ٹرمپ نے اسلامی ممالک کے ساتھ متعصبانہ رویے کا مظاہرہ کیا،میاں مقصود

ٹرمپ نے اسلامی ممالک کے ساتھ متعصبانہ رویے کا مظاہرہ کیا،میاں مقصود

لاہور(خبر نگار خصوصی) امیر جماعت اسلامی پنجاب میاں مقصود احمدنے ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے 7مسلمان ممالک کے شہریوں کا امریکہ میں داخلے بند کرنے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہاہے کہ شام ، عراق ، ایران،لیبیا،صومالیہ،سوڈان اور یمن کو ہدف کا نشانہ بناکر متعصبانہ رویے کامظاہرہ کیا گیا ہے۔امتیازی پالیسیاں قابل مذمت ہیں۔نئی امریکن انتظامیہ کے اسلام اور مسلمان دشمنی کے پوشیدہ مقاصد کھل کر دنیا کے سامنے آچکے ہیں۔دنیامیں قیام امن کے لیے امریکہ کو اپنے دوہرے معیار بدلنے ہوں گے۔انہوں نے کہاکہ ٹرمپ نے جس طرح اپنی حلف برداری کی تقریب میں اسلام کو دہشت گردی سے جوڑنے کی کوشش کی تھی اس پر بھی امریکہ سمیت دنیا بھر میں مظاہرے ہورہے ہیں۔مسلمان ممالک کوبلاوجہ دشمن قراردینا کسی بھی مہذب ملک کو زیب نہیں دیتا۔ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ہونے والامنفی اور بلاجواز پراپیگنڈہ تشویش ناک اور لمحہ فکریہ ہے۔میاں مقصود احمد نے مزیدکہاکہ اسلام امن،بھائی چارے کا درس دیتا ہے مگر سوچی سمجھی سازش کے تحت مسلمانوں کو بدنام کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔امریکہ اور مغربی ممالک اپنا رویہ تبدیل کریں تو بہت ساری خرابیاں خود بخود ختم ہوسکتی ہیں۔اسلامی دنیا کے اہم ایشوزمسئلہ فلسطین،کشمیر اور برما پرتوجہ دیتے ہوئے ان کوفوری طور پر حل کیاجائے۔انتہاء پسندی اور دہشت گردی کو کسی مذہب یاکسی بھی خاص فرقے سے جوڑنا دنیاکے امن کے لیے انتہائی خطرناک ہوگا۔انہوں نے کہاکہ سب سے بڑادہشت گردخود امریکہ ہے جس نے مسلم ممالک افغانستان اور عراق میں انسانی خون کی ندیاں بہادیں۔امریکی جارحیت کی نتیجے میں عراق،شام اور افغانستان میں لاکھوں بے گناہ اور نہتے افراد معصوم بچوں اور خواتین کو موت کے گھاٹ اتاردیا گیاجبکہ اس سے قبل ویت نام میں بھی امریکی جارحیت کی گئی۔جاپان کے شہروں ہیروشیما اور ناگاساکی پر بھی امریکہ نے ہی ایٹمی بم گرائے تھے۔

مزید : میٹروپولیٹن 1