ڈاکٹر بصیرہ عنبرین کا نیا ادبی کارنامہ، ’’گنجینۂ غالب‘‘

ڈاکٹر بصیرہ عنبرین کا نیا ادبی کارنامہ، ’’گنجینۂ غالب‘‘
 ڈاکٹر بصیرہ عنبرین کا نیا ادبی کارنامہ، ’’گنجینۂ غالب‘‘

مرزا اسد اللہ خاں غالب اردو کے عظیم کلاسیکی شاعر تھے۔ ان کی عظمت کی بہت بڑی دلیل یہ ہے کہ انہیں دنیا سے رخصت ہوئے تقریباً ڈیڑھ صدی کا زمانہ گزر گیا ہے لیکن ان کینثری اور شعری تخلیقات کی تفہیم و تحلیل کا سفر آج بھی جاری ہے۔ علمائے ادب نے ایک طرف ان کی زندگی کے بہت سارے گوشے تحقیق و تنقید کے ذریعے بے نقاب کئے ہیں تو دوسری طرف ان کی تحریروں کی فنی اور فکری جمالیات کو بھی خُوب اُجاگر کیا ہے۔ ان مباحث کے مطالعہ سے بھی قاری کو عجب لطف و انبساط حاصل ہوتاہے۔ ایسے فاضل نقادوں کی طویل قطار میں ایک نیا نام محترمہ ڈاکٹر بصیرہ عنبرین کا ہے۔ ان کی ایک تازہ تنقیدی کاوش ’’گنجینۂ غالب‘‘منظر عام پر آئی ہے جسے ہم غالب شناسی کے ذیل میں ایک بہت اچھا اضافہ قرار دے سکتے ہیں۔

ڈاکٹر بصیرہ عنبرین شعبہ اُردو اورئینٹل کالج پنجاب یونیورسٹی میں ایسوسی ایٹ پروفیسر ہیں۔ تدریس کے علاوہ ان کی علمی تگ و تاز کا دوسرا میدان تنقید اور تحقیق ہے۔ ادب فہمی کی طرف ان کا فطری رجحان ہے اسی باعث وہ ایم اے اردو میں طلائی تمغے کی مستحق قرار پائی تھیں۔ اردو کے علاوہ انہوں نے فارسی زبان و ادب میں بھی ایم اے کا امتحان دیا تو اس میں انہیں دوسری پوزیشن حاصل ہوئی۔ فارسی ادب کے ذوق نے انہیں اردو فن پاروں کے مطالعہ میں بدرجہ اتم مدد دی۔ خاص طور سے انہوں نے غالب اور اقبال کے حوالے سے جو مطالعات پیش کئے ہیں وہ ان کی فارسی شناسی کی بہت بڑی دلیل ہیں۔ اقبالؒ پر ان کا کام تضمینات کے حوالے سے تھا، جو اہل علم کی توجہ کا مرکز بنا۔ حال ہی میں انہوں نے ’’گنجینۂ غالب‘‘ کی صورت میں غالب کا فنی مطالعہ پیش کیا ہے۔یہ کتاب دارالنوادر لاہور سے شائع ہوئی ہے اور تین سو صفحات پر مشتمل ہے۔طباعت و اشاعت کا معیار قابل ستائش ہے، البتہ قیمت کا عدم اندراج کھٹکتا ہے۔ ممکن ہے اس کے پیچھے پبلشر کے مالی مفادات ہوں۔ لاہور کے دو چار اور بھی ایسے ادارے ہیں جو دینی اور اخلاقی تعلیمات پر مبنی کتابیں چھاپتے ہیں لیکن ان پر قیمت درج نہیں کرتے، اور انہیں پوچھنے والا بھی کوئی نہیں ہے۔ ظاہر بات ہے کتاب پر قیمت درج نہ کرنے کا مقصد ٹیکس بچانا ہوتا ہے۔ صرف اسی پر بس نہیں، بلکہ ٹیکس بچانے کا ایک حربہ یہ بھی ہوتا ہے کہ ایک ہی مالک اپنی کتابوں پر مختلف اداروں کے نام درج کر دیتا ہے۔ ’’گنجینۂ غالب‘‘ چھ ابواب پر مشتمل ہے، عنوانات ملاحظہ ہوں: غالب کا تلمیحی شعور، ترکیبات غالب، غالب کا اندازِ تضمین، کلام غالب کے تضمینی اثرات۔ اور محاسنِ کلام غالب۔

غالب ایسے بڑے شاعر کا فنی مطالعہ بلا شبہ غیر معمولی ریاضت مانگتا ہے۔ جب تک نقاد زبان و بیان پر پوری قدرت نہ رکھتا ہو وہ فن کے مختلف پہلوؤں پر اظہار خیال نہیں کر سکتا۔ غالب نے اپنے کلام کی آرائش و زیبائش کے لئے تلمیحات بھی برتی ہیں، تراکیب کو بھی وسیلہ بنایا ہے اور تشبیہات و استعارات سے بھی کام لیا ہے۔ تضمینات کے ضمن میں تو انہوں نے کلاسیکی فارسی شعراء سے بھی خوب استفادہ کیا ہے۔ ڈاکٹر بصیرہ عنبرین نے اظہار کے ان سارے وسائل کا بہت تفصیل کے ساتھ جائزہ لیا ہے۔ قدم قدم پر غالب کی فنکارانہ ہنرمندی کی داد دی ہے اورتو صیفی کلمات میں تنوع پیدا کیا ہے۔ ورنہ غالب کا تو ہر شعر داد طلب ہے۔ اس معاملے میں تحسینی کلمات میں تکرار کا امکان رہتا ہے۔ ڈاکٹر صاحبہ نے اس حوالے سے غیر معمولی علمی لیاقت کا مظاہرہ کیا ہے۔ اسی خوبی نے ان کے اسلوب بیان کو ترفع بخشا ہے۔ مزید یہ کہ انہوں نے غالب کے فنی شعور کی گہرائی واضح کرنے کے لئے استدلال کا راستہ اختیار کیا ہے۔ چنانچہ قاری بڑی سہولت سے ان کے نقطہ ء نظر سے اتفاق کر لیتا ہے۔

کالم میں اتنی گنجائش نہیں کہ ہم غالب کی تشبیہات، تراکیب اور تلمیحات وغیرہ پر ڈاکٹر صاحبہ کے توضیحی، توصیفی اور تنقیدی اظہارات کو متعدد اقتباسات کے ساتھ واضح کریں، البتہ صرف ایک اقتباس پیش کرتے ہیں، اس سے ہمارے قاری کو ان کے فنی شعور کا خوب اندازہ ہو جائے گا۔ اس اقتباس میں انہوں نے تراکیب کو موضوع بنایا ہے۔ لکھتی ہیں: ’’غالب نے دو اسموں کے درمیان یا آغاز میں صفت مبہم کے ساتھ بھی مرکبات بنائے، مثلاً دل ہر قطرہ، رشتہء ہر شمع، دامِ ہر موج، کفِ ہر خاکِ گلشن، ہمہ نا اُمیدی، ہمہ بدگمانی وغیرہ یا پھر کبھی وہ حروف شدت کے ساتھ اضافی ترکیب بنا کر فارسی انداز میں مرکبات صفت بناتے ہیں: جیسے ز ہے موسمِ گل، زبس جلوہ نما، واحسرتا، ہیچ مدانی، یک قدم، یک عربدہ میداں، یک الف بیش، یک نظر بیش، بیش از یک نفس، باوجودِ یک جہاں، یک قطرۂ خوں، یک بیاباں،یک مرتبہ، سرمایہء یک عالم، (ہر) یک تارِ بستر، یک جہاں، یک مشتِ خاک، عاجزِ عرضِ یک افغاں، یک کفِ خس، یک قدم، یک نفس، یک قلم وغیرہ۔ مزید برآں غالب کی صفتی ترکیبات فارسی طریق جمع کے تحت بھی نمود کرتی ہیں۔ اس سلسلے میں وہ معروف طریقے یعنی اسماء اور صفات کے مابین ’ہا‘ (ترکیبی صورت میں ہائے) کا استعمال کرتے ہیں جس سے کوئی صفت نمایاں تر ہو جاتی ہے‘‘۔ (آگے ڈاکٹر صاحبہ ایسی بہت سی تراکیب کی مثالیں پیش کرتی ہیں۔(ص:117)

اہل ذوق لفظ اور خیال کے رشتے کو جانتے ہی ہیں، وضاحت کیا کی جائے۔ فن پارے میں ترفع تبھی پیدا ہوتا ہے جب فنکار لفظ کو خیال کے عین مطابق استعمال کرتا ہے۔ ڈاکٹر صاحبہ کو ہم بہت اچھے غالب شناسوں میں اس لئے شمار کر سکتے ہیں کیونکہ انہوں نے کلام غالب میں لفظ اور خیال کے رشتے کو بہت گہرائی میں جا کر نمایاں کیا ہے۔ یہ مقام بہت کم نقادوں کو نصیب ہوتا ہے۔ آخر میں ہم شعبہ اردو کے صدر جناب پروفیسر ڈاکٹر محمد فخر الحق نوری کے دیباچے کی اختتامی سطور پیش کرتے ہیں جن میں ایک اعتبار سے ڈاکٹر بصیرہ عنبرین کو ایک قابل قدر علمی کام سرانجام دینے پر شاباش دی گئی ہے۔وہ لکھتے ہیں: ’’بحیثیت مجموعی میں نے گنجینہء غالب کے مطالعے سے بہت حظ اٹھایا ہے اور مجھے یقین ہے کہ غالب کے طرف دار اور ’سخن فہم‘ دونوں طرح کے قارئین میری ہی طرح اس کتاب کا کھلے دل سے استقبال کریں گے اور اس کا مطالعہ کرکے لطف اندوز ہوں گے۔ میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ڈاکٹر بصیرہ عنبرین کی علمی و ادبی فتوحات میں مزید اضافہ فرمائے‘‘۔ (ص:15)

مزید : کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...