سی پی آئی ، ڈیووس اور فضول تنقید

سی پی آئی ، ڈیووس اور فضول تنقید
 سی پی آئی ، ڈیووس اور فضول تنقید

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے دنیا میں کرپشن کے حوالے سے رپورٹ جاری کر دی ہے ۔ اس رپورٹ میں دنیا کے تمام ممالک کے متعلق معلومات اور سروے کر کے کرپشن پر ان ممالک کی درجہ بندی کر دی گئی ۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل جرمنی کی تنظیم ہے جو ہر سال افریقن ڈویلپمنٹ بنک ، ورلڈ اکنامک فورم ، ورلڈ جسٹس پراجیکٹ ، فریڈم ہاؤس اور گلوبل ان سائٹ جیسے اداروں سے اعداد وشمار حاصل کرکے دنیا میں مختلف ممالک کے متعلق بدعنوانی اور شفافیت کے حوالے سے رپورٹ مرتب کرتی ہے ۔ یہ سلسلہ 1995ء سے جاری ہے ۔ چند روز قبل ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے جو رپورٹ جاری کی ہے اس کے مطابق پاکستان دنیا میں شفافیت کے حوالے سے 76ویں نمبر پر آ گیا ہے ۔ جب سے حکمران جماعت نے ملک کی باگ دوڑ سنبھالی ہے ۔ پاکستان کے بارے میں کرپشن کے حوالے سے بنا ہوا تاثر ختم ہو تا جا رہا ہے ۔ 2013ء میں پاکستان کے 28پوائنٹس تھے ۔ 2014ء میں ایک پوائنٹ کی بہتری سے پاکستان کا تاثر مزید بہتر ہوا ۔ 2015میں کرپشن انڈیکس میں پاکستان کا ایک پوائنٹ اور بڑھ گیا ااور گذشتہ سال انڈیکس میں 2پوائنٹ کے اضافے کے ساتھ پاکستان کی پوزیشن مزید بہتر ہو گئی ۔ اس وقت ہمارا ملک 32پوائنٹس کے ساتھ جنوبی ایشیا ء کے ممالک میں صف اول میں موجود ہے ۔

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال نے اس حوالے سے کہا ہے کہ پاکستان اب کرپٹ ترین ممالک کی فہرست سے باہر نکل گیا ہے ۔ کرپشن کا تاثر ختم ہونے سے ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کا پاکستان پر اعتماد بڑھے گا ۔ موجودہ حکومت نے وسائل کو درست سمت میں خرچ کر کے عقلمندی کا ثبوت دیا ہے ۔ اب جبکہ چین پاکستان میں سرمایہ کاری کر رہا ہے اور روس اور برطانیہ سمیت کئی دوسرے ممالک نے بھی سی پیک میں شمولیت کی خواہش کا اظہار کر دیا ہے ، سو پاکستا ن کا تاثر بہتر ہونے سے معیشت کو استحکام پہنچے گا ۔ چند سال قبل ہمارے ملک کے بارے میں دہشت گردی کے حوالے سے منفی طور پر سوچا جا تا تھا ۔ ٹیررازم کی بدولت ہمارا انفراسٹرکچر تباہ ہو گیا تھا اور غیر ملکی سرمایہ کار یہاں اپنا پیسہ لگانے سے کتراتے تھے لیکن اب صورتحال قدرے مختلف ہے ۔ ہمارا معاشی نظام بھی بہتری کی جانب رواں دواں ہے اور فوربز اور اکانومسٹ جیسے جریدوں نے ہماری معیشت کو بھارت کے مقابلے میں تیزی سے ترقی کرنے والی اکانومی قرار دیا ہے ۔

اب جبکہ ہم بدحالی کے گرداب سے باہر آچکے ہیں ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اپنے لوگ بھی اس بات کا ادراک کریں کہ موجودہ حکومت نے ایسے اقدامات ضرور کیے ہیں جن کی وجہ سے غیر ملکی تنظیمیں بھی پاکستان کی ترقی کی معترف ہیں ۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے ہاں اچھائی میں بھی تنقید کرنا بھلا تصور کیا جاتا ہے ۔ چند روز قبل جب وزیر اعظم نواز شریف کو سوئٹرزلینڈ کے شہر ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم کے اجلاس میں شرکت کے لیے مدعو کیا گیا تو چند سیاسی رہنماؤں نے یہ کہا کہ وزیر اعظم کو تو اجلاس میں بلایا ہی نہیں گیا تھا ۔ کچھ لوگوں نے یہ کہا کہ انہیں خطاب کرنے سے روک دیا گیا ۔ ایسا بالکل نہیں ہے ایسی باتوں کا مقصد ن لیگ کی سیاسی ساکھ کو متاثر کرنا ہے ۔ لیکن تنقید کرنے والوں کو شاید اس بات کا اندازہ نہیں کہ بلاوجہ الزام لگانے سے ہمارے ملک کو نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ۔ بے پایاں الزامات وتنقید جب اخبارات میں چھپتی ہے تو لوگ دنیا میں اپنے ملک کی حیثیت ، عزت اور توقر کے حوالے سے بے یقینی کا شکار ہو جاتے ہیں ۔ اب جبکہ ورلڈ اکنامک فورم کے میڈیا آپریشنز کے انچارج ین زوف نے اس بات کو واضح کر دیا کہ پاکستان دنیا کا چھٹا بڑا ملک ہونے کے ناتے نہایت اہم حیثیت رکھتا ہے اور ورلڈ اکنامک فورم اس بات میں خوشی محسوس کرتا ہے کہ اس نے نہایت قابل احترام وزیر اعظم پاکستان کو ڈیووس آنے کی دعوت دی ، تو پھر خوامخواہ دھول اُڑا کے اپنے ہی کپڑے گندے کرنے کا کوئی جواز نہیں ۔

ین زوف نے یہ بھی بتایا کہ پاکستان کے وزیر اعظم نے ڈیووس میں مختلف عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں اور ان کا یہ دورہ مفید رہا ۔ ہم جانتے ہیں کہ عدالت عظمیٰ میں ا س وقت پانامہ کیس کے حوالے سے روزانہ کی بنیاد پر عدالتی کاروائی جاری ہے ۔ حکومت کے مخالفین کو ابھی تک عدالت میں کامیابی حاصل نہیں ہوئی جس کا انہیں رنج ہے ۔ چنانچہ انہوں نے حکومت کے بارے میں عوام میں بننے والے مثبت تاثر کو نقصان پہنچانے کے لیے حکومت کے اچھے کاموں پر بھی تنقید شروع کر دی ہے ۔

مغربی ادارے غیر ملکی جریدے ، بین الاقوامی مبصرین سبھی ہمارے ملک میں حالیہ اقدامات کی تعریف کررہے ہیں ۔ مخالفت برائے مخالفت کی وجہ سے ہمارے اپنے لوگ اپنے ہی ملک کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں ۔ ہمیں سوچنا ہوگا کہ یہ کام کس کے ایماء پر کررہے ہیں ۔ ایک رپورٹ کے مطابق بھارت نے پاکستان میں بے یقینی کی فضاء پھیلانے کے لیے میڈیا کے چند اداروں میں انویسٹمنٹ کی ہے ۔ ایک اخبار کا وزیر اعظم پاکستان کے بارے میں یہ لکھنا تھا کہ انہیں تقریر سے روک دیا گیا ۔ انتہائی غیر ذمہ دار صحافت کا سیاہ صفحہ ہے جو کبھی بھی قابل تقلید نہیں ہو سکتا۔ صحافت ہو یا سیاست ہمیں دانشمندی کا ثبوت دینا ہو گا ۔

مزید : کالم