ایم کیو ایم نے وزیرعلیٰ ہاﺅس پر احتجاج نہیں حملہ کیا:قائم علی شاہ

ایم کیو ایم نے وزیرعلیٰ ہاﺅس پر احتجاج نہیں حملہ کیا:قائم علی شاہ
ایم کیو ایم نے وزیرعلیٰ ہاﺅس پر احتجاج نہیں حملہ کیا:قائم علی شاہ

  


کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک)وزیراعلیٰ قائم علی شاہ کی سندھ اسمبلی کے اجلاس میں تقریر پر ایم کیوایم کے اراکین نے احتجاج شروع کردیااور "شیم شیم "کے نعرے لگاتے رہے ۔آغا سراج دورانی کی زیرصدارت اجلاس جاری تھاکہ وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ نے اپنی تقریر میں ایم کیو ایم کے کارکن کے پولیس حراست میں قتل ہونے پر ایم کیو ایم کے وزیراعلیٰ ہاﺅس کے باہر احتجاج کو احتجاج نہیں حملہ قرار دینے پر ایم کیو ایم کے اراکین اپنی نشستوں سے اٹھ کر کھڑے ہو ئے اورہنگامہ آرائی شروع کر دی اور شیم شیم کے نعرے بلند کیے جس پر وزیراعلیٰ سندھ نے کہاکہ اگر انہیں بات نہیں کرنے دی گئی تو وہ کسی کو بھی بات نہیں کرنے دیں گے ۔

قائم علی شاہ نے کہا کہ ڈیڑھ سال پہلے تمام سیاسی جماعتوں ے کراچی میں آپریشن کا مطالبہ کیاتھا جس کے بعد وزیراعظم کراچی آئے جس کے بعد تحفظ پاکستان قانون بنایا گیا جس میں پولیس اور رینجرزکواختیارات دیے گئے ۔انہوں نے کہاکہ ان کی کوشش ہے کہ ہر صورت امن وامان کی صورتحال کو قائم کیا جائے اصل میں امن وامان کی ذمہ داری ہم سب کی ہے کسی ایک کی نہیں ہے ۔ان کا کہناتھا کہ ان کی انتظامی صلاحیتوں کی تعریف آرمی چیف نے بھی کیونکہ ان کے حکومت سنبھالنے کے بعد ٹارگٹ کلنگ میں واضح کمی آئی اور 90اغواءبرائے طاوان کے کیسز میں سے صرف تین باقی رہ گئے۔

قائم علی شاہ نے کہاکہ ایم کیو ایم کے کارکن کے قتل کے بعد ایم کیوایم نے وزیراعلیٰ ہاﺅس کا رات بارہ بجے گھیراﺅ کیا اور ان کے گلے پر چھری رکھ کر کہاکہ وہ ان سے ملنا چاہتے ہیں اور ایم کیوایم کے لوگ سیڑھیاں لگا کر تمام تر حفاظتی انتظامات کو توڑ دیا گیا ،یہ وزیراعلیٰ ہاﺅس سندھ پر احتجاج نہیں تھا بلکہ حملہ تھاجس پر ایم کیو ایم کے اراکین مشتعل ہو گئے اور احتجاج شروع کر دیا۔

انہوں نے کہاکہ ٹارگٹ کلنگ کرنے والوں کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا ان کیخلاف سخت کارروائی کی جائے گی اور امن وامان کی صورتحال پر کسی قسم کا بھی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

مزید : قومی /اہم خبریں


loading...