تجاویز برائے حج پالیسی 2017ء

تجاویز برائے حج پالیسی 2017ء
 تجاویز برائے حج پالیسی 2017ء

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

19 جنوری 2017ء کو سعودی حکومت اور پاکستان کے درمیان حج 2017ء کا ایم او یو سائن ہوچکا ہے جس کے مطابق حرم مکہ کی توسیع کی وجہ سے 2013ء میں دنیا بھر کی طرح پاکستان کا کاٹا گیا 20 فیصد حج کوٹہ بحال کر دیا گیا ہے۔ نئے معاہدے کے مطابق حج 2017ء میں پاکستان سے ایک لاکھ 79 ہزار 210 افراد فریضہ حج ادا کریں گے، وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف کی قیادت میں پاکستانی وفد جس میں وفاقی سیکرٹری مذہبی امور خالد مسعود چودھری جوائنٹ سیکرٹری طاہر احسان ہوپ کے چیئرمین حاجی ثناء اللہ شامل تھے۔ سعودی وزیر حج ڈاکٹر شیخ صالح بنٹن موسسہ جنوب ایشیا کے چیئرمین رافعت بدر اور مدینہ منورہ میں ادلہ کے ذمہ داران کے درمیان کامیاب مذاکرات کے بعد وطن واپس تشریف لاچکے ہیں۔ وفاقی سیکرٹری مذہبی امور خالد مسعود چودھری جن کو چند دن پہلے ذمہ داری ملی ہے انہوں نے سعودی عرب کے اپنے پہلے دورے کے دوران ہی ہر معاملے میں غیر معمولی دلچسپی لے کر لوہا منوا لیا ہے۔ جوائنٹ سیکرٹری حج طاہر احسان بھی شاندار کارکردگی کی وجہ سے اس مہینے پروموٹ ہوئے ہیں۔ وفاقی سیکرٹری اور جوائنٹ سیکرٹری نئے ہونے کے باوجود اس لحاظ سے خوش قسمت ٹھہرے۔ انہیں ناصر عزیز خان اور اظہر اقبال ہاشمی جیسے تجربہ کار سیکشن آفیسرز کا ساتھ میسر ہے۔ فارغ ہونے والے وفاقی سیکرٹری سہیل عامر مرزا اور جوائنٹ سیکرٹری حج محمد فاروق خان کو خوش قسمت قرار دیا جا رہا ہے، جنہوں نے وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف کے ساتھ تین کامیاب حج آپریشن مکمل کیے اور تین سال تک وفاقی وزیر کے حج کوٹہ کی تقسیم کا پنڈورابکس کھولنے کے فیصلے کے خلاف حکمت کے ساتھ سیسہ پلائی دیوار بنے رہے۔ سعودی حکومت کی طرف سے تین سال سے کاٹا گیا 20 فیصد کوٹہ جواز بناتے رہے۔ وفاقی وزیر اور حکومت کے مختلف حلقوں کی طرف سے آنے والے دباؤ کو یہ کہہ کر ٹالتے رہے جب سعودی حکومت حج کوٹہ بحال کرے گی تو کوٹہ نئی کمپنیوں کو دیں گے۔

حج سکینڈل 2012ء کی گونج اور خوف کے سائے وزارت مذہبی امور کے درودیوار پر چھائے ہوئے ہیں یہی وجہ ہے وفاقی سیکرٹری سہیل عامر مرزا اور جوائنٹ سیکرٹری حج محمد فاروق سعودی حکومت کی طرف سے کاٹے گئے حج کوٹہ کی بحالی کی خبر آنے کے ساتھ ہی دامن بچا کر اپنا تبادلہ کروا گئے ہیں۔

اب نئے وفاقی سیکرٹری اور جوائنٹ سیکرٹری حج کا امتحان حج آپریشن 2017ء کو مکمل کرنا ہی نہیں ہے بلکہ حج کوٹہ کا پنڈورا بکس کھلنے کا پل صراط عبور کرنا بھی ہے۔ 2012ء حج سکینڈل کے مبینہ کردار سابق وفاقی وزیر مذہبی امور علامہ حامد سعید کاظمی جوائنٹ سیکرٹری حج راجہ آفتاب ڈی جی حج راؤ شکیل ابھی تک پابند سلاسل ہیں۔ اس کے باوجود وفاقی وزیر مذہبی امور کے حلقے حج کوٹہ کی خرید و فروخت کا پنڈورا بکس کھولنے کے لئے بے تاب نظر آرہے ہیں۔ لمحہ فکریہ ہے وزارت مذہبی امور دو عملی کا شکار نظر آرہی ہے، ایک طرف سرکاری حج سکیم کی مقبولیت اور سستے حج پیکیج کو بنیاد بنا کر سرکاری سکیم کا کوٹہ بڑھانا چاہتی ہے مگر ساتھ ہی پرائیویٹ حج سکیم میں من پسند افراد کو کوٹہ بھی دینا چاہتی ہے۔ حج پالیسی 2017ء کے لئے تجاویز کی تمہید طویل ہوگئی ۔ سعودیہ کے ساتھ ایم او یو 2017ء سائن ہونے کے بعد ہوپ کے چیئرمین نے مکہ مکرمہ میں وفاقی وزیر مذہبی امور کو تجویز پیش کی۔ حج 2016ء کی طرح حج 2017ء کے لئے بھی پاکستان سے جانے والے عازمین کے کوٹے کا تناسب سرکاری اور پرائیویٹ سکیم میں پچاس پچاس فیصد رکھا جائے۔ معلوم ہوا ہے سعودی حکام اور موسسہ جنوب ایشیا کے ذمہ داران گزشتہ سال کا تناسب ففٹی ففٹی رکھنے پر راضی ہیں مگر وفاقی وزیر مذہبی امور ابھی اپنے پتے شو کرانے کے لئے تیار نہیں ہیں وزیر خزانہ جناب اسحاق ڈار کے ساتھ 2012ء میں ہوپ کے ہونے والے معاہدے کے مطابق کاٹا گیا20فیصد کوٹہ جب بھی بحال ہو گا انہی کمپنیوں کو ملے گا جن کمپنیوں کاکوٹہ کاٹا گیا ہے۔ مگر ایسا ہوتا نظر نہیں آ رہا۔ وزارت مذہبی امور نے ملک بھر میں حج پالیسی 2017ء کے لئے تجاویز کے حصول کے لئے شیڈول جاری کرتے ہوئے تجویز کیا تھا۔ حج پالیسی 2017ء فروری کے آخر میں دے دیں گے۔ واقفان حال کا کہنا ہے لگتا ہے ایسا ہو نہیں سکے گا کیونکہ حج کوٹہ کی منڈی لگانے والا مافیا اس انداز سے مہم جوئی میں مصروف ہے۔ سالہا سال سے احسن اور شاندار انداز میں کام کرنے والے حج آرگنائزر کا کاٹا گیا حج کوٹہ انہی پرانی کمپنیوں کو دینے کی بجائے نئی کمپنیوں کو دے دیا جائے۔ اس کے لئے مارکیٹ میں کروڑوں کے لین دین کی افواہیں عام ہیں حالانکہ میاں نوازشریف کے حلقے دوٹوک انداز میں کہہ چکے ہیں۔ پانامہ کیس کا باب بند نہیں ہو رہا ان حالات میں مسلم لیگ کی حکومت کسی نئے سکینڈل کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ پرانے حج آرگنائزر جو تجربے کی بنیاد پر گزشتہ 10سال سے سعودی حکومت سے تحسین وصول کرتے آ رہے ہیں وہ اپنا حق چھوڑنے کے لئے تیار نہیں ہیں اس لئے کہا جا رہا ہے حج کوٹہ کی دوڑ کے نتیجے میں کسی نئی کمپنی کو کوٹہ ملے نہ ملے حج پالیسی کا اعلان تاخیر کا شکار ہو سکتا ہے۔ سنجیدہ حلقے تجویز دے رہے ہیں۔ حج کوٹہ کی تقسیم کا پنڈورا بکس کھولنے سے پہلے گزشتہ 6سال سے صرف 50افراد کے کوٹہ کے ساتھ کامیابی کے ساتھ حج آپریشن مکمل کرنے کا ریکارڈ بنانے والوں کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے انہی حلقوں نے تجویز دی ہے 36ہزار حج کوٹہ بحال ہوا ہے 2012ء کے معاہدے کے مطابق 36ہزار کو سرکاری اور پرائیویٹ سکیم میں آدھا آدھا تقسیم کر دیا جائے۔

وفاقی وزیر اگر نئی کمپنیوں کو کوٹہ دینا چاہتے ہیں تو سرکاری سکیم کے حصے میں آنے والے 18ہزار افراد کا حج کوٹہ آدھا سرکاری سکیم میں دے دیں اور بقایا کو نئی کمپنیوں اور 50والوں میں تقسیم کر دیں 50افراد والوں کی دو بسوں کا کوٹہ کرنے کی صورت میں ان کی مشکل بھی حل ہو جائے گی اور نئی کمپنیوں کو کوٹہ دینے کی خواہش بھی پوری ہو جائے گی دلچسپ بات معلوم ہوئی ہے ہوپ اور 50افراد کا کوٹہ رکھنے والے نئی کمپنیوں کو کوٹہ دینے کے خلاف نہیں ہیں بلکہ کرائی ٹیریا پر اختلاف رکھتے ہیں کیونکہ سپریم کورٹ کے حکم پر انرول ہونے والی 23سو کے قریب کمپنیوں کی میرٹ لسٹ ترتیب دیتے ہوئے جو نمبرز الاٹ کئے گئے ہیں وہ عمل مشکوک قرار دے دیا گیا ہے وزارت کے ذمہ داران بھی اعتراف کر چکے ہیں اس کے لئے تجویز کیا گیا ہے کہ 23سو انرول کمپنیوں کی قرعہ اندازی کرا دی جائے کامیاب ہونے والوں کو 2006ء کے کرائی ٹیریا کے مطابق قواعد پورے کرنے کے لئے وقت دے دیا جائے اس طرح حج پالیسی بھی تاخیر کا شکار نہیں ہوگی اور سرکاری اور پرائیویٹ سکیم کے درمیان محاذ آرائی بھی ختم ہو جائے گی۔ حج پالیسی سیکشن وزارت مذہبی امور کے ہونہار افسروں مجاہد رانا اور حجاب رضوی نے ملک بھر سے اکٹھی کی گئی تجاویز کو خوبصورت انداز میں کتابی شکل دے دی ہے ایم او یو کی تعلیمات کی روشنی میں حج پالیسی کے نکات کی تیاریاں شروع کر دی گئی ہیں۔ حج پالیسی 2016ء میں بہت سے نکات میں تبدیلی کی ضرورت ہے اپنے اگلے اور آخری کالم میں تفصیل سے لکھوں گا انشاء اللہ۔ (جاری ہے)

مزید : کالم