سی پیک کیخلاف متحرک’’را‘‘ کے 25دہشتگرد گلگت بلتستان سے گرفتار

سی پیک کیخلاف متحرک’’را‘‘ کے 25دہشتگرد گلگت بلتستان سے گرفتار

اسلام آباد(اے این این) دفتر خارجہ نے گلگت بلتستان سے بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ سے تعلق رکھنے والے25دہشتگردوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملزمان سی پیک کیخلاف کام کر رہے تھے ان پر پارا چنار حملے میں ملوث ہونے کا بھی شبہ ہے،اوڑی حملے کے الزام میں گرفتار پاکستانی بچے بے گناہ ثابت ہو چکے،ان کی رہائی کیلئے ہائی کمیشن بھارتی حکام سے رابطے میں ہے،بھارت مقبوضہ کشمیر میں جاری تحریک آزادی کو طاقت کے زور پر روکنے میں کامیاب نہیں ہوگا،عالمی برادری مظالم کا نوٹس لے ،ٹرمپ کے دور میں پاک امریکہ تعلقات مستحکم ہونے کی امید ہے،دہشتگردی عالمی مسئلہ ہے جس سے مل کر نمٹنا ہوگا،پاکستان کا انسداد دہشت گردی کا ٹریک ریکارڈ دوسرے ممالک سے بہتر ہے،افغانستان میں امن وامان کی ابتر صورتحال اور دہشتگردی وہاں کی اندرونی صورتحال کی وجہ سے ہے اسی لئے 15سال سے افغانستان میں فوجی کارروائیوں کا مثبت نتیجہ نہیں نکلا،افغان حکومت کی الزام تراشی اپنی ناکامیاں چھپانے کی کوشش ہے ،سعودی عرب میں دہشت گردی کے الزام میں گرفتار پاکستانیوں کے معاملے سے پوری طرح آگاہ اور سعودی حکام کے ساتھ رابطے میں ہیں۔جمعرات کو دفتر خارجہ میں ہفتہ وار پریس بریفنگ میں ترجمان دفتر خارجہ نفیس ذکریا نے کہا کہ گلگت بلتستان سے بھارتی خفیہ ایجنسی را کے 20 سے 25 دہشت گرد گرفتار کئے گئے ہیں جو سی پیک کے خلاف کام کررہے تھے اور ان ملزمان پر پارا چنار حملے میں بھی ملوث ہونے کا شبہ ہے۔ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جارحیت جاری ہے، آزادی کی جدوجہد کو بھارتی افواج کی جانب سے طاقت کے زور پر روکا جارہا ہے اور طاقت کا اندھا دھند استعمال کیا جارہا ہے وہاں کی حالت بد سے بدتر ہوگئی ہے لیکن کسی ذمہ دار کو قانون کے کٹہرے میں نہیں لایا گیا، عالمی برادری کو چاہئے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی جارحیت کا نوٹس لے۔اڑی حملے کے الزام میں گرفتار پاکستانی بچوں کے حوالے سے ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ حملے کے الزام میں گرفتار ہونے والے مظفرآباد سے تعلق رکھنے والے بچے بے گناہ ہیں اور بھارتی میڈیا بھی اس حوالے سے اعتراف کرچکا ہے کہ بچے کم عمر اور بے گناہ ہیں، نئی دلی میں پاکستانی ہائی کمیشن ان بچوں اور بھارتی حکام سے رابطے میں ہے۔ انہوں نے سعودی عرب میں گرفتار پاکستانیوں کے حوالے سے بتایا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے مابین انسداد دہشت گردی کے حوالے سے میکنزم موجود ہے، سعودی عرب میں دہشت گردی کے الزام میں گرفتار پاکستانیوں کے معاملے سے پوری طرح آگاہ ہیں اور اس حوالے سے سعودی حکام کے ساتھ رابطے میں ہیں۔نفیس زکریا نے کہا کہ افغانستان میں امن وامان کی ابتر صورتحال اور دہشتگردی وہاں کی اندرونی صورتحال کی وجہ سے ہے اسی لئے 15سال سے افغانستان میں فوجی کارروائیوں کا مثبت نتیجہ نہیں نکلا، وہاں کے اندرونی حالات ہی بدامنی کے ذمہ دار ہیں وہاں دہشت گرد عناصر موجود ہیں جن کی نشان دہی بھی کی گئی لیکن افغان حکومت کی جانب سے کوئی کارروئی نہیں کی گئی۔ترجمان دفتر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ افغانستان میں ہونے والی دہشتگردی کا پاکستان سے کوئی تعلق نہیں، افغان حکومت کی جانب سے الزام تراشیوں کے ذریعے ناکامی کو چھپانے کی ناکام کوشش کی جارہی ہے، انہیں اپنا گھر درست کرنا ہوگا، پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں سب سے زیادہ کردارادا کیا اور پاکستان کا انسداد دہشت گردی کا ٹریک ریکارڈ دوسرے ممالک کی نسبت سب سے بہتر ہے، ہم نے افغانستان میں قیام امن کے لیے پہلے بھی کردارادا کیا اورآئندہ بھی افغان امن و استحکام کے لیے پرعزم ہیں، خطے کے لیے افغانستان میں امن انتہائی ضروری ہے، اس کے لیے کئی ممالک مختلف طریقوں سے کوششیں کررہے ہیں۔ترجمان نے وزیراعظم کے ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم میں خطاب نہ کرنے کے حوالے سے بتایا کہ اس حوالے سے گردش کرنے والی خبروں کی تردید آچکی ہے، ایک اخبار میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم نوازشریف دعوت نامے کے بغیر ہی ورلڈ اکنامک فورم میں تھے عالمی اقتصادی فورم کا خط دفترخارجہ کی ویب سائیٹ پر موجود ہے جسے تصدیق کرنی ہے وہاں سے کرلے۔ترجمان نے کہا ہے کہ پاکستان کے امریکہ کے ساتھ دیرینہ تعلقات ہیں اور نئی امریکہ انتظامیہ کے ساتھ کام کرنے کا خواہاں ہے۔ پاکستان اور امریکہ کے درمیان معیشت ، سلامتی ، دفاع ، تعلیم ، سائنسی تحقیق اور دوسرے شعبوں میں تعاون کیلئے تزویراتی مذاکرات کا طریقہ کار موجود ہے۔

دفتر خارجہ

مزید : علاقائی