انڈونیشین مفتی نے سیلفی کیخلاف فتویٰ دے دیا،اس کے بعد عوام نے کیا کیا ؟جانئے

انڈونیشین مفتی نے سیلفی کیخلاف فتویٰ دے دیا،اس کے بعد عوام نے کیا کیا ؟جانئے
انڈونیشین مفتی نے سیلفی کیخلاف فتویٰ دے دیا،اس کے بعد عوام نے کیا کیا ؟جانئے

  


جکارتہ (نیوز ڈیسک) آج کے دور میں سیلفی (موبائل فون سے اپنی تصویر خود بنانا) کا رواج بہت عام اور مقبول ہو چکا ہے اور جہاں ایک طرف نوجوان ڈھیروں سیلفی انٹرنیٹ پر بھیج رہے ہیں وہیں انڈونیشیا کے ایک عالم دین نے اس کے خلاف فتویٰ بھی جاری کر دیا ہے۔

وہ سوالات جو مر دوں کو خواتین سے کبھی نہیں پوچھنا چاہیے

فیلکس سیاﺅ نامی نوجوان عالم دین کو انڈونیشیا کے لوگ جدید خیالات کا مالک سمجھتے تھے مگر انہوں نے حال ہی میں اپنے ٹوئٹر اکاﺅنٹ پر ایک ٹویٹ میں فرمایا کہ سیلفی لینا گناہ ہے۔ انہوں نے مزید ٹویٹس میں وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ جب ہم سیلفی بناتے ہوئے مختلف پوز بناتے ہیں اور پھر اپنی ہی تصویر سے متاثر ہوتے ہیں تو یہ حالت غرور کہلاتی ہے۔ اگلی ٹویٹ میں سیاﺅ لکھتے ہیں کہ جب ہم ویوز، لائکس اور کمنٹ کے شوق میں سیلفی کو اپ لوڈ کرتے ہیں تو یہ عمل ریا کاری(دکھاوا) کہلائے گا۔ اس سے اگلی ٹویٹ میں وہ لکھتے ہیں کہ جب ہم اپنی سیلفی کو دیکھ کر دوسروں کی نسبت کول اور بہتر محسوس کرتے ہیں تو یہ عمل تکبر کہلائے گا۔

انہی وجوہات کی بناءپر انہوں نے سیلفی بنانا کار گناہ قرار دے دیا ہے۔ فیلکس سیاﺅ کا فتویٰ سامنے آتے ہی انڈونیشیا کے نوجوانوں نے فوری ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ جہاں پہلے کوئی کوئی سیلفی بناتا تھا وہاں اب ہر کوئی اپنی سیلفی بنا کر انٹرنیٹ پر بھیج رہا ہے اور سیاﺅ سے پوچھ رہا ہے کہ ان کے ذہن میں یہ خیال کیسے پیدا ہوا کہ سب لوگ دکھاوے، غرور اور تکبر کیلئے سیلفی بناتے ہیں۔ انڈونیشیائی نوجوان اور خصوصاً لڑکیاں ٹوئٹرہینڈل #Selfie4siauw کے ذریعے ہزاروں کی تعداد میں سیلفی بنا کر بھیج رہے ہیں اور ساتھ دلچسپ تبصرے بھی کر رہے ہیں۔

مزید : ڈیلی بائیٹس


loading...