سینٹ کے آئندہ الیکشن، پنجاب سے پیپلزپارٹی فارغ!

سینٹ کے آئندہ الیکشن، پنجاب سے پیپلزپارٹی فارغ!
سینٹ کے آئندہ الیکشن، پنجاب سے پیپلزپارٹی فارغ!

  


تجزیہ چودھری خادم حسین

سینٹ میں خالی ہونے والی آدھی نشستوں کو پُر کرنے کے لئے الیکشن کمیشن نے شیڈول جاری کر دیا ہے اور سیاسی جماعتوں نے جوڑ تور شروع کر دیا ہے۔ بظاہر جو صورت حال ہے اس کے مطابق پیپلزپارٹی کو دوسری جماعتوں کی نسبت نقصان تو زیادہ ہوگا لیکن سینٹ میں واحد اکثریتی حیثیت برقرار رہ جائے گی کہ سندھ سے پارٹی کی نشستیں واپس مل جائیں گی کہ سندھ اسمبلی میں پیپلزپارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ کو کوئی فرق نہیں پڑا اور یہ دونوں جماعتیں اپنے اپنے کوٹے کے تناسب سے نشستیں حاصل کرلیں گی۔ سوال پنجاب کا ہے۔ یہاں پیپلزپارٹی کی اتنی نمائندگی نہیں کہ کوئی نشست جیت سکے۔ اگر ایک نشست حاصل کرنا ہے تو اسے مسلم لیگ (ق) اور تحریک انصاف کے ساتھ اتحاد بنانا ہوگا۔ اطلاع یہ ہے کہ پیپلزپارٹی پنجاب نے ایسی کوشش شروع کر دی ہے اس میں اسے کہاں تک کامیابی ہوتی ہے یہ تو وقت بائے گا، ویسے بھی پنجاب اسمبلی میں تحریک انصاف کے اراکین کا جی للچاتا ہے اور انہوں نے پارٹی کے چیئرمین سے استعفے واپس لینے کی اجازت مانگی ہے جو انہوں نے نہیں دی۔ عمران خان اپنے موقف پر قائم ہیں کہ متنازعہ اسمبلیوں میں نہیں جائیں گے۔ البتہ اگر جوڈیشل کمیشن بن جاتا ہے تو یہ فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔31جنوری کو کور کمیٹی کے اجلاس میںیہ فیصلہ ہوگا، اب پیپلزپارٹی کے لئے یہ آپشن باقی ہے کہ مسلم لیگ (ق) سے مل کر کوشش کی جائے، اس سلسلے میں چودھری برادران کی سابق صدر آصف علی زرداری سے ملاقات بھی کوئی کردار ادا کر سکتی ہے کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ مسلم لیگ(ن) بڑے آرام سے پنجاب والی نشستوں پر مجموعی طور پر فتح یاب ہو جائے گی۔

پیپلزپارٹی کا فیصلہ اپنی جگہ، تحریک انصاف کی حکمت عملی اور عمران خان کا فلسفہ سیاسی حکمت عملی سے باہر دکھائی دیتا ہے کہ خیبرپختونخوا کے سوا کسی اور صوبے سے سینٹ کے انتخابات میں حصہ نہیں لیا جائے گا، حالانکہ قومی اسمبلی میں اس کے اراکین کی معقول تعداد ہے اور پنجاب سے بھی ایک نشست حاصل ہونے کا امکان ہے لیکن عمران خان نہیں مانتے، اب یہ ان سب کا امتحان ہے۔

پیپلزپارٹی کے پنجاب سے ریٹائر ہونے والوں میں اہم سینیٹر جہانگیر بدر ہیںجو دو مرتبہ سینٹ کے رکن بنے اور قائد حزب اقتدار بھی رہے۔ وہ ٹکٹ ملنے پر جیتنے کے لئے جوڑ توڑ کرسکتے ہیں لیکن انہوں نے انتخاب میں حصہ نہ لینے کا حتمی فیصلہ کرلیا ہے وہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے پولیٹیکل سیکرٹری ہیں اور اب آزاد حیثیت سے سیاست میں اہم کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔

جہاں تک پاکستان پیپلزپارٹی کا سوال ہے تو پنجاب کے حوالے سے انگلیاں اٹھتی ہیں کہ پیپلزپارٹی کی اصل قوت پنجاب ہی تھا جو اس سے چھن چکا، اب پارٹی کو فعال کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ مخدوم شہاب الدین کی جگہ مخدوم احمد محمود جنوبی پنجاب کے صدر بن گئے۔ سنٹرل پنجاب کے صدر میاں منظور وٹو ہیں جو تمام تر دعوﺅں کے باوجود پارٹی کو فعال نہیں کر پائے، حتیٰ کہ بلاول بھٹو کی ہدایت کے مطابق روٹھوں کو بھی نہیں منا سکے، اس حوالے سے بلاول بھٹو کو بجا شکائت ہے، اب صدر میاں منظور وٹو نے اہمیت حاصل کرنے کے لئے ضمنی انتخاب میں کودنے کا فیصلہ کیا ہے۔ محترمہ بے نظیربھٹو شہید زندہ تھیں تو ان کی حکمت عملی واضح تھی کہ پیپلزپارٹی میدان خالی نہیں چھوڑے گی۔ نتیجہ خواہ کچھ ہو، یہاں گزشتہ کئی ضمنی انتخابات خالی چھوڑے گئے اب فیصلہ کیا ہے کہ حلقہ این اے 137ننکانہ سے رائے منصب علی کی وفات سے خالی والی نشست پر پیپلزپارٹی کا امیدوار ہوگا، مسلم لیگ(ن) رائے منصب کی صاحبزادی کو اشارہ دے چکی ہوئی ہے یوں واسطہ مرحوم کی صاحبزادی سے پڑے گا۔ ویسے بھی مسلم لیگ (ن) کے مقابلے میں پیپلزپارٹی کا امیدوار ہوگا اور معرکہ آرائی ہوگی۔ باراک اوباما کا دورہ بھارت، سپہ سالار کا چین جانا اور جنرل (ر) پرویز مشرف کی سعودی عرب جانے کی خواہش بھی اہم موضوع ہیں۔ ان پر لکھا جا رہاہے ہمارا انداز فکر ذرا مختلف ہے اس پر اگلے روز خیالات کا اظہار کریں گے کہ کئی امور تکمیل کے مراحل میں ہیں۔

مزید : تجزیہ


loading...