نجی اور سرکاری سکولوں میں سیکیورٹی کے ناقص انتظامات ، کیمرے ، چار دیواریاں تک موجود نہیں

نجی اور سرکاری سکولوں میں سیکیورٹی کے ناقص انتظامات ، کیمرے ، چار دیواریاں ...

لاہور ( لیاقت کھرل) صوبائی دارالحکومت کے 1243 سرکاری اور 7201 رجسٹرڈ پرائیویٹ سکولوں میں حفاظتی اقدامات کے نام پر کروڑوں روپے خرچ، محض 549 ایلیٹ سکولوں میں ایس او پیز کے مطابق حفاظتی اقدامات ، باقی تعلیمی ادارے حفاظتی اقدامات کے حوالے سے اللہ کے رحم و کرم پر ہیں، کوئی سیکیورٹی گارڈ ہے نہ خاردار تاریں( فینس)، کلوز سرکٹ کیمروں کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ کئی لاوارث سکول تو ایسے ہیں جہاں چار دیواری بھی نہیں، کمروں کی چھتیں تک ٹپک رہی ہیں ’’پاکستان‘‘ نے اس حوالے سے لاہور کے سرکاری وپرائیویٹ سکولوں میں حفاظتی اقدامات کا جائزہ لینے کے لئے ایک سروے کیا تو اس موقع پر سیکیورٹی کے لئے قائم کردہ ایس او پیزکے نام پر کوئی چیز نہ تھی، اس موقع پر زیادہ تر ایلیٹ کلاسز کے نجی تعلیمی اداروں ، اے پلس اور اے کیٹیگریز کے سرکاری سکولوں میں بھی سیکیورٹی کے اقدامات نظر آئے، جن تعلیمی اداروں کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے سیکیورٹی رسک قرار دیا گیا اور ضلعی انتظامیہ اور محکمہ سکولز ایجوکیشن نے ان سکولوں کو سیکیورٹی کے حوالے سے اے کیٹیگریز اور اے پلس کیٹگریز میں تقسیم کر رکھا تھا اور ان سکولوں کی تعداد 720 بتائی گئی۔ تاہم سیکیورٹی کے لئے قائم کردہ ایس او پیز کے مطابق سیکیورٹی انتظامات نہ کر پانے کے باعث ان سکولوں کی تعداد کم کر کے 549 ظاہر کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے جہاں ضلعی انتظامیہ اور محکمہ سکولز ایجوکیشن نے حفاظتی اقدامات کو یقینی بنا رکھنے کا دعویٰ کر رکھا ہے ان سکولوں کی تعداد 290 کے قریب ہے جن میں بیکن ہاؤس ، لاہور گرائمر سکولز اور سٹی گرائمر سکولز سمیت 110 ایلیٹ سکولوں میں سیکیورٹی کے اقدامات واقعی تسلی بخش قرار پائے گئے جبکہ جہاں سرکاری سکولوں میں سیکیورٹی کے اقدامات کو یقینی بنانے کا دعویٰ کیا گیا، وہاں اکثر سکولوں میں تربیت یافتہ اور مسلح سیکیورٹی گارڈز موجود نہیں تھے جبکہ اس کے ساتھ کینٹ ، اقبال ٹاؤن ، سول لائن اور سٹی ڈویژن میں ہزاروں سکول ایسے ہیں جہاں سیکیورٹی گارڈز، کلوز سرکٹ کیمرے اورخاردار تاروں سمیت دیگر انتظامات تو دور کی بات اکثریتی سکولز کی چار دیواری تک خستہ حال ہیں اور کمروں کی چھتیں ٹپک رہی تھیں اور ان میں بعض سرکاری سکولز جن کی تعداد 130 کے قریب بتائی جاتی ہے ان سکولوں میں سیکیورٹی تو الگ بات چار دیواری سے بھی یہ سکولز محروم تھے۔پاکستان سروے میں انکشاف ہوا کہ جن سکولوں میں سیکیورٹی کے تھوڑے بہت انتظامات نظر آئے وہاں چوکیدار یا مالی سے سیکیورٹی کا کام لیا جا رہا تھا جس میں گورنمنٹ ہائی سکول مزنگ میں سیکیورٹی گارڈ نہ ہونے کے باعث چوکیدار سے ڈیوٹی لی جا رہی تھی۔ اسی طرح گورنمنٹ سینٹ جوزف ہائی سکول کی عمارت کی سیکیورٹی وہاں پر چرچ قائم ہونے کی وجہ سے چرچ کے سیکیورٹی گارڈ کے ذمے پائی گئی۔ اسی طرح گورنمنٹ ہائی سکول تاجپورہ بوائز اینڈ گرلز ،گورنمنٹ مسلم بوائز ہائی سکول، گورنمنٹ ہائی سکول اتوکے اعوان ، گورنمنٹ پرائمری سکولز (گرلز) فتح گڑھ میں بھی سیکیورٹی نام کی کوئی چیز نہ تھی اور وہاں پر نہ تو کیمرے اور نہ ہی چار دیواری پر خاردار تار نصب تھی، جبکہ سیکیورٹی کے لئے چوکیدار سے ڈیوٹی کی جا رہی تھی، اس حوالے سے نئے ڈی سی لاہور سمیر سید نے بتایا کہ تعلیمی اداروں میں ناقص سیکیورٹی کسی بھی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور اس میں سکولوں کی چھٹی کے اوقات میں ریڑھی بانوں کو نزدیک آنے نہیں دیا جائے گا جبکہ تھانوں کی گاڑیاں اور کمانڈوز سمیت ڈولفن فورس بھی ایلیٹ سکولوں کے ارد گرد گشت کے پابند ہوں گے۔ اس حوالے سے چیف ایگزیکٹو آفیسر تعلیم لاہور طارق رفیق نے بتایا کہ ایس او پیز کے مطابق سیکیورٹی کیمرے اور واک تھرو گیٹ نصب کیے جانے ضروری ہیں۔ واک تھرو گیٹ اور سکول میں کم سے کم دو سیکیورٹی گارڈز تعینات ہوں گے جس میں ایک سیکیورٹی گارڈ سکول کی چھت جبکہ ایک سیکیورٹی گارڈ سکول کے داخلی گیٹ پر تعینات کیا جانا ضروری ہے، اس میں سکول کی چار دیواری کم سے کم 8 فٹ اونچی ہونی چاہیے اور اس کے ساتھ دیواروں کے اوپر خاردار تاریں (فینس) کے نصب نہ ہونے سے بھی سیکیورٹی نامکمل ہو گی جبکہ سیکیورٹی کے پاس متعلقہ تھانے اور پولیس ایمرجنسی کے نمبرز سمیت جدیداسلحہ ہونا بھی ضروری ہے اور اس کے علاوہ سیکیورٹی گارڈ کی تربیت نہ ہونے پر کارروائی ہو گی۔ اس حوالے سے چیف ایگزیکٹو آفیسر سکولز لاہور محمد طارق رفیق نے مزید بتایا کہ لاہور کے 549 سرکاری وپرائیویٹ سکولوں میں سیکیورٹی کے فول پروف اقدامات ہیں جبکہ باقی سکولز میں بھی مرحلہ وار سیکیورٹی کے امور کو بہتر بنایا جا رہا ہے۔

مزید : میٹروپولیٹن 1

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...