مولانا حافظ عبدالحمید ازہرؒ

مولانا حافظ عبدالحمید ازہرؒ

پروفیسر محمد یٰسین ظفر

تمام دینی وعلمی اور جماعتی حلقوں میں یہ خبر نہایت حزن وملال کے ساتھ سنی گئی کہ ممتاز عالم دین شیخ الحدیث مولانا حافظ عبدالحمید ازہر رحلت فرما گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ آپ کی نماز جنازہ اصغر مال روڈ مسلم پارک راولپنڈی میں آپ کے رفیق خاص حافظ مسعود عالم نے پڑھائی اور قریبی قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا۔ اس طرح علم وعمل کا پیکر ہمیشہ کے لیے آنکھوں سے اوجھل ہوگیا۔ لا حول ولا قوۃ الا باللہ۔

حافظ عبدالحمید ازہر قیام پاکستان کے ایک سال بعد پیدا ہوئے۔ آپ کے والدین انڈیا سے ہجرت کر کے قصور شہر میں قیام پذیر ہو گئے اور وہیں آپ نے ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ شروع ہی سے بہت ذہین اور سلیم الفطرت تھے۔ جلد ہی قرآن حکیم کے حافظ بن گئے۔ اس کے بعد مختلف علماء اور مشائخ کے سامنے زانوئے تلمذ طے کیا۔ جامعہ اسلامیہ گوجرانوالہ میں مولانا ابو البرکات اور جامعہ محمدیہ میں محدث العصر حافظ محمد گوندلوی سے ذاتی سند حاصل کی۔ علم کی جستجو اور تشنگی باقی تھی۔ لہٰذا جامعہ سلفیہ فیصل آباد میں داخل ہوئے۔ یہاں شیخ الحدیث مولانا حافظ محمد عبداللہ بڈھیمالوی، مولانا علی محمد حنیف السلفی ، مولانا حافظ بنیامین کے علاوہ فضیلۃ الشیخ اما ن علی جامی رحمہ اللہ سے کسب فیض کیا۔ آپ کے رفقاء میں سے جناب حافظ مسعود عالم بطور خاص قابل ذکر ہیں۔ جامعہ کے سالانہ امتحانات میں اعلیٰ درجات حاصل کرنے کے باعث دونوں مشائخ کا مدینہ منورہ میں داخلہ ہوا۔ اس طرح جامعہ سلفیہ کی جانب سے نومبر 1973 میں پہلا قافلہ حصول علم کے لیے مدینہ منورہ پہنچا۔ کلیہ الشریعہ میں چار سالہ تعلیم مکمل کی اور میرٹ کی بنیاد پر ایم اے کے لیے داخلہ ہو گیا۔

1980 میں آپ واپس وطن تشریف لے آئے اور جامع مسجد محمدی ایمن آباد چوک اصغر مال روڈ راولپنڈی میں بطور خطیب مقرر ہوئے۔ مدرسہ تدریس القرآن راجہ بازار میں بطور نائب شیخ الحدیث خدمات سرانجام دینے لگے۔ آپ نے جامع مسجد محمدی میں 35سال بطور خطیب فرائض سرانجام دئیے۔ مسجد کی از سرنو تعمیر اور مثالی ادارہ برائے تعلیم البنات قائم کیا۔ یہ مسجد انتہائی خوبصورت اور پرشکوہ ہے۔ آپ کا خطبہ بہت منظم اور مرتب ہوتا۔ ایک موضوع پر گفتگو کرتے اور بات ذہن نشین کرا دیتے۔یہی وجہ ہے کہ لوگ دور دور سے خطبہ جمعہ سننے کے لیے تشریف لاتے۔ آپ کی گفتگو میں بلا کی تاثیر تھی۔ ایسا وعظ کرتے کہ بات دل میں اتر جاتی اور فکر کی تبدیلی کا باعث بنتی۔ کتنے لوگ ایسے ہیں جو آپ کے حلقہ میں شامل ہوئے اور ان کے عقائد اور سلوک میں انقلابی تبدیلی آئی۔ آپ مختلف کانفرنسوں، جلسوں، سیمینارز میں بیان کرتے۔ پوری بات دلائل سے مزین ہوتی اور ایک ایک جملہ بامقصد او رمفہوم کو واضح کر رہا ہوتا تھا، آپ بیک وقت علمی اور عوامی انداز اختیار کرتے جس سے اہل علم اور عام لوگ مستفید ہوتے۔

حضرت حافظ صاحب کامیاب استاد اور مدرس تھے۔ اسلوب تدریس میں یکتاتھے۔ مشکل بات کو آسان پرائے میں کرنے کا گر جانتے تھے، تفہیم کا ایسا طریقہ اختیار کرتے کہ طلبہ کو سوال کرنے کی ضرورت نہ رہتی تھی۔ بڑی کتابیں پڑھاتے وقت شاگردوں کی مکمل رہنمائی کرتے۔ آپ فقہ اور اصول فقہ کے ماہر تھے۔ لہٰذا اس موضوع پر زیادہ کتابیں اختیار کرتے اور بڑے شوق سے تدریسی خدمت سرانجام دیتے۔ آپ تعلیم کے ساتھ طلبہ کی تربیت پر خصوصی توجہ دیتے اور علم کو عمل کے بغیر نامکمل سمجھتے تھے۔

حافظ عبدالحمید ازہر قدامت پسند تھے اور اس میں عار محسوس نہ کرتے۔ ظاہر ی وضع قطع اور لباس میں سادگی اختیار کرتے لیکن حقیقت میں تمام جدید طور طریقوں سے آگاہ تھے۔ آپ کا دل بڑا روشن تھا۔ یہی وجہ ہے کہ فتویٰ دیتے ہوئے جہاں کتاب وسنت سے رہنمائی لیتے تھے وہاں جدید تقاضوں کو مدنظر رکھتے۔ حکیمانہ طرز عمل اختیار کرتے تھے۔ فتوی تحریر کرتے ہوئے بہت محتاط الفاظ استعمال کرتے۔

آپ بہت اچھے قلم کار اورلاجواب اسلوب نگارش کے مالک تھے۔ آپ کی منفرد تحریر ، ادب سے مزین ہوتی۔ دلائل کی زبان سے اپنا مدعا بیان کرتے۔ عربی ، اردو اور فارسی زبان میں مکمل عبور حاصل تھا۔ یہی وجہ ہے کہ آپ بہت خوبصورت ادیبانہ طرز تحریر اختیارکرتے۔ آپ کو فی البدیع ترجمہ پر عبور حاصل تھا۔ خاص کر خطبہ حج کے علاوہ مسجد الحرام سے نشر ہونے والے خطبات کا فی الفور ترجمہ کر لیتے تھے۔ آپ کو یہ اعزاز حاصل رہاکہ پاکستان ٹیلی ویژن اور ریڈیو پاکستان آپ کی خدمات مستعار لیتا اور یہ خطبے براہ راست نشر ہوتے۔ الفاظ کے چناؤ میں ایسا انداز اختیار کرتے کہ اس میں دلچسپی پیدا ہوجاتی۔

حضرت حافظ عبدالحمید ازہر صاحب پیغام ٹی وی سے بھی منسلک تھے۔ آپ نے ان گنت پروگرام ریکارڈ کرائے جنہیں ناظرین نے بے حد پسند کیا اور بار بار نشر ہوتے رہے۔ یہ سلسلہ جاری رہتاتھا۔ آپ کے بہت سے علمی مضامین قومی اخبارات کے رنگین ایڈیشن میں بھی شائع ہوئے۔ علمی مضامین کے لیے آپ ہفت روزہ الاعتصام کا انتخاب کرتے تھے۔

حافظ صاحب مرحوم بہت خوش طبع تھے۔ بات تلخ بھی ہو تو اس میں مزاح کا پہلو نکال لیتے۔ ان کے پاس بیٹھ کر کبھی اکتاہٹ نہ ہوتی۔ علمی معلوماتی گفتگو کے ساتھ علمی نکات بیان کرتے تھے۔ حالات حاضرہ پر گہری نظر ہوتی اور بہت جاندار تجزیہ کرتے۔ امت مسلمہ کی موجودہ صورت حال پر بہت کبیدہ خاطر ہوتے اور خون کے آنسو روتے۔ اس بات پر اظہار افسوس کرتے کہ امت مسلمہ میں کوئی رجل رشید نہیں جو قائدانہ کردار ادا کرے۔

جامعہ سلفیہ فیصل آباد کے ساتھ قلبی تعلق تھا۔ ہمیشہ جامعہ کے لیے فکر مندی کا اظہار کرتے۔ اور احسان کا بدلہ چکانے کے لیے مالی معاونت کرتے۔ اپنے رفقاء کو توجہ دلاتے اورہر سال ایک معقول رقم جامعہ کو بھیج دیتے تھے۔ جامعہ کے بارے میں اچھی خبر پر دلی مسرت کا اظہار کرتے۔ جامعہ کی انتظامیہ اور اساتذہ کے لیے نیک جذبات اور دلی دعائیں کرتے تھے۔

آپ کی رحلت سے جہاں ان کے اہل خانہ ایک مشفق باپ یا خاوند سے محروم ہوئے ہیں وہاں ان کے شاگرد ایک ممتاز استاد اور ان کے رفقاء ایک ہمدرد رفیق سے محروم ہوئے ہیں اور یہ خلا کبھی پر نہ ہو سکے گا۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ حافظ صاحب کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے۔ بشری لغرشوں سے درگزر فرمائے اور تمام لواحقین کو صبر جمیل سے نوازے۔ آمین۔

مزید : ایڈیشن 1

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...