اقوام متحدہ کی مستقل رکنیت کی بھارتی خواہش ,پاک چین مخالف کے باعث ادھورا خواب

اقوام متحدہ کی مستقل رکنیت کی بھارتی خواہش ,پاک چین مخالف کے باعث ادھورا خواب ...

تجزیہ :شہباز اکمل جندران

                              امریکی صدر کے دورہ بھارت سے دنیا بھر میں ایک بار پھر سے پی فائیو کے بعد جی فور کی گونج سنائی دینے لگی ہے۔ باراک اوبامہ نے اقوام متحدہ کی مستقل رکنیت کے لیے بھارت کو اپنی غیر مشروط حمایت کا یقین دلاتے ہوئے رکنیت دلانے کے عزم کا اظہار تو کیا ہے کہ لیکن پاکستان اور چین کی مخالفت کے باعث اس منزل کا حصول بھارت کے لیے مشکل امر اور ” لالی پاپ “ سے زیادہ حیثیت نہی رکھتا۔24اکتوبر 1945کو اپنے پانچ مستقل ممبران امریکہ ، برطانیہ، سویت یونین ،فرانس اور عوامی جمہوریہ چین کے ہمراہ معرض وجود میں آنے والی اقوام متحدہ کے قیام کو 60برس بیتے تو 2005میں ہونے والے اجلاس میں مطالبہ کیا گیا کہ یو این او کے پانچ مستقل یا پانچ بڑوں کی تعداد میں اضافہ کیا جائے۔اور ان کی تعداد 5سے بڑھا کر 9کردی جائے۔اس سلسلے میں نئے 4ممالک بھارت ، جرمنی ،براذیل اور جاپان کو جی فور کا نام دیا گیا۔لیکن ان چاروں ممالک کی علاقائی اور اقتصادی سطح پر شدید مخالفت کے باعث اقوام متحدہ کے منشور میں ترمیم ممکن نہ ہوسکی۔ اٹلی اور سپین نے جرمنی کی مخالفت کی۔ میکسیکو ، کولمبیا اور ارجنٹائن نے براذیل کی مخالفت کی۔جبکہ امریکہ اور برطانیہ کی حمایت کے باوجود جنوبی کوریا اور چین مستقبل رکنیت پر جاپان کے مخالفت ہیں اور سمجھتے ہیں کہ دوسری جنگ عظیم دوئم میں اپنے جنگی جرائم کے موقف میں ترمیم لائے۔اسی طرح جہاں تک بھارت کی مستقبل رکنیت کی بات ہے تو پاکستان کے ساتھ ساتھ چین نے بھی بھارت کی مخالفت کی۔البتہ چین نے بھارت کو پیشکش دی کہ جاپان کی مخالفت کرنے پر چین بھارت کے حق میں ووٹ دے سکتا ہے۔جی فور وہ مملکتیں ہیں جو کئی عشروں سے سلامتی کونسل کی دوسالہ غیر مستقبل رکنیت کے لیے چنی جارہی ہیں۔گزشتہ 24تین عشروں کے دوران جاپان 5مرتبہ سلامتی کونسل کا غیر مستقل رکن چنا گیا ہے۔ اسی طرح براذیل 5مرتبہ ،جرمنی 4مرتبہ اور بھارت2مرتبہ سلامتی کونسل کا غیر مستقل رکن رہا۔یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ جی فور اپنے طورپر چاہتے ہیں کہ افریقہ کے دوملک مصر اور نائجیریا بھی سلامتی کونسل کے مستقل رکن بن سکیں۔لیکن جی فور کی طرف سے کئی فورمز پر یہ آواز اٹھائی جاچکی ہے۔ لیکن دوسری طرف افریقن یونین اور جنوبی افریقہ اس پر متفق نہیں ہیں۔اور اپنی اپنی سطح پر خود کو اس سیٹ کا حقدار ٹھہراتے ہیں۔21مارچ 2005کو اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کوفی عنان نے ایک منصوبہ پیش کیا جسے عنان منصوبے کا نام دیا گیا۔ کوفی عنان نے سلامتی کونسل کی نشستیں بڑھا کر 24کرنے کا منصوبہ پیش کیا ۔ اور اپنے منصوبے میں دو الگ الگ حل بھی دیئے ۔جنہیں پلان اے اور پلان بی کا نام دیا گیا۔ پلان اے کے تحت سلامتی کونسل میں مزید 6نئے مستقل ممبران اور تین نئے غیر مستقل ممبران چنے جائیں۔جبکہ پلان بی کے تحت آٹھ نئے ممبران کی ایک نئی کلاس متعارف کرائی جائے۔جو چار برس تک خدمات انجام دیں۔اور ان کے ساتھ ایک غیر مستقل ممبر بھی چنا جائے۔عنان منصوبے پر لمبی بحث کے باوجود یہ بے نتیجہ رہی۔ایک طرف بدلتی دنیا ور بڑھتی ہوئی آبادی کے علاوہ ٹوٹتی مملکتوں کی وجہ سے اقوام متحدہ کے مستقل ارکان کی تعداد میں اضافے یا نیم مستقل باڈی کے قیام پر شدت سے زور دیا جاریا ہے۔تو دوسری طرف کم وبیش دو عشروں سے ہونے والی بحث کے باوجود اقوام متحدہ کسی نتیجے پر نہیں پہنچ پارہی ۔موجودہ حالات میں امریکی صدر کی طرف سے بھارت کو سلامتی کونسل کی مستقل رکنیت کے معاملے میں حمایت کا اعلان محض ً لالی پاپ ً ہی قرار دیا جاسکتا ہے۔

مزید : تجزیہ


loading...