سات مسلمان ملکوں کے لئے امریکی ویزے کی پابندی

سات مسلمان ملکوں کے لئے امریکی ویزے کی پابندی

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے انتخابی وعدوں کی پاسداری شروع کر دی ہے اور سات مسلمان ممالک کے شہریوں پر امریکہ میں داخلے کے ویزے جاری کرنے پر عارضی طور پر پابندی عائد کر دی ہے۔ان ممالک میں شام، عراق، ایران، لبیا، صومالیہ، سوڈان اور یمن شامل ہیں۔ انہوں نے اس دن کو امریکہ کی قومی سلامتی کے لئے بڑا دن قرار دیا ہے جب امریکہ میں آنے والوں کیلئے کئی ماہ تک ویزوں کے اجرا پر پابندی لگائی گئی ہے۔ اسی طرح انہوں نے میکسیکو کی سرحد پر دیوار تعمیر کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔ سرحدی سیکیورٹی سخت کرنے کے احکامات جاری کردیئے گئے ہیں اس کے بعد رواں ہفتے کے دوران ہی مہاجرین پر توجہ مرکوز کی جائے گی جو امریکہ آنا چاہتے ہیں۔ اپنی انتخابی مہم کے دوران صدر ٹرمپ نے ابتدائی طور پر یہ اعلان کیا تھا کہ وہ تمام مسلمانوں کے امریکہ میں داخلے پر عارضی پابندی عائد کر دیں گے تاکہ کوئی جہادی ملک میں نہ آ سکے۔

امریکیوں کو تارکانِ وطن کی قوم کہا جاتا ہے، کروڑوں لوگوں نے اپنے اپنے ملکوں کو خیرباد کہہ کر امریکہ میں سکونت اختیار کر لی اور اسے ہی اپنا وطن بنا لیا۔ افریقی ملکوں سے غلاموں کے جہاز بھر بھر کر امریکی ساحلوں پر اتارے گئے جو اپنے سفید فام آقاؤں کی خدمت اور ان کی جاگیروں پر فصلیں اگاتے اور برداشت کرتے رہے۔ یہ سلسلہ صدیوں تک جاری رہا یہ غلام افریقی، بنیادی انسانی حقوق سے بھی محروم رہے لیکن طویل سیاسی جدوجہد کی بدولت اب ان افریقیوں کو بھی برابر کا امریکی شہری سمجھاجاتا ہے۔جس کے بعد یہ اعلیٰ ترین عہدوں پر فائز رہے یہاں تک کہ صدر اوباما کو پہلے سیاہ فام امریکی صدر کا اعزاز بھی حاصل ہوگیا۔ امریکی سرزمین پر غیر ملکیوں کو جس خوشدلی سے خوش آمدید کہا گیا شاید ہی دنیا کے کسی دوسرے ملک میں ایسا ہوا، غیر قانونی طور پر بھی امریکہ جانے والے کروڑوں غیر ملکی اب باعزت امریکی شہری ہیں ان میں سے بعض بہت نامور بھی ہوئے، کاروباری مواقع سے بھی فائدہ اٹھایا، ان کی اولادیں سیاسی عہدوں پر بھی فائز ہوئیں ان میں ریاستوں کے گورنر بھی شامل ہیں۔

نائن الیون کے بعد یہ تصور سامنے آیا کہ امیگریشن کی فراخدلانہ پالیسی پر نظرثانی ہونی چاہیے، تاکہ دہشت گرد امریکہ میں داخل نہ ہو سکیں چنانچہ ویزوں پر بعض پابندیاں لگائی گئیں اور ویزہ جاری کرنے سے پہلے کاغذات کی تصدیق کے عمل کا آغاز کیا گیا۔چنانچہ ویزے کے اجرا کی مدت اگرچہ بڑھ گئی تاہم جائز اور قانونی دستاویزات رکھنے والوں کو ویزے کے حصول میں کبھی زیادہ مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑا، غیر قانونی باشندوں کے امریکہ میں داخلے کو اگرچہ بہت مشکل بنا دیا گیا تاہم یہ سلسلہ مکمل طور پر نہیں رک سکا۔ خاص طور پر میکسیکو سے ہسپانوی باشندے تمام تر پابندیوں، خار دار تاروں اور سرحد پر تیز روشنی کے انتظام کے باوجود کسی نہ کسی طرح اب تک امریکہ میں آ رہے ہیں اور غیر قانونی طورپر ہی سہی وہاں رہ بھی رہے ہیں۔ تمام تر پابندیوں کے باوجود روزگار بھی حاصل کر لیتے ہیں ان کی تعداد لاکھوں میں ہے اور اب تک آمد کا سلسلہ پوری طرح رک نہیں سکا۔

اسی وجہ سے صدر ٹرمپ نے اس مسئلے کو اپنی انتخابی مہم کا موضوع بنایا اور اعلان کیا کہ وہ میکسیکو کی سرحد پر دیوار تعمیرکرائیں گے تاکہ غیر قانونی طورپر امریکہ آنے والوں کا راستہ روکا جا سکے، اب انہوں نے یہ دیوار بنانے کا ایگزیکٹو آرڈر بھی جاری کر دیا ہے۔ امریکی کھیتوں اور کھلیانوں میں زراعت اگرچہ مشینوں کے ذریعے کی جاتی ہے تاہم بہت سے کام ایسے ہیں جو کھیت مزدوروں کو ہی کرنے پڑتے ہیں ایک برس جب پابندیاں زیادہ سختی سے نافذ کی گئیں تو ہسپانوی مزدوروں کی آمد رک گئی، کہاجاتا ہے کہ وسیع پیمانے پر فصلیں اس لئے کھڑی کھڑی برباد ہو گئیں کہ انہیں برداشت کرنے اور سنبھالنے کے لئے مزدور دستیاب نہیں تھے مقامی مزدور یہ کام نہیں کرتے تھے چنانچہ حکومت کو ان مسائل سے آگاہ کیا گیا تو بعض پابندیاں نرم کی گئیں اور غیر قانونی طور پر امریکہ آنے والے ہسپانویوں سے صرف نظر کیا جانے لگا میکسیکو سے ملحقہ بعض امریکی شہروں میں تو ہسپانوی مزدور روزانہ کی بنیاد پر امریکہ آتے اور دن بھر مزدوری کے بعد شام کو واپس چلے جاتے ہیں اس لئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ دیوار کی تعمیر کے باوجود امریکہ کو ان کھیت مزدوروں کی ضرورت رہے گی اور امریکی حکومت ان کے لئے کوئی نہ کوئی راستہ بھی نکالنے پر مجبور ہو گی، یہ بھی عین ممکن ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ نئے مسائل سامنے آنے کے بعد صدر ٹرمپ کا جوش و جذبہ بھی ٹھنڈا پڑ جائے اور وہ زمینی حقائق کے سامنے اپنے جذباتی فیصلوں کو سرنگوں کر دیں۔

جن سات اسلامی ملکوں کے شہریوں کو ویزے کا اجراء عارضی طور پر روکا گیا ہے اس کی وجہ بظاہر یہ ہے کہ ان ملکوں کے حالات کی وجہ سے بڑی تعداد میں لوگ اپنے ملک چھوڑ کر جا رہے تھے۔ جن میں دہشت گرد بھی آسکتے تھے۔ اپنی حکومتوں اور جنگجو تنظیموں کے ستائے ہوئے ان لوگوں کے امریکہ میں داخلے کے لئے سابق صدر اوباما نے پابندیاں نرم کی تھیں اور شام کے حالات کی وجہ سے بڑی تعداد میں لوگوں نے امریکہ میں پناہ حاصل کی تھی۔ جرمنی نے بھی فراخدلانہ پالیسی اختیار کی اور لاکھوں لوگوں کو اپنے ملک میں آنے کی اجازت دی ان کے تتبع میں کئی دوسرے یورپی ملکوں کو بھی مہاجرین کے لئے اپنی سرحدیں کھولنی پڑیں تاہم یورپ میں اس پالیسی پر نکتہ چینی بھی ہوئی اور جرمنی کی چانسلر انجیلا مرکل کو اس کی قیمت اپنی ہردلعزیزی میں کمی کی صورت میں ادا کرنا پڑی تاہم وہ اپنے موقف پر ڈٹی رہیں اس وجہ سے گزشتہ دنوں صدر ٹرمپ نے ان پر نکتہ چینی بھی کی تھی اور لگے ہاتھوں نیٹو کو بھی کھری کھری سنا دی تھیں۔

امریکہ نے سات مسلمان ملکوں کے شہریوں پر جو پابندی عائد کی ہے وہ فی الحال تو عبوری مدت کے لئے ہے عین ممکن ہے بعد میں اس کو کچھ نرم کر دیا جائے اور دستاویزات کو تصدیق کے سخت مراحل سے گزار کر ویزوں کا اجرا کسی نہ کسی شرح کے حساب سے شروع کردیا جائے تاہم یہ امر تو یقینی ہے کہ اگر پابندی نرم نہیں بھی ہوگی تو بھی ویزوں کا اجرا کسی نہ کسی شکل میں جاری رہے گا۔ البتہ جو مہاجرین حالات کی سنگینی سے تنگ آکر ترکِ وطن کرتے ہیں ان کا تعلق شام سے ہو یا عراق سے، ایران سے ہو یا لیبیا سے ان کے لئے کوئی نہ کوئی راستہ بہرحال کھلا رکھنا پڑے گا بصورت دیگر انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں کو ہدفِ تنقید و ملامت بنایا جائے گا۔ ایسے لوگوں پر کلی پابندی اب بھی نہیں، تاہم اوباما دور کی فراخدلی کی امید اب صدر ٹرمپ سے نہیں کی جا سکتی۔ کیونکہ انہیں اپنے انتخابی وعدوں کا کچھ نہ کچھ پاس لحاظ بھی تو کرنا ہوگا پھریہ بھی ہے کہ امریکہ کے اندر پابندیوں کے حامی حلقے بھی موجود ہیں جنہیں مطمئن کرنا ضروری ہوگا۔

صدر ٹرمپ کا دور مسلمان تارکین وطن کے لئے ہی مشکل نہیں ہوگا بلکہ امریکی صحافیوں کے لئے بھی پہلے والی موجیں نہیں ہوں گی۔ پوری صدارتی مہم کے دوران امریکی میڈیا جس طرح ان کا مذاق اڑاتا رہا، بلکہ اب تک ایسا کر رہا ہے ان کو بھی جوابی طور پر تھوڑا بہت میوزک تو سننا پڑے گا۔ صدارتی تقریب حلف برداری کے موقع پر اور اس سے پہلے ٹرمپ مخالف مظاہروں کی کوریج پر دو صحافیوں پر فردِ جرم عائد کی گئی ہے۔ ان مظاہروں میں دو سو افراد گرفتار بھی ہوئے تھے جن پر شاید توڑ پھوڑ اور اشتعال کا الزام تھا ورنہ تو لاکھوں مظاہرین نے خواتین سمیت ان مظاہروں میں شرکت کی اور خود صدر ٹرمپ نے اسے آزادی اظہار رائے اور جمہوریت کا حسن قرار دیا، تاہم یہ دیکھنا ہوگا کہ جن صحافیوں پر مقدمہ درج کیا گیا ہے وہ کس مشکل سے دوچار ہوتے ہیں اگرانہیں سزا ہوئی تو اس سے یہ نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ ٹرمپ عہد صحافیوں کے لئے بھی آسان نہیں ہوگا۔ بہرحال اس وقت تو وہ متنازعہ امور پر ایگزیکٹو آرڈر کئے جا رہے ہیں، دیکھیں اس طرح وہ امریکہ کی خدمت کرتے ہیں یا اس کا سپرپاور کا امیج گہنا کے گھر کورخصت ہوتے ہیں چین پہلے ہی سپرپاور کی ذمہ داریاں سنبھانے کا اشارہ دے چکا ہے۔

خیبرپختونخوا میں پرائمری سے سیکنڈری تک مفت تعلیم

خیبرپختونخوا حکومت نے ایک قانونی مسودہ تیار کیا ہے۔ جس کے تحت صوبے کے تعلیمی اداروں میں پرائمری سے سیکنڈری تک تعلیم کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔ بچوں کو سکول نہ بھجوانے پر والدین اور ورثاء کو روزانہ ایک سو روپیہ جرمانہ جبکہ 30دن قید کی سزا دی جا سکے گی۔ والدین اپنے پانچ سال سے سولہ سال تک عمر کے بچوں کو سکول بھیجنے کے پابند ہوں گے۔ خیبرپختونخوا حکومت نے پرائمری سے سیکنڈری سکول تک تعلیم کی سہولت کو مفت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس فیصلے پر عملدرآمد کے لئے ’’مفت لازمی بنیادی اور ثانونی تعلیم‘‘ کے بل کا ایک مسودہ تیار کیا گیا ہے۔ یہ مسودہ جلد ہی ایوان میں منظوری کے لئے پیش کیا جائیگا۔قانون کی رو سے حکومت مفت تعلیم کا بندوبست کرنے کی مکمل طور پر پابند ہو گی جبکہ والدین اپنے بچوں کو سکول میں داخل کروانے کے ذمہ دار ہوں گے اور وہ تعلیم مکمل ہونے تک اپنے بچوں کو سکول سے انہیں اٹھوا سکیں گے۔

سکولوں میں بچوں کی شرح تعلیم میں اضافے کے لئے خیبر پختونخوا حکومت کی طرف سے ایک اچھا فیصلہ کیا گیا ہے۔ خیبرپختونخوا صوبے میں پسماندگی بہت زیادہ ہے۔ تعلیم حاصل کرنے والے طالب علموں کی تعداد بھی کم ہے۔ اس علاقے کے رواج کے مطابق بچوں کی بڑی تعداد مسجد مکتب اور مدرسے میں تعلیم حاصل کرنے کے لئے مجبور ہے۔ والدین اپنے مالی وسائل کم ہونے اور مدرسے میں قرآن پاک کی تعلیم دیئے جانے کے باعث سرکاری سکولوں میں بچوں کو بہت کم بھجواتے ہیں ویسے بھی تعلیمی سہولتیں کم ہیں۔ یہ بات حوصلہ افزا ہے کہ کے پی کے حکومت نے ایسے والدین کا بہت بڑا مسئلہ حل کر دیا ہے۔ پرائمری سے سیکنڈری سکول تک مفت تعلیم کی سہولت سے والدین اپنے بچوں کو ترجیحی بنیادوں پر داخل کروائیں گے جبکہ حکومت نے بچوں کو سکول میں داخل نہ کروانے پر والدین کے لئے جرمانے اور قید کی سزا دینے کے قانون کو بھی مسودہ قانون میں شامل کیا ہے۔ توقع کی جا سکتی ہے کہ خیبرپختونخوا میں پرائمری سے سیکنڈری سکول تک بچوں کے داخلے میں خاطر خواہ اضافہ ہو گا۔ صوبہ پنجاب میں بھی حکومت نے سکولوں میں مفت تعلیم کا منصوبہ شروع کیا تھا، جو بتدریج کامیابی سے جاری ہے۔ بچوں کو مفت کتابوں کی فراہمی کے علاوہ بعض سکولوں میں مفت دودھ بھی مہیا کیا جاتا ہے۔ اینٹوں کے بھٹوں پر کام کرنے والے بچوں کو سکول میں داخلہ لینے پر ماہانہ ایک ہزار وظیفہ بھی دیا جاتا ہے۔ خیبرپختونخوا میں یقیناًیہ منصوبہ شرح خواندگی میں اضافے کا سبب بنے گا۔ محکمہ تعلیم کو تمام سہولتیں مہیا کرنے کا بندوبست بروقت کرنا چاہئے۔

مزید : اداریہ