قیامت آ گئی کیا؟

قیامت آ گئی کیا؟
قیامت آ گئی کیا؟

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

 صحافت کی چمک دمک اور میڈیا کے مرچ مصالحے۔۔۔اوپر سے چند تجزیہ نگاروں کی نہ تھمنے والی تعبیری ہاؤ ہو اور دلیلی ہماہمی۔مکر سے لبریز اور فریب سے معمور استدلال،استخراج اور استنباط۔ اسداللہ خان ان کادعوی اور دلیل قیامت ہے!سرما کی ٹھٹھرتی مگر کھلتی رت میں ادھر ملتان میٹرو کا فیتہ کاٹا گیا اور ادھر ناقدین و معترضین کا سوتا فتنہ انگڑائی لے کر جاگ اٹھا۔جنوبی پنجاب کے محروم لوگوں کا نصیبا کیا جاگا،کچھ جعلی اور جھوٹے دانشوروں کے من اور آنگن میں قیامت گھر کر گئی۔اوروں کو تو چھوڑئیے۔۔۔اٹھتے بیٹھتے اور سوتے جاگتے جنوبی پنجاب کی محرومیوں کاماتم کرنے اور رونا رونے والے بھی اب صف دشمناں میں کھڑے ہیں۔ ملتان میٹرو کاافتتاح،انٹر نیشنل ٹرانسپیرنسی کی رپورٹ کہ پاکستان میں کرپشن کم ہوئی یا پھرنواز شریف کا نکتہ کہ کچھ لوگ لا علاج ہوتے ہیں۔بھائی فی الحال بھول جایئے ان باتوں اور حقیقتوں کو ۔الزام ودشنام کی چلی ہوئی آندھیوں اور نفرت و تعصب کی چڑھی ہوئی کمانوں کے خالقوں کو بھلا اس سے کیا واسطہ؟ان کی پر شور پروپیگنڈا کی وہ مشعل جو اول روز سے جل رہی ہے۔۔۔بس اک اس سے سروکار ہے انہیں۔کسان و ترکھان اور مستری مزدور جب نئی بنی سڑک یا ٹرانسپورٹ پر اپنے کھردرے پاؤں دھرتا ہے۔۔۔تو وہ طرز کہن پر اڑے لوگوں کے سینے پر مونگ دلتا ہے۔زرعی زمانے سے صنعتی عہد اور صنعتی سے انفارمیشن کا دور۔۔۔انسان اور کائنات کا قالب کچھ ایسے تبدل اور اتھل پتھل سے دوچار ہوا کہ شاید و باید۔پر ادھر ہماری دھرتی پر کچھ سفید بالوں والے نابا لغ دانشور بالکل نہیں بدلے۔ ہسپتالوں کی حالت زار و زبوں کی حقیقت تسلیم اور صاف پانی کی عدم فراہمی کی بات بھی بجا اور روا۔یہ کیا بقیہ دوسرے تعمیر و ارتقا یا فوزو فلاح کے منصوبوں کی بساط لپیٹ دی جائے۔دید اور شنید کہ جنوبی کوریا کی تعمیر کردہ موٹر وے پر بھی اک ایسا ہی حشر اٹھایا گیا تھا۔صور اسرافیل تک پھونکا گیا کہ قیامت بپا ہو جائے۔جاننا اور ماننا چاہئے کہ انسان کو دوا دارو اور مسیحائی کی حاجت بوقت ضرورت ہی ہوتی ہے لیکن سفر اسے اکثر درپیش ہو اکئے۔سفر ،سڑک اور ٹرانسپورٹ کا جنم جنم کا رشتہ رہا ہے،انہی رشتوں کے بندھنوں میں بندھے قبائل و ملل کے مقدر میںآسودگی و خوشحالی ہوتی ہے بابا۔ فرض کرواگرایک اور کائنات تخلیق کی جائے۔۔۔اس کا خالق سورج کو روشنی کی ردا اور چاند کو نور کی قبا پہنائے تو گماں گزرتا ہے کہ مجنوں چیخ اٹھیں۔را طوطے کی طرح ٹیں ٹیں کریں کہ ہائے وائے پہلے میر تقی میر پیدا کیا ہوتا کہ چاند چہرہ ایسے لوگوں کی تعریف و تحسین بیاں ہو۔کم ازکم نظیر اکبر آبادی ہی بنایا ہوتا کہ مرثیہ کی گرم بازاری کا ہنگامہ لگا رہے۔پھولوں کو مہک اور تتلیوں کو رنگ کا پیرہن پہنانے پر اک اودھم مچتی کہ نہیں نہیں پہلے صحرا اور کوہسارتخلیق کئے ہوتے کہ صوفیوں کو بہت پسند ہیں اور ان کا مسکن ہیں۔واللہ تاروں کو چمک کا لہجہ اور کلیوں کو چٹک کی آواز عطا ہوتی تو تب کیا ہوتا۔سمندروں کو وسعت کاتخت اور فلک کو رفعت کا تاج پہنانے پر ٹی وی کے ٹکروں اور اخباروں کی نکڑوں پر کیاکیا ہرزہ سرائی ہوتی۔نہیں خبر کہ زمین کو زرخیزی کی نعمت اور دریاؤں کو بہاؤ کا حسن اورپانی کو روانی ملتی تو شاعرآوارہ کے کلام کا حسن کیسا ہوتا۔سب سے بڑھ کر اگر باشعوروں اور بالغ نظروں کو صدق و کذب چھانٹنے کے اوصاف کی عنایت ہوتی تو پھر کیا ہوتا!قیاس چاہتا ہے کہ پھر تو قیامت سے پہلے قیامت ہی آگئی ہوتی۔ قیامت تو خیر جب آئے گی تب آئے گی ۔البتہ اگر ایسا ہوتا تو ٹی وی کی سکرینیں چیختی چلاتیں او ر دوسرے دن کے اخبارات ملفوظات سے پٹے پڑے ہوتے۔آپ کو کچھ قیاس بھی ہے کہ کیا لکھا ہوتا؟لکھنے والے لکھتے اور چھاپنے والے چھاپتے بھائی۔۔۔۔ دہائی خدادی!نوازشریف کے دور میں زمین کے چوڑے چکلے سینے پر ایک سلوٹ بھی باقی نہ رہی تھی۔اس کی غلط پالیسیوں کی بدولت سمندرو جنگل،کھائی و پہاڑ،دریا و صحرا غرض زمین کا ہر نشیب مٹ اور فراز ختم ہو چکا تھا۔دور تک بس اک چٹیل میدان تھا اوراوپرآگ اگلتاآسمان۔ایک دوسرا صحافی لکھتاکہ نواز شریف کے دور میں تو آسماں کارنگ نیلا نہ تھا،لال انگارہ تھا۔لوہا تھا کہ آسمانوں پر مثل سحاب تیرتا پھرتا تھا۔ایک تیسرا اپنی نکتہ آفرینیوں کے جوہر دکھاتاکہ نواز شریف کے دور میں ایسی طوائف الملوکی پھیلی تھی کہ حشر کے دن کا گماں ہوتا تھا۔ان گنت لوگ بھاگتے دوڑتے،گرتے پڑتے بس چلے جاتے تھے۔لوگ ایک دوسرے کو کوستے ،گالیاں دیتے ،لڑتے جھگڑتے اور آپس میں گتھم گتھا اور جوتم پیزار تھے۔ایک اوراٹھتا اوروہ سب سے بازی لے جانے کے چکر میں لکھتاکہ شریف برادران تو دنیا میں ایسے جیے جیسے انہیں مرنا نہ تھا۔جب مرے تو ایسے ہو گئے گویا کبھی جاتی امرا میں بسے نہ تھے۔تب عالم برزخ سے کوئی جون ایلیا پوچھتا۔۔۔قیامت آرہی تھی،آگئی کیا؟کہنے والا کہتا نہیں بھائی! ابھی عام انتخابات میں تھوڑی دیر ہے۔

مزید : کالم