پانامہ سے اوبامہ تک ۔۔۔ !

پانامہ سے اوبامہ تک ۔۔۔ !
پانامہ سے اوبامہ تک ۔۔۔ !

  

عرصہ ہوا ایک افسانہ پڑھتے ہوئے عجیب سی کیفیت سے دوچار ہوا۔وہ افسانہ دراصل میاں بیوی اور تین بچوں پر مشتمل گھرانے کے سلگتے ہوئے شب وروز تھے۔جیسے تیسے انتہائی غربت میں زندگی کی گاڑی چل رہی تھی۔گھرانے کا سربراہ موذی امراض میں مبتلا ہونے کی وجہ سے بستر مرگ پر پڑا تھا اور ایک عرصہ اس کا علاج چلتا رہا جس سے گھر کی جمع پونجی غربت کے نشانے سے بھی بہت نیچے چلی گئی مگر وہ اب بھی چارپائی سے لگا ہوا تھا۔ آخرکار انہی حالات میں ایک دن اپنے بچوں کو یتیم چھوڑ کر خالق حقیقی کی طرف روانہ ہوگیا۔ مقامی رواج کے مطابق مذکورہ خاندان کے باقی افراد کو پڑوس سے تین روز تک کھانا ملتا رہا لیکن چوتھے روز پڑوسیوں نے بھی حسب روایت کھانا بھیجنا بند کردیا اورچوتھے روز گھر کا منظر تھر پارکرکے قحط زدہ مکینوں ایسا ہوگیا۔ ہرگزرتا لمحہ خاندان کے زندہ رہ جانے والے افراد کے لئے موت سے بدتر ہوتا جارہاتھا۔ دن بدلنا شروع ہوگئے لیکن اس خاندان کے حالات نہ بدلے اور نہ ہی کسی نے ان کی طرف توجہ دی۔بچے بار بار گھر سے باہر نکل کر سامنے والے سفید مکان کی چمنی سے نکلنے والے دھوئیں کوحسرت بھری نظروں سے دیکھتے۔وہ معصوم یہ سمجھ رہے تھے کہ جس گھر سے باپ کے فوت ہونے کے بعد تین دن تک کھانا آیا تھاشاید یہ دھواں اسی گھر سے اٹھ رہا ہے اورجلد ہی کھانا تیارہوکر ان کے پاس پہنچ جائے گا۔لیکن بچے تو بچے ہی ہوتے ہیں نا۔جب بھی کسی کے قدموں کی چاپ سنائی دیتی توانہیں محسوس ہوتا کہ ان کا وہ ہی پڑوسی کھانے کی تھالی اٹھائے آرہاہے۔

وہ دن بھی گزر گیا سامنے اور دائیں بائیں پڑوسیوں کے گھرسے کھانا پکنے کا دھواں تو اٹھتارہا،طرح طرح کے کھانوں کی خوشبو بھی آتی رہی لیکن کسی نے بھی ان کے دروازے پرکھانا دینے کے لئے دستک نہ دی۔ماں توپھر ماں ہوتی ہے اس نے چوتھے اور پانچویں روز گھر سے کچھ روٹی کے بچے ہوئے سوکھے ٹکڑے ڈھونڈنکالے،ان ٹکڑوں کو بچوں کے معدے میں اتار کر رات تمام کروا دی لیکن اگلے روزپھر بھوک کا دیو سامنے کھڑا رقص کررہا تھا۔گھر میں کچھ ایسا بھی نہ تھا کہ جسے بیچ کر بچوں کی روٹی کا بندوبست کیا جاتا۔پھربھی کافی دیر کی تلاش کے بعد ماں نے دوچار چیزیں گھر سے نکال ہی لیں جنہیں کباڑیئے کو فروخت کرکے دوچار وقت کے کھانے کا انتظام تو ہوگیا لیکن جب یہ پیسے بھی ختم ہوگئے توایک بار پھر جان کے لالے پڑ گئے۔

خاتون نے ادھار پر کچھ راشن مانگا تو دکاندار نے نہ صرف راشن دینے سے انکار کر دیا بلکہ دوچار الٹی سیدھی سنا بھی دیں اور کہا کہ آپ کا خاوند تو مر گیا ہمارا ادھار کیسے چکاؤ گی؟ بیوہ عورت کو خالی ہاتھ گھر لوٹنا پڑا۔بچوں کا یہ حال تھا کہ ایک تو باپ کی جدائی کا صدمہ اوپر سے مسلسل فاقہ چل رہا تھا۔ آٹھ سالہ بیٹے کی ہمت جواب دے گئی اور وہ شدید بخار میں مبتلا ہوکر چارپائی پر لیٹ گیا۔ علاج معالجہ اور دوا دارو تو دور کی بات، گھر میں کھانے کو لقمہ تک نہیں تھا۔ ماں اور تینوں بچے گھر کے کونے میں سہمے اور دبکے ہوئے بیٹھے تھے۔ شاید شاعر نے ایسے موقع کے لئے ہی کہا ہے:

افلاس نے بچوں کو تہذیب سکھا دی

سہمے ہوئے رہتے ہیں شرارت نہیں کرتے

ماں بخار سے تپتے بیٹے کے سرپر پانی کی پٹیاں رکھ رہی تھی جب کہ پانچ سالہ بہن اپنے ننھے منے ہاتھوں سے اپنے بھائی کے پاؤں دبا رہی تھی۔

اچانک وہ اٹھی ماں کے پاس آئی اور کان سے منہ لگا کر بولی’’اماں بھائی کب مرے گا‘‘ ماں کے دل پر تو خنجر سا چل گیا۔تڑپ کر اس کو سینے سے لگایا اور پوچھا’’میری بچی تم یہ کیا کہہ رہی ہو؟‘‘ بچی معصومیت سے بولی’’ہاں ماں! بھائی مرے گا تو کھانا آئے گا ناں‘‘

قارئین آپ یقیناحیران ہوں گے کہ جن دنوں میں پاکستان کی معیشت کے بہتر ہونے کی نوید سنائی جارہی ہے،ڈالر کو 112روپے سے نیچے لانے کا کریڈٹ لینے والے اسحاق ڈار تمام اخبارات اور ٹی وی چینلز پر چھائے ہوئے ہیں۔ معیشت کی بہتری کے دعوے کیے جا رہے ہیں۔ پاکستان کو پیرس بنانے کے متعدد بار دعوے پوری قوم سن سن کر تھک چکی ہے۔ حکمرانوں کی طرف سے یہ دعوے بھی نئی بات نہیں کہ اب پاکستان پوری دنیا سے قرض لینے والا نہیں بلکہ دینے والا ملک بنے گا۔ نئے پاکستان، نئے خیبر پختونخوا اور نئے پنجاب کے دعوے بھی تسلسل کے ساتھ جاری ہیں۔ لیکن ایسے وقت میں ،میں مایوسی اور غربت کے واقعات کی منظر کشی کرنے پر مجبور ہوں۔

یہ افسانہ میں نے دراصل اس لئے قارئین کی نذر کیا ہے کیونکہ گزشتہ کئی ماہ سے تھر سمیت ملک بھر کے مختلف علاقوں میں مناسب علاج معالجہ نہ ہونے، غربت اور افلاس کی وجہ سے جس طرح بچے،بوڑھے ،عورتیں اور جوان لقمہ اجل بن رہے ہیں یہ صورتحال پاکستان کو پیرس بنانے والے حکمرانوں اور ہر شعبہ زندگی میں انصاف قائم کرنے کے دعویدار سونامی خان،روٹی کپڑا اور مکان ہر انسان کو دینے کے دعویدار سیاستدانوں کے منہ پر طمانچہ ہے۔غربت اور افلاس سے مرتے ہوئے کمسن بچے جو دودھ اور پانی کی ایک ایک بوند کو ترس رہے ہیں۔ان کی لاشوں پر کھڑے ہوکر ہمارے حکمران اور پاکستان کا ایک بہت بڑا سرمایہ دار اعلان کرتاہے کہ جن کے بچے ہلاک ہوئے ہیں ان کو فی کس 5لاکھ روپے دونگا لہٰذا جلد ازجلد ہلاک ہونے والے بچوں اور بڑوں کے ورثاء رابطہ کریں اور اپنے اپنے نام لکھوائیں۔ یہ اعلان کرنے والے صاحب پاکستان میں اپنی سخاوت اور فیاضی کی وجہ سے مشہور ہیں۔ان کا خلوص اور فیاضی اپنی جگہ مگر آج مجھے ایک بار پھر صحرائے تھر کی جھونپڑیوں سے کمسن بچوں کی وہی آواز سنائی دے رہی ہے۔جس میں بھو ک اور پیاس کا شکار، بچے اپنی ماں سے وہی معصوم سوال کررہے ہیں کہ ہمیں تب ہی پانچ لاکھ ملے گا جب ہمارا بھائی یا باپ مرے گا؟ شاید اسی موقع کے لئے جالب نے کہا تھا کہ

اس دیس میں لگتا ہے عدالت نہیں ہوتی

جس دیس میں انساں کی حفاظت نہیں ہوتی

مخلوق خدا جب کسی مشکل میں پھنسی ہو

سجدوں میں پڑے رہنا عبادت نہیں ہوتی

ہم خاک نشینوں سے ہی کیوں کرتے ہیں نفرت

کیا پردہ نشینوں میں غلاظت نہیں ہوتی

یہ بات نئی نسل کو سمجھانا پڑے گی

عریانی تو کبھی بھی،ثقافت نہیں ہوتی

سرآنکھوں پہ ہم اس کو بٹھالیتے ہیں اکثر

جس کے کسی وعدے میں صداقت نہیں ہوتی

ہر شخص سرپہ کفن باندھ کے نکلے

حق کے لئے لڑنا تو بغاوت نہیں ہتی

جالب آج ہم میں نہیں، لیکن ترک افسانہ اور جالب کی انقلابی غزل آج بھی اتنی ہی سچ ہے جتنی کبھی ماضی میں تھی۔جب حالات نہیں بدلے تو پھر افسانے اور غزلیں کیسے بدل سکتی ہیں۔ اگر ہمارے حکمران صرف اپنے لکھے ہوئے لوگوں کے ادب کا مطالعہ ہی کرلیں تو انہیں سمجھ آجائے کہ وہ سماج کو بڑھاوا دینے کے لئے کیا کررہے ہیں۔یہ ٹھہرا اور جامد و ساکت معاشرہ اس ریاست پر قابض رہنے والوں کے تمام دعوؤں کی نفی کرتا نظر آرہاہے۔ تھر اور پاکستان کے دیگر پسماندہ علاقوں کی بھوک کو اگر نہ روکا گیا تو یہ اگر پھیلے گی تو اس سے نکلنے والا ہررستہ یاتو قتل و غارت گری کا بازار گرم کرے گا یا پھر بدترین اخلاقی پستی کی شاہراہ کو ہموار کرتاہوا نظر آئے گا۔ان حالات میں دنیا کی ہر بہن یہ نہیں پوچھتی کہ ’’اماں! بھائی کب مرے گا؟‘‘

ایک طرف یہ غمناک اور افسوسناک کہانی ہے تو دوسری طرف ہمارے حکمرانوں کی اربوں روپے کی کرپشن پر روزانہ سپریم کورٹ کے اندر اور باہر تماشا لگتا ہے اور پانامہ کیس پر تمام اہل سیاست اور میڈیا کا اس قدر زور اور فوکس ہے جس کو دیکھ کر لگتا ہے کہ اگر یہ مسئلہ حل ہو گیا تو پاکستان کے تمام دکھ تمام روگ ختم ہوجائیں گے۔ ہمارے حکمرانوں کا بدترین عدالتی اور میڈیا ٹرائل جاری ہے مگر مجال ہے کہ کسی کو پریشانی ہو، کسی قسم کی پشیمانی ہو، لیکن تصویر زندگی گزارنے کی اور بھی ہے وہ تصویر دنیا کی سپر پاور کے با اختیار صدر باراک اوباما نے پیش کی۔ وہ وائٹ ہاؤس میں اپنے 8 سالہ قیام کے دوران ایک ٹوتھ برش سے لیکر کھانے پینے تک تمام خرچ اپنی جیب سے ادا کرتے رہے۔ کاش اللہ تعالیٰ ہمارے حکمران کو دیگر کاموں میں امریکہ کی پیروی کرنے کے ساتھ ساتھ ایسے کاموں میں بھی امریکہ کی پیروی کی توفیق دے۔ آمین۔

عام آدمی

مزید : کالم