لاہور ہائی کورٹ :ہندو خواتین کو وراثت سے محروم رکھنے کے خلاف درخواست پر اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل کو نوٹس،ہندو برادری کے نمائندوں سے معاونت طلب 

لاہور ہائی کورٹ :ہندو خواتین کو وراثت سے محروم رکھنے کے خلاف درخواست پر ...
لاہور ہائی کورٹ :ہندو خواتین کو وراثت سے محروم رکھنے کے خلاف درخواست پر اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل کو نوٹس،ہندو برادری کے نمائندوں سے معاونت طلب 

  


لاہور(نامہ نگار خصوصی )لاہور ہائیکورٹ نے ہندو خواتین کو جائیداد کی وراثت سے محروم رکھنے کے قانون کے خلاف دائر درخواست پر وفاقی اور صوبائی وزارت قانون سے 3 ہفتوں میں جواب طلب کر لیا، عدالت نے پاکستان میں ہندو برادری کے نمائندوں اور آئینی ماہرین سے بھی معاونت طلب کرلی ۔ ہندو خاتون سونیا تلریجہ کی طرف سے دائراس درخواست کی سماعت کے دوران ریمارکس دیئے کہ قانون میں ترمیم کرنا پارلیمنٹ کا کام ہے ،عدالت کسی مذہب یا اقلیت کے ذاتی قانون میں کیسے مداخلت کرسکتی ہے ؟ ہندو برادری کے لوگوں چاہیے کہ وہ اس قانون میں ترمیم کے لئے قومی اسمبلی کا دروازہ کھٹکھٹائیں،اس پر درخواست گزار کے وکیل علی سبطین فضلی نے موقف اختیار کیا کہ بنیادی آئینی حقوق کی خلاف ورزی پر عدالت کسی بھی قانون میں مداخلت کرسکتی ہے اور حکومت کو قانون میں ترمیم کے لئے کہہ سکتی ہے ۔
اس پر فاضل جج نے کہا کہ عدالت ہندو برادری، آئینی ماہرین اور حکومت موقف سنے بغیر ہندو وراثتی ایکٹ میں مداخلت نہیں کرے گی۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ پاکستان میں ہندو وراثت ایکٹ 1929رائج ہے جو تقسیم ہند سے قبل کا بناہوا ہے، اس ایکٹ کے تحت ہندو بھائی کی موجودگی میں بہن کو وراثتی جائیداد میں حصہ نہیں دیا جاتا، بھارت نے 1956میں اس قانون میں ترمیم کر کے ہندو خواتین کو بھی وراثتی جائیداد میں حصہ دار بنایا مگر پاکستان میں ابھی تک 85برس پرانا قانون رائج ہے جوپاکستانی آئین سے متصادم ہے ،آئین کے تحت جنس کی بنیاد پر کسی سے امتیازی سلوک روا نہیں رکھا جاسکتا ،اسی طرح آرٹیکل 8 کے تحت تمام مرداور خواتین برابر ہیں ،دوران سماعت عدالت کو بتایا گیا کہ مسیحی برادری کے وراثت کے قانون کے خلاف بھی درخواست ہائیکورٹ میں زیر التواءہے جس پر عدالت نے رجسٹرار آفس کو ہدایت کی کہ دونوں درخواستوں کو یکجا کیا جائے ۔فاضل جج نے ہندو وارثتی ایکٹ کے خلاف دائردرخواست پر ایڈووکیٹ جنرل پنجاب، اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے وفاقی اور صوبائی وزارت قانون سے 3 ہفتوں میں جواب طلب کر لیا ۔

مزید : لاہور


loading...