تعصب کا ایک اور شکار ، جرمن فٹبال کلب کا مسلمان کھلاڑی سے معاہدہ ختم

تعصب کا ایک اور شکار ، جرمن فٹبال کلب کا مسلمان کھلاڑی سے معاہدہ ختم

 برلن (اے این این)جرمنی کی فٹ بال لیگ میں کھیلنے والے تیونس کے کھلاڑی انیس بن ہاتیرہ کا ایک مسلم خیراتی ادارے سے تعلق کی بنا پر ان کے فٹبال کلب ڈرم سٹاٹ سے معاہدہ ختم ہو گیا ہے۔انصار انٹرنیشنل نامی خیراتی ادارے سے تعلق کی وجہ سے انیس بن ہاتیرہ کو جرمنی میں تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ انصار انٹرنیشنل کا مبینہ طور پر سلفی فقہ سے تعلق ہے اور وہ شام، افغانستان، صومالیہ اور فلسطین میں فلاحی کام کرتی ہے۔واضح رہے کہ جرمنی میں سیاستدانوں نے بھی انصار انٹرنیشنل کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ڈرم سٹاٹ کلب ریاست ہیسن میں واقع ہے جہاں کے وزیرِ داخلہ پیٹر بیؤتھ نے منگل کو کہاکہ آپ ایسے کسی کھلاڑی کو کھیلنے کی اجازت نہیں دے سکتے جو اس قسم کی شدت پسند تنظیموں کے قریب ہے اور وہ تنظیمیں جو کہ جرمنی کی سیکورٹی حکام کی نظر میں ہیں۔'ڈرم سٹاٹ کلب کے صدر نے بھی انیس بن ہاتیرہ کا انصار انٹرنیشنل سے تعلق کو غلط قرار دیا۔ 'ہم انیس بن ہاتیرہ کے مستقبل کے لیے دعا گو ہیں اور امید کرتے ہیں کہ وہ کامیابیاں سمیٹیں۔ ان کو رویہ ہمیشہ بہت عمدہ تھا۔ لیکن اب کلب کے ساتھ ان کے مزید تعلقات نہیں چل سکتے۔ہفتے کے روز ڈرم سٹاٹ کے شائقین نے ایک بینر دکھایا جس میں انیس بن ہاتیرہ کو انصار انٹرنیشنل سے دور ہونے کی اپیل کی گئی تھی۔برلن میں پیدا ہونے والے انیس بن ہاتیرہ نے فیس بک پر کہا کہ شائقین کا یہ عمل ان کے خلاف ایک مہم کا حصہ ہے۔انھوں نے انصار انٹرنیشنل کے ساتھ اپنے تعلق کا دفاع کیا اور کہا کہ کوئی بھی دیکھ سکتا ہے کہ میں سماجی خدمات میں آگے آگے ہوتا ہوں اور لوگوں کے بیچ کسی تفریق کے بغیر ان کے حق کے لیے لڑتا ہوں بھلے وہ کسی بھی رنگت، ذات یا مذہب سے تعلق رکھتے ہوں۔

انھوں نے مزید کہا کہ وہ اس مہم سے ڈرنے والے نہیں ہیں۔

مزید : کھیل اور کھلاڑی

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...