بازیاب ہونیوالا گونگا بہرہ پیش، ماں اور بہنوں پر باپ کے قتل کا الزام

بازیاب ہونیوالا گونگا بہرہ پیش، ماں اور بہنوں پر باپ کے قتل کا الزام

لاہور(نامہ نگارخصوصی ) لاہور ہائی کورٹ میں گزشتہ روز اس وقت عجیب صورتحال پیدا ہوگئی جب عاشق حسین نامی گونگے بہرے لڑکے کو بازیاب کرا کے عدالت میں پیش کیا گیا تو اس نے بھری عدالت میں نہ صرف ماں کے ساتھ جانے سے انکار کر دیا بلکہ ماں اور بڑی بہنوں پر باپ کے قتل کا الزام بھی عائد کر دیا۔جسٹس سید مظاہر علی اکبر نقوی نے عاشق حسین کی ماں شہناز بی بی کی درخواست پر اسے درخواست گزار کی چھوٹی بیٹی فضہ کے گھر سے بازیاب کروایا ۔درخواست گزار خاتون نے موقف اختیار کیا کہ بولنے اور سننے کی صلاحیت سے محروم اس کے بیٹے عاشق حسین کو اس لج بیٹی فضہ نے زبردستی اپنے گھر میں قید کر رکھا ہے، کمرہ عدالت میں موجود نوجوان کی بہن فضہ نے بتایا کہ اس نے اپنے بھائی کو محبوس نہیں کیا بلکہ بھائی خود اس کے پاس رہنا چاہتا ہے،فاضل جج کو اشاروں کی زبان میں نوجوان نے بتایا کہ اس کی ماں نے بڑی بہنوں اور ان کے شوہروں سے مل کر میرے باپ کو قتل کیا ہے، نوجوان نے بتایا کہ جج صاحب مجھے میری ماں کے ساتھ نہ بھجوائیں، میں چھوٹی بہن کے ساتھ جانا چاہتا ہوں، عدالت نے ماں کی بیٹے کی تحویل کے لئے دائر درخواست مسترد کر دی اور نوجوان کو اس کی چھوٹی بہن فضہ کے ساتھ بھیجنے کا حکم دے دیا۔

مزید : صفحہ آخر