مقبوضہ کشمیر ہیومن رائٹس وائلیشن کے آئینے میں

مقبوضہ کشمیر ہیومن رائٹس وائلیشن کے آئینے میں
 مقبوضہ کشمیر ہیومن رائٹس وائلیشن کے آئینے میں

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

مقبوضہ کشمیر میں مسلم قیادت پابندِ سلاسل رہتی ہے۔کشمیری لیڈروں کو یا تو گرفتار کر کے قیدوبند کی صعوبت میں ڈال دیا جاتا ہے یا اُنہیں شہید کر دیا جاتا ہے۔شدت پسندہندوؤں کے نزدیک انسانی جان کی کوئی قدروقیمت نہیں۔مو لی گاجر کی طرح مسلمان حریت پسندوں کو کاٹا جارہا ہے۔مولی گاجر کا لفظ تو بھارتی چینل پر سننے کو ملا جسے سن کر نہ صرف میں دم بخود رہ گئی، بلکہ تھوڑی دیر کے لئے سکتے کے عالم میں آگئی۔ متشددومتعصب بھارتی لیڈرتو تمام پاکستانیوں کو بھی مولی گاجر کی طرح کاٹ ڈالنے کے خواہاں ہیں۔ادھرپاکستانیوں کا یہ عالم ہے کہ بھارت جا کر پرفارم کرنے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔لکھاری ،شاعر، سنگیت کار ،اداکار یا کسی بھی شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھتے ہوں۔ بات محض غیرت و حمیت کی ہے، کاش یہ غیرت کا جذبہ ہمارے عوام میں عود آئے۔ وادی ءِ کشمیر جنت نظیر ہے۔ اس جنتِ نظیر کو بھارت نے عملی طور پر اپنے بے تحاشا ظلم و ستم کے ذریعے جہنم میں تبدیل کر رکھا ہے۔حریت رہنمابرہان وانی کی شہادت کے بعدجہاں انقلاب برپا ہوا، وہاں بھارتی ظلم وستم اور جبر و تشدد بڑھ گیا۔شوپیاں میں گھروں کے اندر گھس کر عورتوں کی بے حرمتی کی گئی، ماؤں کے سامنے ان کے بیٹوں کی آنکھوں میں پیلٹگن سے فائرنگ کی گئی، اس پر بھی ظلم یہ کہ ماؤں کو چیخنے اور رونے تک کی اجازت نہ دی گئی۔سفاکیت وبہیمیت کا اس سے بڑھ کر اور ثبوت کیا ہو سکتاہے کہ کشمیریوں کے ساتھ جانوروں سے بھی بد ترین سلوک کیا جاتاہے۔ ننھے ننھے معصوموں پر پیلٹ گن سے فائرنگ کر کے انہیں بینائی سے محروم کر دیا جاتا ہے۔

ہسپتال زخمیوں سے بھرے پڑے ہیں۔ظلم کی انتہا ہے ہسپتالوں سے نرسوں کو گرفتار کر کے لے جایا جاتا ہے، ایمبولینسوں کو روک لیا جاتا ہے،ان پر بمباری کی جاتی ہے۔ انسانی حقوق کی پامالیاں دیکھنی ہیں تو کشمیر جا کر دیکھیں حقوقِ انسانیت اور حقوقِ نسواں کی علمبردار جتنی بھی تنظیمیں ہیں، انہیں کشمیر میں کچھ دکھائی کیوں نہیں دیتا۔

آسیہ اندرابی کا کہنا ہے کہ کشمیر کے مسئلے کو محض ہیومن رائٹس وائلیشن کے آیئنے میں نہ دیکھا جائے، ہیومن رائٹس وائلیشن تو دنیا میں ہر کہیں ہو رہی ہے، جبکہ کشمیر کا مسئلہ سنجیدہ ہے، اسے سنجیدگی سے حل ہونا چاہئے ۔کشمیریوں کے استصواب رائے کو من و عن تسلیم کیا جائے اور پاکستان کو چاہئے کہ وہ اپنی خارجہ پالیسی کی حکمتِ عملی میں تیزی لاتے ہوئے پیش رفت کرے۔ اگر بھارت یہ تسلیم کر لے کہ کشمیر اس کا اٹوٹ انگ نہیں، بلکہ یہ تقسیم کا نامکمل ایجنڈا ہے تو یہ کشمیریوں کے لئے کامیابی کی پہلی سیڑھی ہو گی۔کشمیری آج بھی پاکستان سے محبت کے نتیجے میں اپنی جان ومال وآبرو کی قربانیاں پیش کر رہے ہیں۔ ’’کشمیر بنے گا پاکستان‘‘ کے نعرے ہر سو گونجتے ہیں۔ برہان وانی شہید کے جسدِ خاکی کو پاکستانی پرچم میں دفنایا گیا۔ان کے تابوت کو بھی پاکستانی پرچم لپیٹاگیا۔ تاریخ بتاتی ہے کہکشمیر یوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کی داستان صدیوں پرانی ہے، جب 16مارچ 1846ء میں معاہدۂ امر تسر کے ذریعے گلاب سنگھ نے انگریزوں سے75 لاکھ نانک شاہی میں جموں و کشمیر اور ہزارہ کا علاقہ خرید کرغلام بنایا، جبکہ گلگت، بلتستان، کرگل اور لداخ کے علاقوں پر قبضہ کر کے حکومت قائم کی۔ چونکہ حکمران طبقہ اقلیتی تھا،لہٰذا اس نے اکثریتی طبقے کو دبا کر رکھنے میں ہی عافیت جانی۔ مسلمان تعداد میں کثیر تھے۔ 85فیصد آبادی مسلمانوں کی تھی۔مہاراجہ نے مسلمانوں پر ظلم و ستم کی انتہا کر دی اور ان کو پسماندہ رکھنے کی حتی الوسیع کوشش جاری رکھی، تاہم ڈوگرہ حکمرانوں کے خلاف 1931ء تک کوئی آواز بلند نہ ہو سکی۔ اگرچہ اس دوران مسلمانوں کی نصف درجن سے زائد انجمنیں وجود میں آ چکی تھیں، مگر حکومت کے خلاف علم بلند نہ کر سکیں۔

جدوجہدِ حریت کا آغاز:

ریاست جموں و کشمیر میں جذبۂ حریت درحقیقت 1924ء میں بیدار ہوا، جب سرینگر میں ریشم کے کارخانوں میں کام کرنے والے مزدوروں نے ظلم کے خلاف آواز اُٹھائی۔ بعدِازاں پوری انسانیت نے ان کی تائید کی، اس ضمن میں پوری انسانیت سراپااحتجاج بن گئی۔ڈوگروں نے طاقت کے بل بوتے پر اس تحریک کو کچلنے کی سعی لاحاصل کی۔1947ء میں تقسیمِ ہند کے دوران کشمیر میں مسلمانوں کی اکثریت کے پیشِ نظرکشمیرپاکستان کا حصّہ بننا تھا،مگر ڈوگرہ حکمران نے نہایت چالاکی سے کشمیر کو بھارت کا حصہ بنانے کی غرض سے تاخیری حربے جاری رکھے۔آج یہی تاخیری حربے نریندر مودی بھی استعمال کر رہاہے۔نریندر مودی عالمی کانفرنسوں میں پاکستان کو بدنام کرنے کی کوشش سے بھی گریز نہیں کرتا۔اس سے قبل گوا اور امر تسر میں ہونے والی کانفرنسوں میں بھی نریندر مودی پاکستان کے خلاف زہر اگل چکا ہے ،مگر اسے ہر جگہ منہ کی کھانا پڑی،کیونکہظلم کی رات طویل تو ہو سکتی ہے تا ابد نہیں ۔اب صبح کا سورج طلوع ہوتا صاف دکھائی دے رہا ہے۔ اب بھارتی جارحیت کا بدنما چہرہ بے نقاب ہو رہاہے اور دنیا کے ہر پلیٹ فارم پر مسئلہ کشمیر کا تذکرہ ہو رہا ہے۔بھارت مقبوضہ کشمیر میں نسل کشی او ر ریاستی دہشت گردی کا مرتکب ہے۔مقبوضہ کشمیر میں حریت کے نام پر ہونے والی جدو جہد کو دہشت گردی کا نام دے کر بھارت ساری دنیا کی آنکھوں میں زیادہ دیر تک دھول نہیں جھونک سکتا۔اقوامِ متحدہ کے جنرل سیکریٹری نے مسئلہ کشمیر کے لئے ثالثی کی پیش کش کی ہے۔مشیر خارجہ سر تاج عزیز کو چاہئے کہ موقع کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے کشمیر کی سلامتی وامن اور بقا و عافیت کے لئے اپنے موقف کو واضح و موثر انداز میں پیش کریں۔

بھارت کو بھی چاہئے کہ وہ باعزت طریقے سے کشمیریوں کے حقِ خود ارادیت کو تسلیم کرتے ہوئے ثالثی کی راہ اختیار کرے۔ بھارت اپنے داخلی حالات پر توجہ دے تو زیادہ بہتر ہوگا۔ آئے دن بھارتی فوجیوں کی ویڈیو سوشل میڈیا کے ذریعے منظرِ عام پر آئی ہیں۔ فوجیوں کو بے تحاشا مسائل کا سامنا رہتا ہے۔وہ خوراک، لباس اور زندگی کی دیگر سہولتوں سے بھی محروم ہوتے ہیں ۔فیض احمد فیض فرماتے ہیں:

دل نا امید تو نہیں ، نا کام ہی تو ہے

لمبی ہے غم کی شام، مگر شام ہی تو ہے

وادئ کشمیرکے مظلوم عوام کی قربانیوں نے بالآخر دنیا کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ اس مسئلے کا کوئی واضح اور منصفانہ حل ضرور ہونا چاہئے۔ان شا اللہ2017ء کشمیریوں کا سال ہوگا۔ان کامسئلہ ضرور حل ہو گا۔اہلِ کشمیر کے جذبہء حریت کا ادراک کرتے ہوئے اب بھارت کو جان لینا چاہئے کہ کشمیریوں کے حقِ خود ارادیت کو کچلنا ناممکن ہے۔ بھارت کو چاہئے کہ وہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے مطابق قراردادوں پر عمل پیرا ہو کر کشمیریوں کو استصوابِ رائے کا حق دے دے۔

مزید : کالم