈیننس کا آخری مسودہ گزشتہ روز تحریک انصاف کو بھجوایا گیا ہے جس میں تجویز دی ہے کہ عمران خان نے دھاندلی سے متعلق جو الزامات عائد کئے ہیں انہیں ریفرنس بنا لیتے ہیں اورایک دو لفظ اس میں نئے شامل کئے گئے ہیں جس میں ”بائی ڈیزائن“ (سازش) پر اگر عمرا ن خان رضا مند ہو جائیں تو جوڈیشل کمیشن فوری طو رپر قائم کر دیا جائیگا۔ ذرائع کے مطابق وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی نے شرکاءکو دہشت گردی کیخلاف جاری حالیہ اقدامات اور نیشنل ایکشن پلان پر اب تک ہونے والی پیش رفت سے آگاہ کیا او راس بات پر اطمینان کا اظہار کیا گیا کہ نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کی رفتار کافی حد تک تسلی بخش ہے تاہم اس میں مزید تیزی اور بہتری لائی جائیگی۔ ذرائع کے مطابق طویل مشاورت میں پٹرول اور بجلی کے حالیہ بحران سے پیدا صورتحال کا بھی تفصیلی جائزہ لیا گیا اور اس حوالے سے وزارت پانی و بجلی اور وزارت پٹرولیم کی کارکردگی خصوصی طو رپر زیر بحث رہی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم اور تینوں اہم شرکاءنے مارچ میں سینٹ کے انتخابات کے حوالے سے بھی صورتحال کا جائزہ لیا اور اس بات کو یقینی بنایا جائیگا کہ سینٹ میںمسلم لیگ (ن) 30 سے زائد نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے۔ مشاور ت میں پنجاب ‘ بلوچستان اور اسلام آباد سے سینٹ کی نشستوں کیلئے مختلف امیدوارو ں کے ناموں پر بھی غو رکیا گیا تاہم حتمی فیصلے فروری کے دوسرے ہفتے میں کئے جائیں گے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مشاورت میں وفاقی وزراءکی کارکردگی بھی زیر بحث رہی اور اس تجویز پر بھی غو رکیا گیا کہ 12 مارچ کو سینٹ کی 52 نشستوں پر انتخابی عمل مکمل ہونے کے بعد وفاقی کابینہ میں ردوبدل بھی کیا جائیگا اور غیر فعال اور متنازع بیان بازی کرنے والے و زراءکو کابینہ سے مستعفی ہونے کی ہدایت بھی دی جائے گی جبکہ5 نئے وفاقی و زراءاور 4 وزراءمملکت کو کابینہ میں شامل کرنے کی تجویز بھی زیر غور رہی۔

مزید : صفحہ اول


loading...