مجوزہ انتخابی اصلاحات بل کی بعض شقیںآئین سے متصادم ہیں،کنور محمد دلشاد

مجوزہ انتخابی اصلاحات بل کی بعض شقیںآئین سے متصادم ہیں،کنور محمد دلشاد

اسلام آباد(پ ر) پارلیمانی کمیٹی برائے انتخابی اصلاحات کی رپورٹ کا جائزہ اور انتخابی اصلاحات کا مستقبل کے انتخابات کے حوالے سے نیشنل ڈیموکریٹک فاؤنڈیشن اور پاکستان فریڈم موومنٹ کی مشترکہ گول میز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نیشنل ڈیموکریٹک فاؤنڈیشن کے چیئر مین اور سابق وفاقی سیکریٹری الیکشن کمیشن آف پاکستان کنور محمد دلشاد نے اپنے خطاب میں کہا ہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے آئندہ انتخابات کے لئے بائیومیٹرک سسٹم کو جاری کرنے کا اصولی طورپر فیصلہ کر لیا ہے جو خوش آئند ہے اور اس سسٹم کو اس کی روح کے مطابق اختیار کرنے سے آئندہ انتخابات کے شفافیت میں بہتری آئے گی اور کرپٹ پریکٹس کا دروازہ بند ہو جائے گا، لیکن اس کے لئے ضروری ہے کہ نادرا اور الیکشن کمیشن آف پاکستان میں مربوط طریقہ کار اختیار کیا جائے اور جعلی انگوٹھے کی شناخت سامنے آنے پر متعلقہ افراد کے خلاف جعل سازی کے تحت کاروائی کی جائے۔کنور محمد دلشاد نے اپنے خطاب میں کہا کہ مجوزہ انتخابی اصلاحات بل 2017 کی بعض شقیں آئین کے آرٹیکل 19 سے متصادم ہے جس کے تحت کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال کے مرحلے پر میڈیا اور انتخابی مبصرین کی رسائی پر بھی قدغن لگا دی گئی ہے اور یہ شک ہوتا ہے کہ مجوزہ قانون الیکشن کمیشن آف پاکستان کو اعتماد میں لئے بغیر میڈیا اور الیکشن کمیشن میں خلیج پیدا کرنے کے لئے بنایا گیا ہے جو کہ آئین ، بنیادی حقوق اور جمہوری معاشرے کے منافی ہے، مذکورہ الیکشن بل 2017 کے تحت بعض ایسی شقیں شامل کی گئی ہیں جس سے الیکشن کمیشن کی آزادی و خود مختاری پر زد پڑتی ہے، مجوزہ بل کے تحت الیکشن کمیشن آف پاکستان کے پاس انتخابی اخراجات یا اثاثوں کی تفصیلات میں غلط بیانی پر کسی کو نا اہل قرار دینے کا اختیار نہی رہے گا اور اس مقصد کے لئے الیکشن ایکٹ 240 بھی حذف کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

مزید : صفحہ آخر

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...