دنیاکی دولت اورجان کی قیمت

دنیاکی دولت اورجان کی قیمت
دنیاکی دولت اورجان کی قیمت

  

سانحہ اے پی این پشاورہو،سانحہ باچاخان یونی ورسٹی ہویاپھر کسی بھی پبلک مقام پر ہونے والے دہشت گردانہ حملے۔ایسے حملوں سے پاکستانی قوم ایک لمبے عرصے سے نبرد آزما ہے ۔ قیام پاکستان کے بعد پاکستان کے استحکام کی پاکستانی اتنی قیمت دے چکے ہیں کہ شاید ہی کسی قوم نے دی ہو۔میں اتنی قربانیوں،سانحات اوردکھوں کے بعد قومیں اکثر دل چھوڑ بیٹھتی ہیں اور شکست سے دوچار ہوجاتی ہیں ۔لیکن پاکستانی قوم دنیا میں وہ واحد قوم ہے جو اس دہشت گردی کا شکار ہونے کے باوجود نہ صرف اپنے ملک سے بلکہ دوسرے اسلامی ممالک اور غیراسلامی ممالک سے بھی دہشت گردی کے عفریت کو ختم کرنے کی کوششوں میں مصروف عمل ہے ۔دہشت گرد عموماََایسے ٹارگٹ کو نشانہ بناتے ہیں جن سے قوم کو درد زیادہ ہو۔ایسا ہی سانحہ باچاخان یونی ورسٹی کا ہے ۔

دہشت گردی سے اس وقت پوری دنیا متاثر ہورہی ہے ۔لیکن جتنے بھی دہشت گردی کے واقعات ہورہے ہیں ان میں سے 90% کاشکارمسلمان ہی ہوتے ہیں ۔اور اس سے بھی عجیب بات یہ ہے کہ دہشت گرد اسلام کا نام اورلبادہ اوڑھ کرمسلمانوں کونشانہ بناتے ہیں ۔گویا کہ اسلام کو بدنام کرنے اور مسلمان کی نسل کشی کرنے کا ایک منظم منصوبہ دنیا میں وقوع پذیرہے ۔اے پی ایس پشاور کے سانحہ کے بعد پاکستان میں جس طرح سے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور پاکستان کے دفاعی اداروں نے ان دہشت گردوں کے خلاف ایکشن لیا اسے ترقی یافتہ ممالک تک میں سراہا گیا ۔سانحہ باچاخان یونی ورسٹی کے بعد ایک مخصوص لابی ’کہ جو ملک میں امن وامان قائم کرنے میں فوج اوردفاعی اداروں کے کردار کوسراہنا غداری سمجھتی ہے‘نے پروپیگنڈہ کرنا شروع کردیا اور فوج کی کامیابیوں پر سوال کرنے شروع کردئیے ۔عجیب تماشا ہے کہ دنیا پاک فوج کے کردارکو سراہتی ہے اور کچھ لوگ جواپنے آپ کو پاکستانی کہتے نہیں تھکتے پاک فوج کے کردارپر سوالات کرتے ہیں ۔ وزیراعظم اورآرمی چیف سعودی عرب وایران کے درمیان کامیاب ثالثی دورہ کرچکے تھے اوردونوں ممالک اس تنازعے کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی امید دے چکے تھے ۔ ورلڈمیڈیا میں پاکستان کے اس کردار کو نہ صرف پسند کیاجارہاتھا بلکہ سراہاجارہاتھا ۔باچاخان یونی ورسٹی پر حملہ کے بعد یہ صورت حال یکسر تبدیل ہوکر پاکستان میں دہشت گردی کی طرف مبذول ہوگئی اور سعودی وایرانی تنازعہ میں پاکستان کا ثالثی کردار پس منظر میں چلاگیا ۔

اس وقت جہاں ضرورت ہے ہمیں اپنی غلطیوں اورکوتاہیوں کو سدھارنے کی وہیں ہمیں شدیدضرورت ہے اپنے رویے درست کرنے کی ۔پاکستانی دفاعی اداروں کو دنیا کے مشکل ترین پراکسی جنگ لڑنی پڑ رہی ہے ۔کیا دہشت گردی کی کارروائیوں میں صرف پاکستانی عوام ہی نشانہ بن رہے ہیں ؟کیا صرف سویلین اداروں کو نشانہ بنایاجارہاہے ؟ کیا آج تک کوئی بھی فوجی یا پولیس کا اہلکا ر ان دہشت گردوں کی کارروائی میں شہید نہیں ہوا؟ اگر ان سب سوالا ت کے جوابات’’ نہیں ‘‘میں ہیں توخداراان مجاہدوں اوروطن کے محافظوں سے اظہارہمدردی بھی کیجئے ۔جان سے قیمتی کوئی دنیا کی دولت نہیں ہوتی ۔دنیاکا کوئی بجٹ ایک انسان کی قیمت ادانہیں کرسکتا۔تنقید برائے اصلاح کی جائے اور اس میں بھی ان اداروں کی قربانیوں کومدنظر رکھا جائے ۔

مزید :

کالم -