سی پیک بارے تاجروں کے تحفظات دور کرنے کیلئے کمیٹی قائم

سی پیک بارے تاجروں کے تحفظات دور کرنے کیلئے کمیٹی قائم

فیصل آباد (بیورورپورٹ) چین پاکستان اقتصادی راہداری کے بارے میں ملک بھر کی تاجر برادری کے مشترکہ خدشات اور تحفظات کے ازالہ کیلئے بھوربن میں نویں آل پاکستان چیمبرز پریذیڈنٹس کانفرنس نے ایک مشترکہ قرار داد منظور کی ہے جس کے تحت راولپنڈی چیمبرکے صدر راجہ عامر اقبال کی سربراہی میں ایک کمیٹی قائم کی جائیگی جس میں ملک بھر کے تمام چیمبرز کے صدور یا ان کا ایک نمائندہ شامل ہوگا۔ یہ قرارداد فیصل آباد چیمبرکے صدر انجینئر محمد سعید شیخ نے پیش کی جسے اتفاق رائے سے منظور کر لیا گیا۔ یہ کمیٹی خاص طور پر چینی صنعتوں کی پاکستان میں منتقلی یا نئی صنعتوں کے قیام سے مقامی صنعتوں کیلئے پیدا ہونے والی ممکنہ دشواریوں پر غور کرے گی۔ مزید برآں سی پیک کے چوتھے مرحلے میں صنعتی علاقوں کے قیام سے قبل ان صنعتوں کے قیام کی نشاندہی بھی کرے گی۔

جن کے لگنے سے نہ صرف چین بلکہ پاکستان دونوں کو فائدہ ہوگا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر انجینئر محمد سعید شیخ نے کہا کہ اقتصادی راہداری منصوبہ پاکستان اور چین دونوں کیلئے یکساں طور پر مفید ہونا چاہیئے۔ اس سلسلہ میں جو مراعات چینی سرمایہ کاروں کو دی جائیں وہی مراعات مقامی سرمایہ کاروں اور موجودہ صنعتکاروں کوبھی حاصل ہونی چاہیءں۔ مزید برآں چین کی طرف سے ایسی صنعتوں کے قیام کو ترجیح دی جانی چاہیئے جن میں زیادہ سے زیادہ مقامی لوگوں کو کھپایا جا سکے۔ انجینئر محمد سعید شیخ نے کہا کہ پائیدار معاشی ترقی کے ذریعے غربت اور بے روزگاری کے خاتمے کیلئے تاجر برادری کی مشاورت سے معاشی پالیسیوں کی تشکیل ناگزیر ہے اور اس سلسلہ میں ملک بھر کے تاجر نمائندوں کو آل پاکستان چیمبرز پریذیڈنٹس کانفرنس کے پلیٹ فارم کو مزید متحرک ، فعال اور مضبوط بنانا ہوگا۔ اس کانفرنس میں ملک بھر کے 40 سے زائد چیمبرز کے صدور نے شرکت کی اور اہم معاشی مسائل اور ان کے حل کیلئے اپنی اپنی تجاویز پیش کیں۔ انہوں نے بتایا کہ پہلے روز کے پہلے سیشن میں پچاس نکات پر بحث ہوئی اور فیصلہ ہوا کہ ان کی اہمیت کے حوالہ سے شارٹ لسٹنگ کی جائے تا کہ حکومت کو ان پر غور کرنے پر مجبور کیا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ طویل بحث مباحثہ کے بعد 50 میں سے حکومت کو پیش کرنے کیلئے نو نکات بنائے گئے۔ انجینئر محمد سعید شیخ نے بتایا کہ بھوربن کانفرنس کیلئے ملک کے دوسرے سیشن میں 2 این جی اوز کے علاوہ ملک بھر کی پانچ اہم سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کو بھی مدعو کیا گیا تھا مگر سیاسی جماعتوں کی طرف سے برفباری کی وجہ سے صرف ایم کیوایم کے رشید گوڈیل اور پیپلز پارٹی کے طارق چوہدری شریک ہوئے۔ پیپلزپارٹی کے طارق چوہدری نے بتایا کہ سینیٹ میں ان کی اکثریت ہے۔ آپ لوگ آجائیں ہم سینیٹ کے چیئرمین رضا ربانی سے آپ کی ملاقات کرا دیتے ہیں تا کہ آپ ان سے ان نکات کے قابل بحث ہونے کے معاملات کا جائزہ لے سکیں۔ رشید گوڈیل نے بھی کہا کہ وہ ہمیشہ سے یہی چاہتے ہیں کہ انڈسٹری ہر حالت میں چلنی چاہیئے کیونکہ اس کی وجہ سے ہی ترقی کے مقاصد حاصل کئے جا سکتے ہیں۔ انجینئر محمد سعید شیخ نے مزید بتایا کہ زیر بحث نکات میں سے سی پیک پر بھی طویل بحث ہوئی اور یہ بات نوٹ کی گئی کہ 51 بلین ڈالرکے پیکیج میں سے صنعتی علاقوں کیلئے ایک پیسہ بھی نہیں رکھا گیا جبکہ اس سلسلہ میں وفاقی حکومت کا موقف ہے کہ یہ کام صوبوں کا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات مزید باعث تشویش ہے کہ چوتھے مرحلہ کے سلسلہ میں ابھی تک مکمل تفصیلات کسی بھی چیمبر کے پاس نہیں ہیں۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا گیا کہ وہ اس حوالے سے متعلقہ معلومات فوری طور پر چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے ساتھ شیئر کرے۔ انہوں نے بتایا کہ متفقہ طور پر منظور کئے جانے والے نکات میں ٹیکس نیٹ کو بڑھانے کے پرانے مطالبے کو دوہرایا گیا اور کہا گیا کہ سیلز ٹیکس اور انکم ٹیکس کے ریٹس کو کم کیا جائے جبکہ سیلز ٹیکس ریٹ کو سنگل ڈیجٹ میں لایا جائے۔ اسی طرح مطالبہ کیا گیا کہ سیکشن 140 کے خلاف اپیل کیلئے کم از کم جمع کرائی جانے والی رقم کو 25 فیصد سے کم کرکے دس فیصد کیا جائے۔ اسی طرح 38-A اور 40-B کا اطلاق صرف ممبر ایف بی آر کے ذریعے کیا جائے۔ مزید برآں بیسک ڈیٹ کو کم کیا جائے اور اسے ڈویلپمنٹ کی مد میں استعمال کیا جائے۔

مزید : کامرس

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...