ملاوٹ،کینسر پھیل رہا ہے؟

ملاوٹ،کینسر پھیل رہا ہے؟
 ملاوٹ،کینسر پھیل رہا ہے؟

  

وہ بھی زمانہ تھا، جب برصغیر میں ٹی،بی(تپ دق) ایک جان لیوا مرض تھا، ان دنوں یہ کہا جاتا کہ جسے دق لگ جائے وہ بچتا نہیں، اس دور میں اس مرض کی وجہ خوراک کی کمی کہی جاتی تھی، پھر وہ وقت بھی آیا جب ٹائیفائیڈ کے حوالے سے ایسا ہی مشہورہوا ،تاہم زمانہ ترقی کرتا چلا گیا، ان امراض کے شافی علاج دریافت ہوئے اور اس بارے میں اطلاعات یا خبریں نہ ہونے کے برابر رہ گئیں، قیام پاکستان سے پہلے اور بعد تمام مسائل اور مصائب کے باوجود لوگوں کو خالص خوراک ملتی، زیادہ تر پیدل چلتے یا پھر سائیکل کی سواری ہوتی یوں لوگوں کی عمومی صحت بھی بہتر ہوتی تھی لیکن آج کے دور میں صورت حال میں غیر معمولی تبدیلی آچکی ہے، سائنس اور طبی سائنس نے مزید ترقی کرلی ہے، تاہم معاشرتی سطح پر ہمارے اپنے ہی لوگوں نے خود بیماریاں بانٹنے کا ٹھیکہ لے لیا، لالچ اور ہوس نے آنکھوں پر پٹی باندھ دی ہے، آج جس طرف سے سنو یہی پتہ چلتا ہے کہ فلاں ملاوٹ اور اس کی وجہ سے کینسر کا مرض لاحق ہو سکتا یا باعث بنتا ہے۔

جہاں تک کینسر کا تعلق ہے تو اس کا اب تک شافی علاج دریافت نہیں ہوا، صرف ابتدائی مراحل میں علم ہو جائے تو مہنگے علاج سے مرض پر قابو پایا جاتا اور مریض کی باقیماندہ زندگی کو ذرا بہتر بنالیا جاتا ہے، تاہم ایک بار یہ مرض لاحق ہو تو پھر جاتا نہیں ہے، دب جاتا اور پھر کبھی نہ کبھی لوٹ آتا ہے، کینسر بہت تکلیف دہ ہے اور جب اس کے آخری مراحل ہوتے ہیں تو مریض شدید تکلیف میں بھی مبتلا ہوتا ہے، اور لواحقین مکان سے برتن بیچنے تک مجبور ہو جاتے ہیں، جن کے پاس یہ آسرا نہیں ہوتا وہ تڑپ تڑپ کر زندگی گزارتے اور آخری سانسیں لیتے ہیں ، حتیٰ کہ مریض کے لئے ایک مرحلہ ایسا بھی آجاتا ہے، جب وہ خود اور تیمار دار اللہ سے رو رو کر موت کی بھیک مانگتے ہیں، حالانکہ اس وقت بھی بساط کے مطابق علاج کی کوشش جاری رہتی ہے، یہ مرض اتنا عام ہے کہ اس کے علاج کے لئے علاج گاہیں بھی کم پڑ گئی ہیں۔

دکھ اور افسوس یہ ہے کہ اس موذی مرض کی تشہیر کے باوجود یہ فانی انسان سمجھ نہیں رہا اور لالچ و ہوس کے مارے دن رات اس مرض کے اسباب بانٹنے میں مصروف ہے، ابھی گزشتہ ہفتے گوجرانوالہ میں ایک فیکٹری پکڑی گئی جہاں برائلر مرغیوں کی غلاظت یا باقیات سے تیل بنایا جارہا تھا جو بازار میں کھانے کے تیل کے طورپر فروخت ہوتا، دیہات میں باقاعدہ تیل کے طور پر خریدا جاتا اور شہروں میں چپس اور سموسوں والے دوکان دار اس تیل میں تل کر یہ سب بیچتے، ابھی گئے منگل کو عدالت عظمیٰ نے از خود نوٹس کی سماعت کے دوران ملک بھر کے تمام یوٹیلٹی سٹوروں پر کھانے کے تیل کی فروخت تاحکم ثانی بند کر دی ہے، اس سلسلے میں ناقص تیل کی رپورٹ موصول ہوئی تھی، اب ذرا غور کریں تو کیسی کیسی ملاوٹ ہوتی ہے اور یہ سب بالآخر کینسر کے مرض کا سبب بنتی ہے، برائلر مرغیوں کی خوراک، دودھ میں ملاوٹ، مصالحوں اور ناقص ترین گھی کی فروخت اور پان کے گٹکا جیسی اشیاء کھلے عام فروخت ہوتی اور اس موذی مرض کے پھیلانے کا سبب بنتی ہیں، پھر یہ بھی عام ہے کہ ماحول،پانی اور خوراک کے باعث ہیپاٹائٹس( سی) بھی پھیلتا جارہا ہے جو بالآخر جگر کے کینسر کا باعث بنتا ہے، پھر خوش خوراکی بھی جاری ہے اور پیدل چلنا ، ورزش قریباً ختم ہوگئی اور اس کی وجہ سے بھی امراض خصوصاً ذیابیطس کا مرض بڑھ گیا ہے، جو گردوں کے فیل ہونے کا سبب بن جاتا ہے۔

اب تو ہر روز خوراک سے ادویات تک میں جان لیوا ملاوٹ کی خبریں موصول ہوتی رہتی ہیں، ہسپتالوں میں جانے سے اندازہ ہوتا ہے کہ مختلف اقسام کے کینسر زدہ مریض روز بروز بڑھتے چلے جارہے ہیں اور مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے سامنے علاج گاہیں اور ماہر ڈاکٹر وں کی شدید کمی ہے، لاہور میں شوکت خانم کی تعمیر کے بعد پشاور میں بھی تعمیر ہو چکا اور اب کراچی میں زیر تعمیر ہے، جبکہ میو ہسپتال سمیت بعض سرکاری ہسپتالوں میں بھی اونکالوجی کے شعبے موجود ہیں جہاں علاج ہوتا ہے لیکن ان شعبوں میں آنے والے مریضوں کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ ڈاکٹر اور عملہ شدید طور پر جھنجھلا بھی جاتے ہیں، جہاں تک شوکت خانم کا تعلق ہے تو وہاں ہونے والے جدید ٹیسٹ بازار کی نسبت بہتر اور سستے ہیں پھر بھی عام آدمی کی بساط سے باہر ہوتے ہیں ، جبکہ یہاں ہر ایک کا مفت علاج نہیں ہو پاتا اس کے لئے ایک طریق کار ہے، اور وہ زکوٰۃ فنڈ ہے، ہسپتال میں اس مقصد کے لئے دفتر موجود ہے، جہاں مریض فارم بھر کر اپنی استطاعت کا ذکر کرتا اور تحقیق کے بعد زکوٰۃ فنڈ سے علاج کی غرض سے مقررہ رقم مختص کی جاتی ہے، اس کے باوجود یہاں مریضوں کی بہتات رہتی ہے، کہ لوگ سب کچھ بیچ باچ کر بھی علاج کراتے ہیں۔

اب یہ امربار بار ثابت ہو رہا ہے کہ خوراک کی مختلف اقسام میں خطر ناک ملاوٹ، ماحول کی خرابی اور حالات اثر انداز ہو رہے ہیں، اس سلسلے میں محکمہ فوڈ کی طرف سے ایسے بے ضمیر حضرات کے خلاف کریک ڈاؤن اب شروع کیا گیا ہے جب یہ مرض انتہا کو چھو رہا ہے ، ماحولیات کے ماہرین اور طب کے ریسرچ سکالریہی بتا رہے ہیں کہ کس شے میں کیا ملاوٹ ہو رہی اور اس سے کون سے امراض جنم لیتے ہیں ، ان سب میں کینسر پہلے درجہ پر ہے اور مریضوں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے، سرکاری شعبہ( فوڈ اتھارٹی) نے حال ہی میں کارروائی شروع کی ہے تو نئے نئے انکشافات بھی ہو رہے ہیں اور پاکستان کے شہریوں کو علم ہوتا جاتا ہے کہ کس کس طرح ان کو اندھے کنوئیں میں دھکیلا جارہا ہے، اور اس میں کیسے کیسے ’’لوگ‘‘ ملوث ہیں، اور سرکاری شعبوں کے حضرات اپنے فرائض بھی درست طور پر انجام نہیں دے رہے، حکومت وقت کی بھی اس طرف پوری توجہ نہیں حالانکہ تقاضہ یہ ہے کہ اس برائی کا خاتمہ کرنے میں تمام تر قوت صرف کی جائے کہ صحت بہتر ہوگی تو ہسپتالوں کی بھی کمی نہیں محسوس ہوگی۔

قارئین! پھر عرض کردیں کہ کینسر پھیل رہا اور یہ مرض جان لیوا تو ہے، قریباً لاعلاج بھی ہے اور جنتا علاج ہے وہ بہت مہنگا ہے، مفاد پرست اپنا فائدہ دیکھ رہے ہیں جبکہ فار ماسوئیٹیکل کمپنیاں اپنے منافع کے لئے مرض کی اصل وجہ اور علاج کے حوالے سے تحقیق سے گریز کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں،ضروری ہے کہ یہ رحجان تبدیل کئے جائیں، علاج سب کا ہو اور احتیاطی تدابیر بھی سب کے لئے ہوں، جہاں تک ملٹی نیشنل بلکہ انٹر نیشنل ادویات ساز اور تحقیقی اداروں کا تعلق ہے تو اللہ پاک سے دعا ہے کہ یہ سب ازخود سمجھ جائیں اور مرض کے پھیلاؤ اور اس کے تدارک کی تحقیق سکے مراحل جلد مکمل کریں اور بچاؤ کے علاوہ علاج بھی دریافت کر کے اسے سستا کریں۔

مزید : کالم