پاک چین اقتصادی راہداری سے پورے خطہ میں اقتصادی استحکام آئے گا :خرم دستگیر

پاک چین اقتصادی راہداری سے پورے خطہ میں اقتصادی استحکام آئے گا :خرم دستگیر

اسلام آباد (اے پی پی) وفاقی وزیر تجارت خرم دستگیر خان نے کہا ہے کہ پاکستان میں جمہوری اداروں کی مضبوطی سے دہشت گردی پر مؤثر طور پر قابو پایا گیا جس کی وجہ سے پاکستان کے مختلف اداروں میں اصلاحات لانے کے سا تھ ساتھ اقتصادی ترقی بھی ہوئی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے برسلز میں ’’پاکستان ایک بدلتی حقیقت۔امن اور ترقی کے لئے ایک موقع‘‘ کے عنوان سے منعقدہ ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا جس کا اہتمام یورپیئن ایشین اسٹڈیز نامی باوقار تھنک ٹینک نے پاکستا نی سفارتخانہ کے تعاون سے کیا تھا ۔ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر تجارت انجینئر خرم دستگیر خان نے کہا کہ پاکستان کی ابھرتی ہوئی نئی حقیقت سے صرف ملک کے اندر نہیں بلکہ قریبی ہمسایہ ممالک میں بھی امن اور ترقی کیلئے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔ انہوں نے پاکستان بارے خوش خبری سناتے ہوئے کہا کہ جمہوری استحکام اور سماجی و اقتصادی ترقی کے دور سے آج کے پاکستان کا واضح طور پر اظہار ہوتا ہے۔ وزیر تجارت نے کہا کہ پاکستان نے جی ایس پی پلس سٹیٹس سے بہت فائدہ اٹھایا ہے کیونکہ ملک نے اسے سماجی اور اقتصادی شعبوں میں اصلاحات کی حوصلہ افزائی اور ترغیب کے طور پر لیا اور آئین میں دیئے گئے حقوق پر عمل درآمد کی جانب گامزن ہونے میں مدد ملی ۔ انہوں نے واضح کیا کہ عوام کے حقوق کی بہتری کی بین الاقوامی ذمہ داریوں کی ادائیگی کو یقینی بنانے کیلئے معاہدے پر عملدرآمد کا سیل قائم کیا گیا ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ جی ایس پی پلس کا درجہ ملنے کے بعد پاکستان کی برآمدات میں 37 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ پیداوار کیلئے ضروری مشینری کی شکل میں پاکستان کیلئے یورپی برآمدات میں 15 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2013ء کے انتخابات کے بعد پاکستان نے طویل سفر طے کیا ہے ۔ آج پاکستان پختہ اور فعال جمہوریت ہے. معیشت تیزی سے ترقی کر رہی ہے اور سیکورٹی میں بہتری سے ضروری اصلاحات شروع کرنے کی گنجائش پیدا ہوئی ہے۔ دہشت گردی سے نمٹنے کیلئے حکومت کی جامع حکمت عملی کا ذکر کرتے ہوئے خرم دستگیر خان نے کہا کہ ’’ہماری حکومت نے انتہاء پسندی اور دہشت گردی کے خطرات سے نمٹنے کیلئے حکمت عملی پر قومی اتفاق رائے پیدا کرنے کیلئے تندہی سے کام کیا ہے۔ فوجی آپریشن ضرب عضب جون 2014 میں شروع ہوا اور 2015 ء میں قومی لائحہ عمل پر عمل درآمد کا آغاز ہوا جس کے نتیجہ میں دہشت گردی اور انتہا پسندی پر قابو پانے میں قابل ذکر کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں۔ وفاقی وزیر نے بتایا کہ گزشتہ دو سالوں کے دوران دہشت گرد حملوں کی وجہ سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد 66 فیصد تک کم ہوئی ہے ۔

دہشت گردی انڈیکس رپورٹ میں تصدیق کی گئی ہے کہ 2015 میں پاکستان میں دہشت گردانہ حملوں میں 45 فیصد کمی اور 2016 میں 27 فیصد کمی ہوئی ہے۔ اقتصادی محاذ پر حکومت نے مالیاتی اور بیرونی شعبے کے خطرات کو کم کرنے کے لئے کامیاب ترین اصلاحات متعارف کرائیں جس کے باعث پاکستان کو آئی ایم ایف کے توسیعی فنڈ کی سہولت ملی۔ گذشتہ سال پاکستان نے 8 سال میں سب سے زیادہ شرح سے ترقی کی ہے جیساکہ عالمی بینک نے یہ ترقی نومبر 2016 ء میں ریکارڈ کی تھی۔عالمی بینک کی طرف سے سال 2017ء اور 2018ء کیلئے ترقی کی شرح 5 اور 5.4 فیصد ہونے کا اندازہ لگایا گیا تھا تاہم اب اس نظرثانی کر کے ترقی کا یہ اندازہ بالترتیب 5.2 اور 5.5 فیصد کردیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان پر سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ ہوا ہے جس کی عکاسی سٹاک ایکسچینج کی کارکردگی سے بھی ہوئی ہے۔ بلومبرگ نے جو درجہ بندی کی ہے اس کے مطابق پاکستانی سٹاک ایکسچینج دنیامیں پانچویں نمبر پر ہے اور سب سے بہترین کارکردگی کے لحاظ سے ایشیاء میں سب سے بہترین ہے۔ وفاقی وزیر نے سیمینار کے شرکاء کو بتایا کہ پاکستان میں مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کے بے پناہ مواقع موجود ہیں اور ان شعبوں میں توانائی ، صارفین کیلئے اشیاء ، خوارک وزراعت، ہاؤسنگ ، ہیلتھ کیئر،تعلیم ، کپٹیل مارکیٹ ، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور تیل وگیس اور ڈھانچہ جاتی شعبے شامل ہیں۔وفاقی وزیر نے کہا کہ علاقائی روابط کا فروغ اور حوصلہ افزائی موجودہ حکومت کی خارجہ پالیسی کا اہم ستون ہے۔انہوں نے کہا کہ پاک چین اقتصادی راہداری اربوں ڈالرز کا ترقیاتی منصوبہ ہے جس سے پورے خطہ میں علاقائی اقتصادی استحکام آئے گا اوریہ منصوبہ پورے خطے میں ترقی و خوشحالی لائے گا۔

مزید : کامرس