قومی اسمبلی قائمہ کمیٹی کا اجلاس، نیشنل بینک بنگلہ دیش میں سکینڈل، نیب کی رپورٹ پر عدم اطمینان، ریفرنس دائر کرنے کا حکم

قومی اسمبلی قائمہ کمیٹی کا اجلاس، نیشنل بینک بنگلہ دیش میں سکینڈل، نیب کی ...

اسلام آ باد ( آ ئی این پی ) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے کمپنیز بل 2016 کی منظوری دے دی،کمیٹی نے نیشنل بینک بنگلہ دیش میں 18 ارب روپیہ کے سکینڈل کی نیب کی رپورٹ پر عدم اطمینان اور برہمی کا اظہار کیا اور نیب کو ریفرنس دائر کرنے کے لئے ایک ما ہ کا وقت دے دیا، کمیٹی نے جائیداد کی قیمتوں کا جائز ہ لینے کیلئے ذیلی کمیٹی تشکیل دیدی،چیئر مین ایف بی آر نے کمیٹی کو آ گا ہ کیا کہ جائیداد کی قیمتیں اتفاق رائے سے مقرر کیں تھیں،بار بار جائیداد کی قیمتوں پر نظرثانی سے منفی اثر پڑے گا،چیئر مین کمیٹی قیصر ا حمد شیخ اجلاس میں ایس ای سی پی حکام پر برہمی کا اظہار کیا،قیصر ا حمد شیخ نے کہاکہ ایس ای سی پی کو خود پتہ نہیں کمپنیز آرڈیننس کیا ہے اور کمیٹی کو بریفنگ کیلئے آگئے ہیں۔ گزشتہ روز قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس کمیٹی چیئرمین قیصر احمد شیخ کی صدارت میں ہوا۔کمیٹی نے نیشنل بینک بنگلہ دیش میں 18 ارب روپیہ کے سکینڈل کی نیب کی رپورٹ پر برہمی کا اظہار کیا۔ چیئرمین کمیٹی قیصر احمد شیخ نے کہاکہ اتنا وقت لے کر ایک صفحہ کی رپورٹ لے آ ئے ہیں ۔جو رپورٹ لاے ہیں اس میں بھی کچھ خاص نہیں ۔دو سال سے کمیٹی تحقیقات کر رہی ہے مگر ابھی تک نیب ریفرنس دائر بھی نہیں کر رہا ۔کمیٹی نے نیب کو ریفرنس دائر کرنے کیلئے ایک ماہ کا وقت دے دیا ۔ اجلاس میں نیشنل بینک بنگلہ دیش میں اٹھارہ ارب پچاس کروڑ کے فراڈ معاملہ پر غور کیا گیا۔ نیب حکام نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ کیس کی انکوائری مکمل ہے اسکی ڈرافٹنگ باقی ہے۔ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس کے بعد ریفرنس کی منظوری دے دی جا ئے گی۔کمیٹی نے بنگلہ دیش نیشنل بینک سکینڈل میں ریفرنس کیلئے نیب کو ایک ماہ کا وقت دے دیا ۔کمیٹی رکن میاں عبدالمنان نے کہا کہ نیشنل بینک سکینڈل 18ارب 50 کروڑ کا نہیں بلکہ 80ارب روپے کا لگتا ہے۔ نیشنل بینک سکینڈل میں ملوث افراد امریکہ میں بڑے بڑے بنگلوں میں رہائش پذیر ہیں۔ چیئر مین کمیٹی قیصر ا حمد شیخ اجلاس میں ایس ای سی پی حکام پر برس پڑے۔قیصر ا حمد شیخ نے کہاکہ آپ کو پتہ ہی نہیں کہ کمپنیز آرڈیننس میں کیا ہے۔ایس ای سی پی کو خود پتہ نہیں اور کمیٹی کو بریفنگ کیلئے آگئے۔مجوزہ بل میں بیرون ممالک میں اپنے اثاثہ ظاہر کرنے کی شرط صرف پاکستانی کمپنیز پر ہے ۔کمیٹی میں پبلک سیکٹر کی کمپنیز کے چیف ایگزیکٹو کو ہٹانے اختیار کا جائزہ لیاجا رہا ہے ۔ ایس ای سی پی حکام نے کمیٹی کو آگا ہ کیا کہ صرف اسی صورت سی ای او کو ہٹایا جا سکتا ہے جب مفادات کا معاملہ ہو۔ اجلاس میں پراپرٹی پر ٹیکسز کا معاملہ پر غور کیا گیا۔کمیٹی کو آ گا ہ کیا گیا کہ چھ ماہ میں زمینوں کی لین دین سے سات ارب تیس کروڑ روپے روپے کا ٹیکس ملا۔گزشتہ سال اسی عرصے میں اس مد میں ساڑھے چار ارب روپے حاصل ہوئے تھے۔ ارکین کمیٹی نے کہاکہ کراچی میں ایف بی آر نے صنعتی زمین کی مالیت مارکیٹ ویلیو سے بھی زیادہ مقرر کی ۔کمیٹی نے جائیداد کی قیمتوں کا جائز ہ لینے کیلئے ذیلی کمیٹی تشکیل دیدی۔ رئیل سٹیٹ نمائندگان نے کمیٹی کو آ گا ہ کیا کہ کراچی میں ایک ہاؤسنگ سوسائٹی کیلئے ایف بی آر نے مارکیٹ سے بھی زیادہ قیمتیں مقرر کیں۔

مزید : صفحہ آخر