صوبائی انصاف کمیٹی کا پہلا اجلاس، لاء ریفارمز کے بغیر قوانین اور نظام سب رائیگاں جائیگا: چیف جسٹس

صوبائی انصاف کمیٹی کا پہلا اجلاس، لاء ریفارمز کے بغیر قوانین اور نظام سب ...

لاہور(نامہ نگارخصوصی )چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ مسٹر جسٹس سید منصور علی شاہ نے کہا ہے کہ ہمارا مقصد کریمینل اور سول جسٹس سسٹم کو بہتر بنانا اور لوگوں کے اعتماد میں اضافہ کرنا ہے جس کے لئے تمام متعلقہ اداروں کی کارکردگی ، ڈیٹا بیس سسٹم اور احتساب کے عمل کو بہتر بنانا ضروری ہے۔ ہمیں یہ بھی دیکھنا ہے کہ ہمارے دیگر اسٹیک ہولڈرز کے کیا مسائل ہیں اور ان کو کیسے حل کیا جاسکتا ہے،انہوں نے ان خیالات کا اظہار پروونشل جسٹس کمیٹی کے پہلے اجلاس سے خطاب کے دوران کیا،یہ اجلاس لاہور ہائی کورٹ کے لائبریری ہال میں منعقد ہوا جس میں سینئر ترین جج مسٹر جسٹس شاہد حمید ڈار، مسٹر جسٹس محمد یاور علی، مسٹر جسٹس محمد انوار الحق، مسٹر جسٹس سید محمد کاظم رضا شمسی، مسٹر جسٹس امین الدین خان، رجسٹرار سید خورشید انور رضوی، ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج لاہور عابد علی قریشی نے شرکت کی جبکہ حکومت کی جانب سے وفاقی سیکرٹری لاء اینڈ جسٹس کمیشن آ ف پاکستان(سیکرٹری صوبائی انصاف کمیٹی) ، صوبائی سیکرٹری داخلہ، سیکرٹری پراسیکیوشن، سیکرٹری قانون، آئی جی پنجاب پولیس ، ایڈووکیٹ جنرل پنجاب اور ڈائریکٹر جنرل اینٹی کرپشن پنجاب بھی شریک ہوئے ۔اجلاس سے خطاب کر تے ہوئے چیف جسٹس سید منصور علی شاہ نے کہا کہ صوبائی انصاف کمیٹی کا یہ پہلا اجلاس ہے اور اس کا اجلاس مہینے میں ایک بار ہوگا، جس میں کمیٹی کے روڈ میپ کا تعین کیا جائے گا، چیف جسٹس نے کہا ہمیں کمیٹی میں مزید اسٹیک ہولڈرز کو بھی شامل کر نا ہے تاکہ کمیٹی کے کام کو بہترین انداز میں چلایا جا سکے اور صوبے کی عوام کو معیاری انصاف کی بروقت فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے سینئر ترین جج شاہد حمید ڈا رنے کہا کہ بد قسمتی سے ہمارے تفتیشی ادارے اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کر رہے جس کی وجہ بیشتر مجرم سزا سے بچ جاتے ہیں ، انہوں نے کہا کہ کرپشن، فوجداری سمیت دیگر مقدمات میں سے 99 فیصد مقدمات میں تفتیشی افسران کی نا اہلی دیکھنے کو ملتی ہے۔ جسٹس محمد انوار الحق نے کہا کہ صوبائی انصاف کمیٹی جیسا فورم پہلے موجود نہیں تھا، ہمیں اس فورم سے بھرپور فائدہ اٹھانا ہوگا، انہوں نے کہا کہ ہمیں ضرورت ہے کہ تمام سٹیک ہولڈرز بیٹھ کر جوڈیشل سسٹم میں موجود خامیوں کی نشاندہی کریں اور بہتری کیلئے پالیسی بنائیں، انہوں نے کہا کہ ہمیں لاء ریفارمز پر کام کرنا ہوگا، قوانین اور سسٹمزکی تبدیلی تک سب رائیگاں جائے گا، انہوں نے کہا کہ افراد کی کوتاہیاں اپنی جگہ لیکن قوانین میں موجود خومیوں کو دور کرنا بہت ضروری ہے۔سیکرٹری داخلہ، سیکرٹری پراسیکیوشن اور آئی جی پنجاب نے فاضل جج صاحبان کو کریمینل جسٹس سسٹم کی بہتری کے لئے اٹھائے جانے والے اقدامات سے متعلق تفصیلاََ بریفنگ دی، ان کا کہنا تھا کہ فوٹو گرافس اور فنگر پرنٹس ڈیٹا کی بنیاد پر جرائم پیشہ افراد کی گرفتاریوں میں اضافہ ہوا ہے۔

کمیٹی ،پہلا اجلاس

مزید : صفحہ آخر

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...