چیمبر سے چادر تک

چیمبر سے چادر تک
 چیمبر سے چادر تک

سندھ اسمبلی میں اراکین کے سوالوں کے جواب دینے کی کارروائی 20جنوری کے اجلاس میں جاری تھی۔ امداد علی پتافی جواب دے رہے تھے۔ وہ صوبائی وزیر برائے ورکس و کمیونیکیشن ہیں۔ نصرت سحر عباسی کے سوال کا جواب انگریزی زبان میں لکھا ہوا تھا۔ نصرت بضد تھیں کہ انگریزی زبان میں جو جواب محکمہ نے بھیجا ہے، اسے انگریزی میں ہی پڑھ کر سنایا جائے۔ امداد پتافی حیل و حجت سے کام لے رہے تھے۔ اسی دوران امداد نے کہا کہ آپ میرے چیمبر میں آجائیں تو جواب سمجھا دیتا ہوں۔ ان کے اس جواب پر کئی اراکین اسمبلی کے چہروں پر معنی خیز مسکراہٹ تھی۔ وزیراعلیٰ بھی اسمبلی میں موجود تھے۔ ٹی وی چینل پر وہ بھی اس جواب سے محظوظ ہوتے ہوئے دکھائی دئے۔ اسی اسمبلی کے ماضی کے ایک اجلاس میں پیپلز پارٹی والوں نے جو اس وقت حزب اختلاف میں تھے ، ایک رکن کی جانب سے شازیہ مری کو پرچی بھیجنے پر واویلا کیا تھا۔ ارباب غلام رحیم وزیر اعلی تھے۔ انہوں نے رکن کی سرزنش کرنے کی بجائے یہ کہا تھا کہ خواتین اراکین براستہ بیوٹی پارلر اسمبلی کے اجلاس میں کیوں آتی ہیں؟ نصرت نے چیمبر میں آنے کے جواب پر سخت اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ اپنی ماں اور بہنوں کو چیمبر میں بلاؤ۔

امداد کا تعلق پاکستان پیپلز پارٹی سے ہے۔ نصرت فنکشنل لیگ کی رکن ہیں۔ اسمبلی میں شور ہوتا رہا ۔ ڈپٹی اسپیکر شہلا رضا اجلاس کی صدارت کررہی تھیں۔ وہ اپنے تئیں کوشش کرتی رہیں کہ نصرت کے غصے کو ٹھنڈا کر سکیں، لیکن اسمبلی کے بھرے اجلاس میں اراکین کی موجودگی میں چیمبر میں آنے کی دعوت ہی اس انداز میں دی گئی تھی جس پر کوئی بھی خاتون برہم ہوئے بغیر نہیں رہ سکتی تھی۔ نصرت اسمبلی کے ان اراکین میں شمار ہوتی ہیں جو دلچسپی کے ساتھ اجلاس میں تیاری کر کے شریک ہوتے ہیں، بلکہ یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ وہ تنہاخاتون رکن ہیں جو اجلاس میں ہوم ورک کر کے شریک ہوتی ہیں۔ سیاسی مسائل پر ان کا ذہن صاف ہے۔ وہ لگی لپٹی رکھے بغیر اپنے موقف کا اظہار کرتی ہیں۔ وہ ہمیشہ پیپلز پارٹی کے طرز حکمرانی سے برگشتہ رہتی ہیں۔ نصرت بانو سحر عباسی شادی شدہ ہیں۔ وہ وکالت کے پیشے سے وابستہ ہیں۔ ضلع خیر پور میں ان کا سسرال ہے۔ ان کے شوہر بھی وکیل ہیں۔ وہ تین بچوں کی ماں ہیں۔ ان کے سسر بھی جنرل ضیاء الحق کے دور میں سیاست میں سرگرم تھے۔ نصرت کی جانب سے شدید غصے کا اظہار لازمی امر تھا۔اسی ہنگامہ آرائی کے دوران اجلاس ملتوی کر دیا گیا۔ پیپلز پارٹی کی اسمبلی میں بھاری اکثریت ہے۔ کسی شریک کار کے بغیر وہ حکومت کر رہی ہے۔ امداد بھی اس کے ایک رکن ہیں۔ وہ ٹنڈو اللہ یار ضلع سے منتخب ہوئے تھے۔ ان کا تعلق نچلے درجے کے متوسط گھرانے سے ہے۔ ان کے والد محترم حکومت سندھ میں محکمہ صحت میں ملازم تھے۔ 2008ء کے انتخابات میں امداد کو ناکامی ہوئی تھی۔

امداد کے جواب پر بلاول،آصفہ اور بختاور نے جب سخت رد عمل کا اظہار کیا اور امداد کو اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کرنے کے لئے کہا تو پیپلز پارٹی کے اراکین کو ہوش آیا۔ وزیراعلیٰ سمیت وہ تمام اراکین جو امداد پتافی کے جواب پر پہلے خاموشی اختیار کئے ہوئے تھے۔ پارٹی کی قیادت کی جانب سے رد عمل پر سب نے ہی بیانات دے کر صف میں کھڑے ہونے کی کوشش کی۔ امداد نے بھی جب معاملے کی سنگینی کا احساس کیا تو معافی مانگنے نصرت کے گھر تک جانے کا اظہار کیا۔وہ کہتے رہے کہ غلطی ہو گئی۔بہر حال وہ غلطی دانستہ تھی۔ انہوں نے خاتون رکن کو شعوری طور پر نشانہ بنایا تھا۔ جب وہ نصرت کو چیمبر آنے کی دعوت دے رہے تھے تو ان کے پیچھے کی نشست پر بیٹھے ہوئے ایک اور رکن اسمبلی تیمور تالپور جس طرح کے اشارے کر رہے تھے، وہ اس ذہن کی عکاسی تھی جو زمیندار خاندانوں کے لوگوں نے عام لوگوں کے ساتھ، اختیار کیا ہوا ہے۔ ویسے تیموربیرون ملک سے تعلیم یافتہ ہیں، لیکن لندن میں حاصل کی گئی تعلیم نے بھی ان پر وہ اثر نہیں کیا جو تعلیم یافتہ لوگوں پر ہونا چاہئے ۔ امداد تو بظاہر بی اے پاس ہیں ۔ خوشحالی کی طرف گامزن گھرانے نے ان پر بھی اثرات مرتب نہیں کئے۔ اسمبلی میں جس کی کارروائی ٹی وی چینلوں پر بھی دکھائی جارہی تھی اس میں جب یہ لوگ اس طرح کی حرکتیں کر سکتے ہیں تو یہ اپنے حلقوں میں اپنے غریب ووٹروں کے ساتھ کیا رویہ اختیار کرتے ہوں گے؟ اس کے بارے میں صرف سوچا ہی جا سکتا ہے۔

سندھ اسمبلی میں زمینداروں اور کاشتکاروں کی بھاری اکثریت ہے۔ اس اکثریت میں جدی پشتی سیاست کرنے والے لوگ بھی شامل ہیں۔ یہ لوگ سیاست اور اسمبلی کی نشست کو بھی وراثت تصور کرتے ہیں۔ در اصل جب یہ سمجھ لیا جائے کہ سیاست کے ذریعہ حاصل ہونے والی نشست وراثت ہے اور عام لوگوں کو ہانکنا ہی ان کا کام ہے تو سمجھ لینا چاہئے کہ ان لوگوں کا ذہن کچھ اس طرح بنا ہوا ہے۔کہ ان کی ذہن سازی نہیں ہو سکتی ہے۔ ایسا ذہن ہی اکثر مسائل کی جڑ ہے۔ چند ماہ قبل ضلع نوشہرو فیروز میں ایک زمیندار کی گاڑی سے گدھا گاڑی لگ گئی تو انہوں نے بھرے بازار میں گدھا گاڑی والے کو مجبور کیا تھا کہ وہ اپنے منہ سے ان کا جوتا اٹھائے۔ غریب گدھا گاڑی والے کو ایسا کرنا پڑا تھا کیوں کہ محمد بخش مبیجو کا شمار علاقے کے بڑے زمینداروں میں ہوتا ہے اور پھر وہ پیپلز پارٹی کے تحصیل صدر بھی ہیں۔ ان کے مرحوم والد قلندر بخش سخی زمیندار قرار دئے جاتے تھے۔ اس واقعہ کی خبر جب سوشل میڈیا سے ہوتی ہوئی ذرائع ابلاغ پر آئی تو ضلعی انتظامیہ اور پولیس حرکت میں آئی۔ پولیس نے کارروائی ’’ ڈالنے ‘‘ کے لئے ایف آئی آر درج کر لی ۔ محمد بخش کو حوالات میں رہنا پڑا۔ ان کے لوگوں نے گدھا گاڑی والے ایاز میمن اور سہیل میمن سے معافی تلافی کے لئے رابطہ کیا۔ انہیں کہا گیا کہ اسی علاقے میں رہنا ہے ، غلطی معاف کردینا بہتر ہوگا۔ محمد بخش کے بعض لوگوں نے گدھا گاڑی والے کو یہ پیشکش بھی کی کہ اگر آپ کو تسلی ہو تو ہم بھرے بازار میں آپ کا جوتا اپنے منہ سے اٹھانے پر تیار ہیں۔ غریب لوگ کیا مقابلہ کر سکتے ہیں۔ معاف کرنے میں ہی ان کی عافیت تھی۔ انتظامیہ، پولیس، وکیل، کوئی بھی تو غریبوں کا ساتھ دینے پر آمادہ نہیں ہوتا ہے۔

بلاول،آصفہ اور بختاور کے رد عمل کے بعد امدادپتافی نے معافی تلافی کی ڈھیروں کوشش کی۔ امداد کے لئے معافی اس لئے بھی مانگنا ضروری تھی کہ ان کی وزارت داؤ پر لگ گئی تھی۔ ورکس اینڈ کمیونیکیشن کی وزارت مالی لحاظ سے اہم وزارت قرار دی جاتی ہے۔اُدھر دوسرے اجلاس میں شریک ہونے کے لئے جب نصرت پہنچیں تو وہ اپنے ساتھ پیٹرول لے کر آئیں اور انہوں نے اعلان کیا کہ اگر امداد کی رکنیت ختم نہیں کی گئی تو وہ خود سوزی کر لیں گی‘‘۔ ان کے اس اعلان نے امداد کے ہی نہیں سب کے ہاتھ پاؤں پھُلا دئے۔ امداد کے پاس بھرے اجلاس میں معافی مانگنے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔ کسی نے انہیں مشورہ دیا کہ نصرت کی نشست پر جاکر ان کے سر پر دوپٹہ ڈال دیں ۔ کسی خاتون رکن سے دوپٹہ مانگ کر انہوں نے ایسا ہی کیا۔ رواج ہے کہ کسی بھی بڑی سے بڑی غلطی پر مخالف کے گھر پر اپنی بچیوں کو بھیج دیا جائے تو معافی مل جاتی ہے، کسی بھی غلطی پر عورت کے سر پر چادر ڈال دی جائے یا دوپٹہ پہنا دیا جائے تو معاف کردینا پڑتا ہے۔ نصرت کو بھی رواج کے سامنے سرنگوں ہونا پڑا اور انہوں نے ’’ چادر کے صدقے میں ‘‘ امداد کو معاف کر دیا ۔ امداد کو نصرت کی جانب سے تو معافی مل گئی ،اب قیادت کیا فیصلہ کرتی ہے، اس کا امداد کو انتظار ہے ۔ اس تماش گاہ میں ایسا ہی ہوتا رہتا ہے۔ دانستہ غلطیاں کرنے کے باوجود لوگ معافیاں حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ دراصل کمزور لوگوں کو قانون کوئی سہارا دینے میں ناکام رہتا ہے، اسی لئے ان کے پاس معاف کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں رہتا۔ معاشرہ، اور مملکت کے ادارے خاطر خواہ تحفظ دینے میں ناکام رہتے ہیں اسی لئے لوگ معاف کرنا تو معمولی بات ہے، اپنی زندگی سے بھی کھیل جاتے ہیں۔

مزید : کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...