مجوزہ ترمیمی ڈرگ ایکٹ فارما سیوٹیکلز کیلئے زہر قاتل ثابت ہو گا: جوائنٹ ایکشن کمیٹی، قانون ہر صورت آئے گا: محکمہ صحت پنجاب

مجوزہ ترمیمی ڈرگ ایکٹ فارما سیوٹیکلز کیلئے زہر قاتل ثابت ہو گا: جوائنٹ ایکشن ...

لاہور(جاوید اقبال،بلال چوہدری)محکمہ صحت پنجاب کی طرف سے مجوزہ ترمیمی ڈرگ ایکٹ فارما سیوٹیکل انڈسٹری کیلئے زہرقاتل ثابت ہو گا۔ادویات کی رجسٹریشن اور لائسنسنگ کیلئے دنیاسنٹرل پالیسی پر عمل پیرا ہے مگر پنجاب اپنا ترمیمی ڈرگ ایکٹ لا کر ملک کو مختلف حصوں میں تقسیم کرنا چاہتا ہے جس کو کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا ،حکومت نے مجوزہ ڈرگ ایکٹ زبر دستی لاگو کیا تو پورے صوبے میں شٹر ڈاؤن ہو گا ۔فارما سیوٹیکل انڈسٹری ،فارمیسیوں ،میڈیکل سٹورز اورمیڈیکل ڈسٹری بیوٹرز اس احتجاجی تحریک میں شامل ہوں گے اور تمام فیکٹریاں اور مذکورہ میڈیسن کی سیلز پر چیز کی خریداری آئندہ ہفتے سے بند کر دیں گے،ترمیمی ڈرگ ایکٹ بناتے وقت سٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں نہیں لیا گیا ۔پنجاب حکومت ایسے اقدامات نہ کرے جس سے میڈیسن انڈسٹری تباہ ہو جائے اور دوسری طرف بے روز گاری عام ہو جائے یا پھرمیڈیسن سے وابستہ لوگ پنجاب میں کاروبار بند کر کے دوسرے صوبوں میں منتقل ہو جائیں۔ اس امر کا اظہار گزشتہ روز روزنامہ پاکستان میں منعقدہ ایک مذاکرہ میں فارما سوٹیکل انڈسٹری کی طرف سے قائم کی گئی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں نے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔اظہار خیال کرنے والوں میں پاکستان فارما سیوٹیکل مینو فیکچرنگ ایسوسی ایشن اور جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے چیئر مین حامد رضا ،وائس چیئر مین ڈاکٹر ریاض احمد ،ہو میو پیتھک ایسوسی ایشن کے رہنما ڈاکٹر امان اللہ بسمل ،ڈاکٹر سیف الرحمن ،ڈاکٹر عون محمد ،پاکستان طبی فارماسوٹیکل مینو فیکچرنگ ایسوسی ایشن کے سیکرٹری جنرل محمد عمران مسعود ،پنجاب کیمسٹ کونسل کے رہنما ریاض ملک ،ایچ پی سی اے کے صدر ڈاکٹر عابد فاروق ،پنجاب کیمسٹ کونسل کے سیکرٹری جنرل سلیم شیخ شامل تھے جبکہ محکمہ صحت کی نمائندگی ایڈیشنل سیکرٹری ڈرگ کنٹرول محمد سہیل اور چیف ڈرگ کنٹرولر پنجاب ڈاکٹر ذکاء الرحمن نے کی ۔دونوں افسروں نے محکمہ صحت کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ قانون ہر صورت آئے گا ،لاگو بھی ہو گا اور عمل درآمد بھی کروائیں گے ۔پنجاب حکومت کو عوام کی صحت عزیز ہے ۔سندھ ،کے پی کے ،بلوچستان 1976کے ڈرگ ایکٹ میں ترامیم نہیں کرتے تو یہ ان کا مسئلہ ہے ۔پنجاب میں صحت حکومت کی پہلی ترجیح ہے ۔جعلی و غیر معیاری ادویات کا ہر صور ت خاتمہ کریں گے اور ترمیمی ایکٹ پنجاب اسمبلی پاس کرے گی جس کو بہت جلد پیش کر دیا جائے گا۔وہاں عوام کے نمائندے موجود ہیں وہ پاس کریں یا مسترد کسی ایسوسی ایشن کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ قانون آنے سے پہلے ہی احتجاج شروع کر دیں ۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے چیئر مین حامد رضا نے کہا کہ 2015سے ہی خدشات لاحق ہو گئے تھے جب ڈرگ ایکٹ 1976میں ترامیم کرکے لاگو کیا گیا تھا۔ادویات بنانے کا طریقہ ،فارمولا اور اس کے قوانین انٹر نیشنل معیار کے ہونے چاہیں ۔تمام ادویات کی معلومات اور ان کے طریقہ تیاری انٹر نیشنل طور پر موجود ہیں ان پر عمل کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ نئے ڈرگ سے سب سٹینڈرڈ ڈرگز کو بھی جعلی ڈرگز کی کیٹگری میں ڈالا جا رہا ہے اور دوسری جانب اس کو سول لاء کی بجائے کریمنل لاء کے طور پر لیا جا رہا ہے جس پر ایف آئی آر فوری طور پر درج کی جا رہی ہے جو کہ نا مناسب ہے ۔حکومت کے ان ہی اقدامات کی وجہ سے افغانستان،فلپائن اور دیگر ممالک نے ہماری ڈرگز کو امپورٹ کرنا بند کر دیا ہے اور ہماری کمپنیوں پر پابندی لگا دی ہے۔ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ اگر موجود قانون پر عمل کروایا جائے تو جعلی ادویات بنانا نا ممکن ہو جائے گا لیکن اس پر عملدرآمد کی بجائے حکومت نیا قانون لا کر ہمارا معاشی قتل کرنا چاہتی ہے۔اسی طرح سے کمپنی کی جانب سے کسی دوائی کے سب سٹینڈرڈ ہونے کی صورت میں اس کو مارکیٹ سے ری کال کر لیا جاتا ہے لیکن اس کو پکڑ کر ہی ہمارے اورپر مقدمات کا اندراج کیا جا رہا ہے جو کہ سراسر زیادتی ہے۔پنجاب بھر میں ادویات انٹر نیشنل قوانین کے تحت بن رہی ہیں لیکن یہاں پر انٹر نیشنل قوانین کے تحت مینوفیکچررز اینڈ ری ٹیلرز کے خلاف کارروائی نہیں ہو رہی بلکہ قانون خود بنائے جا رہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ اگر ڈرگ مینو فیکچرنگ لائسنس ہر صوبہ میں لاگوہوا تو صوبوں میں ہونیوالی باہمی ٹریڈ متاثر ہو گی جبکہ حکومت کی ان ہی پالیسیوں کی وجہ سے ملک کی کل ایکسپورٹ 25بلین ڈالر سے کم ہو کر 21بلین ڈالر رہ گئی ہیں جبکہ بھارت میں ڈرگ مینو فیکچرنگ انڈسٹری کی ایکسپورٹ 20بلین ڈالر ہیں۔انہوں نے تجویز دی کی ملک بھر میں ڈرگ کے قوانین کو سنٹرلائز کیا جائے کیونکہ پورے ملک کیلئے ایک ہی قانون ہونا چاہیے اس کے علاوہ ہمیں پیکس کا ممبر بننا چاہیے تاکہ دنیا کے دیگر 64مما لک جو اس کے ممبر ہیں ان کو ہم ایکسپورٹ کر سکیں ۔اس کے علاوہ نئے فارماسسٹس کی ٹریننگ کا طریقہ تبدیل کیا جائے اور پریکٹیکل ٹریننگ کورس کا لازمی جزو بنایا جائے تاکہ جب وہ فیلڈ میں آئیں تو انہیں ہر چیز کی سمجھ بوجھ ہو۔انہوں نے کہا کہ پچھلے سال کئے جانے والے پنجاب بھر میں 690 چھاپوں میں کسی ایک بھی ڈرگ انسپکٹرز جعلی ادویات پکڑنے میں ناکام رہے ہیں البتہ قوانین کی خلاف ورزی پر فیکٹریاں سیل کی گئی ہیں جو کہ نا انصافی ہے۔پنجاب حکومت کی جانب سے بنائے جانے والا ہر قانون صرف لاہور کی چار سڑکوں پر ہی لاگو کیا جاتا ہے جہاں پر ڈرگ مینو فیکچرنگ فیکٹریاں ہیں ۔ایکشن کمیٹی کے وائس چیئر مین ڈاکٹر ریاض احمد نے کہا کہ نئے قانون میں جرمانہ کے ساتھ ساتھ قید لازم قرار دی جا رہی ہے جو کہ درست نہیں ہے۔کسی بھی کمپنی کے چیف ایگزیکٹو کا نام ایف آئی آر میں نہیں آنا چاہیے ۔جن لوگوں کی ذمہ داری پر کمپنی کو لائسنس جاری کیا گیا ہو صرف ان لوگوں کے خلاف ایف آئی آر درج کی جانی چاہیے ۔یہ قانون پنجاب بھر میں فارما سیوٹیکل انڈسٹری کو بند کر دے گا۔پاکستان میں کوئی فارما کوبیا نہیں ہے لہٰذاحکومت کو بے مقصد قوانین بنانے کی بجائے فارما کوبیا بنانا چاہیے۔اس کے علاوہ ڈرگ ایکٹ کو سول لاء بنانا چاہیے کیونکہ یہ پوری دنیا میں سول لاء ہے صرف پاکستان اور بنگلہ دیش میںیہ کریمنل لاء ہے۔انہوں نے کہا کہ پنجاب میں 289فیکٹریوں کے لئے یہ نیا ڈرگ ایکٹ بنایا گیا ہے ۔اس ایکٹ کی وجہ سے لوگ اس شعبہ کو چھوڑ کر کوئی نیا کام کرنے کیلئے سوچنے پر مجبور ہو گئے ہیں ۔ڈاکٹر محمدعابد نے کہا کہ ہومیو پیتھک انڈسٹری کو ریگو لر کیا جا رہا تھا کہ اسی دوران کارروائیوں کا سلسلہ شروع کر دیا گیاجبکہ ریگو لر ہونے کے لئے بھی نہایت سخت شرائط رکھی گئی ہیں جن کو پورا کرنے کے لئے بہت زیادہ سرمایہ کی ضرورت ہے۔حکومت کو چاہیے کہ تمام سٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر ایس او پیز بنائیں تاکہ سرمایہ کار میڈیسن کی فیلڈ کو چھورنے کی بجائے اس کو ترقی دینے کے بارے میں سوچیں۔ریاض ملک کا کہنا تھا کہ میڈیکل سٹورز پر Gشیڈول لاگو کرنا چاہتے ہیں اور Bکیٹیگری کے میڈیکل سٹورز کو بھی شدید مشکلات کا سامنا ہے اور ان کو بھی بند کیا جا رہا ہے، پنجاب بھر میں 50ہزار سے زائد Bکیٹگری کے میڈیکل سٹورز ہیں اور ان کے بند ہونے سے لاکھوں لوگ بے روزگار ہو جائیں گے اوراگر ایسا ہوا تو ہمارے پاس سڑکوں پر آنے کے بجائے کوئی حل نہیں ہو گا جبکہBکیٹیگری کے ہزاروں لائسنس منسوخ کرنا سراسر زیادتی ہے۔ڈاکٹر عمران مسعود اور محمد عمران مسعود کا کہنا تھا کہ پی ٹی ایم اے طبی ادویات بنانے والوں کی نمائندہ تنظیم ہے ۔ہماری ادویات ڈرگ ایکٹ اور ڈریپ کے تحت نہیں ہیں کیونکہ یہ فارما سیوٹیکل نہیں ہیں لیکن ان کی فیکٹریوں کو بھی بند کیا جا رہا ہے جو کہ خلاف ضابطہ اور سراسر نا انصافی ہے۔200سال سے چلنے والی دوائیوں کو جعلی قرار دے کربند کر دیا گیا ہے جو کہ زیادتی ہے۔ہر ڈرگ ریگو لیٹری اتھارٹی میں پنجاب کی نمائندگی کرنے والے افراد شامل ہونے چاہیں۔ ایڈیشنل سیکرٹری ڈرگ کنٹرول محمد سہیل نے سوالات کے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ڈرگ ایکٹ ابھی منظورنہیں ہوا ہے۔ڈرگ کے حوالے سے تمام تر چیزیں یو نیورسل ہیں ۔حکومت پنجاب کا کام اپنے عوام کی صحت کا خیال رکھنا ہے اگر ہمیں کسی طرح سے جعلی ادویات یا ایسے عوامل کا پتہ چلے گا جو کہ عوام کی صحت کیلئے نقصان دہ ہوں تو ان کے خلاف قانون سازی کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے جو کہ حکومت ہر صورت کر کے رہے گی۔انہوں نے کہا کہ صوبوں کے مابین تجارت اور باہمی رابطوں کو بحال رکھنے کے لئے تمام تر اقدامات کر لئے گئے ہیں اور نئے ایکٹ سے ان پر کوئی اثر نہیں ہو گا۔ادویات کے خراب ہونے کی صورت میں اس کے ری کال کا سسٹم مینو فیکچرر نے کرنا ہے ۔ہمیں اس حوالے سے کوئی شکایت ملی تو ہم کارروائی کریں گے۔انہوں نے کہا کہ بعض ڈرگ انسپکٹر نا اہل ہیں اور یہ بات ماننے کو تیار ہوں لیکن فیکٹریوں میں بنیادی صفائی کے انتظامات اورمطلوبہ سٹاف ہی نہ ہو تو ایسی صورت میں ادویات کی جانچ پڑتال کرنے سے پہلے ہی ان کی غلطی سامنے آ جاتی ہے اور ان کو سیل کر دیا جاتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ڈرگ کوالٹی کنٹرول بورڈ کے ممبران میں 11افرادشامل ہیں جو کہ پروفیشل پروفیسرز ،ڈاکٹرز ہیں اور عوام کی زندگیاں اسی فیلڈ میں گزری ہیں ان سے ہی ڈرگ کوالٹی کے حوالے سے ایس او پیز بنائے گئے ہیں اور بہت جلد ہی اس بورڈ کے ممبران کی تعداد 18کر دی جائے گی۔جس میں طب ،ہومیو پیتھک اور سٹنٹس کے ماہرین کو بھی شامل کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ اگر کوئی مینو فیکچرر اپنی دوائی پرائمری یا سکینڈری سٹینڈرڈ کے مطابق نہیں تیار کر سکتا تو یہ سب سٹینڈرڈ ہے اور اس کو بند کیا جائے گا۔کمپنیاں اپنا خام مال تول کر ڈبوں میں خریدتی ہیں اور صفائی و حفظان صحت کے قوانین کا وہاں کوئی خیال نہیں رکھا جا سکتا لیکن کوالٹی نہ ہونے پر ان کو سیل کر دیا جاتا ہے لہٰذا اس عمل میں انسپکٹرز کی نا اہلی کا کوئی ثبوت نہیں اگر کوئی عام شخص بھی فیکٹریوں میں جا کر صفائی کی صورتحال دیکھے تووہ ان کو سیل کر سکتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ گرفتاریاں اور ایف آئی آرز قانون کے مطابق ہو رہی ہیں جو کمپنیاں غیر رجسٹرڈ ہیں ان کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے۔میڈیکل سٹورز جو کہ Bکیٹگری میں ہیں ان سے متعلق 2007میں قانون سازی کی گئی ان کو 10سال کا وقت دیا گیا تھا اگر کسی نے اپنے سٹور کر کیٹگری A میں تبدیل نہیں کیا تو وہ اس کی غلطی ہے ان کو وقت دیا گیا تھا۔انہوں نے کہا کہ ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹریوں کو جلد ہی اعلیٰ معیار پر کر دیا جائے گا۔چیف ڈرگ کنٹرولر پنجاب ڈاکٹر ذکاء الرحمن کا کہنا تھا کہ قانون کے مطابق دستاویزات فراہم نے کرنے کے سبب مینو فیکچررز کو لائسنس نہیں دیا جاتا ۔انٹر نیشل سٹینڈرڈز فالو کئے جا رہے ہیں اس لئے اس حوالے سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ نئے ایکٹ کا ڈرافٹ جلد ہی منظر عام پر آ جائے گا ۔انہوں نے مزید کہا کہ مینو فیکچرنگ ایسوسی ایشن کے مسائل نا مناسب ہیں کیونکہ انہوں نے نئے ڈرگ ایکٹ کو پڑھا ہی نہیں جبکہ نئے ڈرگ ایکٹ میں ایسی کوئی چیز نہیں جو عوامی فوائد میں نہ ہو۔

مزید : صفحہ آخر

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...