مسئلہ کشمیر پر سیاست کے بجائے حقیقی اتحاد قائم کیا جائے: سیاسی و مذہبی رہنما

مسئلہ کشمیر پر سیاست کے بجائے حقیقی اتحاد قائم کیا جائے: سیاسی و مذہبی رہنما

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر)پاکستان کی مذہبی، سیاسی و کشمیری جماعتوں کے قائدین، ماہرین قانون اور دانشور وں نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر پر پوری قوم ایک ہے‘ اس پر سیاست کی بجائے حقیقی اتحاد قائم کیا جائے جو کشمیریوں کی مدد کیلئے تیار نہیں اس پر سیاست کے دروازے بند کردینے چاہئیں، مسئلہ کشمیر حل کئے بغیر بھارت سے مذاکرات اور تجارت تحریک آزادی کشمیر سبوتاژ کرنے کے مترادف ہے، خون کے آخری قطرہ تک آزادی کشمیر اور تکمیل پاکستان کی جدوجہد جاری رکھیں گے، سیاسی جماعتیں کشمیر کو اپنے منشور میں شامل کریں، چکوٹھی کے راستہ کشمیریوں کیلئے راشن کے ٹرک بھجوائے جائیں، وزیر اعظم نواز شریف بھی 2017ء کو کشمیر کا سال قرار دیں،نریندر مودی کو کشمیریوں کی مدد کیلئے پیش کشیں کرنے کا کوئی حق نہیں‘ وزیر اعظم مقبوضہ کشمیر کے شہداء کیلئے فی کس پانچ لاکھ روپے امداد کا اعلان کریں، کشمیریوں کو دل سے پاکستانی تسلیم کریں اور پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلا کر قائد کے فرمان کشمیر پاکستان کی شہ رگ‘ کو قومی موقف قرار دیاجائے،کراچی سے پشاور تک اور گلگت بلتستان و آزادکشمیر میں بڑے جلسے، کانفرنسیں اور کشمیر کارواں ہوں گے،اسلام آباد میں او آئی سی کا اجلاس بلایا جائے۔ان خیالات کااظہار دفاع پاکستان کونسل کے چیئرمین مولانا سمیع الحق، پروفیسر حافظ محمد سعید، سینٹر سراج الحق،سردار عتیق احمد خاں، شاہ زین بگٹی، شیخ رشید احمد، مولانا عبدالعزیز علوی، غلام محمد صفی، اجمل خاں وزیر، سینٹر محمد علی درانی،یوسف نسیم، جمشید احمد دستی،مولانا فضل الرحمن خلیل، پروفیسر حافظ عبدالرحمن مکی، علامہ ابتسام الہٰی ظہیر، سید ضیاء اللہ شاہ بخاری، عبداللہ گل،جے سالک، احمد رضا قصوری، مولانامحمد امجد خاں ، قاری یعقوب شیخ،سردار گوپال سنگھ چاولہ، بیرسٹر خالد خورشید، سیدحفیظ الدین ایڈو کیٹ ،رضیت باللہ، حافظ خالد ولید، جمیل احمد فیضی ایڈووکیٹ ودیگر نے تحریک آزادی جموں کشمیر کی قومی مجلس مشاورت سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔دفاع پاکستان کونسل کے چیئرمین مولانا سمیع الحق نے کہاکہ اسلام سلامتی اور امن کا دین ہے‘ نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے اسلامی دہشت گردی کالفظ استعمال کرناناقابل برداشت ہے۔ مسلم حکمران دین اسلام اور مسلمانوں کے تحفظ کیلئے مشترکہ پالیسیاں ترتیب دیں اور واضح پیغام دیا جائے کہ اسلام اور شعائر اسلامی کی توہین کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔امیر جماعۃالدعوۃ پاکستان پروفیسر حافظ محمد سعید نے کہاکہ جو دل آج کشمیر کیلئے نہیں دھڑکتا ہم سمجھتے ہیں کہ وہ اسلامی حمیت سے خالی ہے۔ہم نے 2017ء کو کشمیر کے نام کرنے کا اعلان کیاہے۔ہمیں صرف یہ بات ہی نہیں عملی طور پر کوششیں کرنی ہیں اور حکومت پر دباؤ بڑھانا ہے کہ وزیر اعظم نواز شریف بھی اسے دل سے تسلیم کریں اور ا س سال کو کشمیر کا سال بنائے۔ مودی ناراض ہوتا ہے تو ہو جائے۔ ٹرمپ کو بھی آپ خوش نہیں کر سکتے۔ یہ قرآن کہتا ہے کہ وہ راضی نہیں ہوں گے ہمیں کشمیریوں کے ساتھ کھڑا ہونا ہے۔ ہمیں قائداعظم کے فرمان کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اسے قومی موقف اپنانا ہے۔حکومت اپنی ذمہ داری ادا کرے۔ جو لوگ بھی کشمیر میں شہید ہوئے ان کی مدد کریں۔ مودی کوکشمیریوں کی مدد کی پیشکشیں کرنے کا کوئی حق نہیں پہنچتا وہ تو قاتل ہے۔ وزیر اعظم نواز شریف اعلان کریں کہ جو کشمیری شہید ہوتا ہے ان کیلئے پانچ لاکھ روپے امداددیں گے۔جماعت اسلامی کے امیر سینٹر سراج الحق نے کہا کہ مسئلہ کشمیر پر او آئی سی کا اجلاس اسلام آباد میں بلایا جائے۔کشمیر کے بغیر مذاکرات ،تجارت کشمیر کی تحریک کو سبوتاژ کرنے کے مترادف ہے۔کشمیریوں کو تقسیم کرنے کی سازشیں ہو رہی ہیں ایسا نہیں ہونا چاہئے‘ اس سے بین الاقوامی سطح پر کشمیر کا کیس کمزور ہو جائے گا۔سابق وزیر اعظم آزاد کشمیر سردار عتیق احمد خاں نے کہاکہ سیاسی ومذہبی جماعتوں کو چاہیے کہ وہ کشمیر کو اپنے منشور میں شامل کریں۔ الگ الگ کشمیرپالیسی نہیں ہونی چاہیے۔ جمہوری وطن پارٹی کے چیئرمین شاہ زین بگٹی نے کہاکہ کشمیر کا مسئلہ بہت پرانا ہے دنیا اس سے واقف ہے لیکن ہمارے حکمرانوں کو کشمیر کی پرواہ نہیں۔ حکومت کو کشمیر کیلئے کھڑاہونا چاہیے۔عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نے کہا کہ کشمیر کی جدوجہد آزادی کے لئے تمام سیاسی پارٹیوں کو ساتھ ملانا چاہئے۔کشمیر کے مسئلہ پر تمام سیاسی جماعتوں کو متحد کر کے ’’چارٹر آف فریڈم آف کشمیر ‘‘ پیش کریں جو زیادہ سے زیادہ چھ سے سات نکات شامل کئے جائیں۔تحریک آزادی جموں کشمیر کے چیئرمین مولانا عبدالعزیز علوی نے کہاکہ کشمیری قیام پاکستان سے قبل الحاق پاکستان چاہتے تھے۔ وہ بھی اپنے سینوں پر گولیاں کھاتے ہوئے اسی نظریہ پر قائم ہیں اور پاکستانی پرچم لہرا رہے ہیں۔ کشمیری تھکے نہیں ہیں بلکہ میدانوں میں غاصب بھارتی فوج کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ حریت کانفرنس آزادکشمیرکے کنوینرغلام محمد صفی نے کہا کہ کشمیری عوام ،حریت رہنماؤں کی جانب سے حافظ محمد سعید کا شکریہ ادا کرتاہوں کہ قومی مجلس مشاورت کا اہتمام کیا۔2017کو کشمیر کا سال قراردینے اور عملا آزادی کیلئے بات ہوئی۔ مسلم لیگ(ق) کے سینئر نائب صدر اجمل خان وزیر نے کہا کہ پاکستان کو لیڈر شپ کی کمی ہے،وزیراعظم کو استعفیٰ دینا چاہئے کیونکہ وہ عوام کی توقعات پر پورا نہیں اتر رہے۔حکومت کی ترجیح کشمیر نہیں بلکہ تجارت ہے۔ملک کو لوٹنے والے حکمران بنے ہوئے ہیں اور محب وطن مذہبی جماعتوں پر انگلیاں اٹھائی جاتی ہیں۔پارٹیوں سے بالا ترہو کرکشمیر کے حوالہ سے ذمہ داری ادا کریں۔سابق وفاقی وزیر اور مسلم لیگ فنکشنل کے جنرل سیکرٹری سینیٹرمحمد علی درانی نے کہا کہ 2017میں پانچ فروری کو جوائنٹ سیشن ہونا چاہے جس میں وزیر اعظم کو قوم سے خطاب اور کشمیریوں کو بھر پور حمایت کا یقین دلانا چاہئے۔پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں کو اپنا منشور دوبارہ لکھنا چاہئے اور اس میں کشمیر کو لازمی شامل کرنا چاہئے،بھارت سے تجارت صرف اور صرف آزادی کشمیرپر ہو نی چایئے۔حریت کانفرنس کے مرکزی رہنما سید یوسف نسیم نے کہا کہ کشمیریوں کا پاکستان کے ساتھ ایمان کا رشتہ ہے۔کشمیری مسلم امہ کے لئے پاکستان کو ایک طاقتور ملک دیکھنا چاہتے ہیں۔ رکن قومی اسمبلی جمشیداحمد دستی نے کہا کہ حکمرانوں کا ایجنڈا اور پالیسیاں پاکستان کے خلاف ہیں، کشمیر آزاد ہو گا۔انصار الامۃ کے امیر مولانا فضل الرحمان خلیل نے کہا کہ کشمیر یوں پر ظلم کے پہاڑ ڈھائے جا رہے ہیں ،قرآن ان کی مدد کا حکم دیتا ہے۔کشمیر کی آواز اٹھانے والوں کی آواز دبانے کی سازشیں کامیاب نہیں ہو ں گی۔جمعیت اہلحدیث کے ناظم اعلیٰ علامہ ابتسام الہیٰ ظہیر نے کہا کہ پاکستان کی سیاست میں المیہ موجود ہے کہ صرف ووٹوں کے لئے کشمیر کانام لیا جاتا ہے اور اقتدار میں آنے کے لئے بھارت سے دوستی و تجارت کی جاتی ہے۔دفاع پاکستان کونسل کے مرکزی رہنما پروفیسر حافظ عبدالرحمن مکی اورمتحدہ جمعیت اہلحدیث کے امیر سید ضیاء اللہ شاہ بخاری نے کہا کہ کشمیرکی بیٹیوں کی عزتوں کے دفاع کے لئے نوجوانوں کو محمد بن قاسم کا کردار ادا کرنا چاہئے۔سابق وفاقی وزیر جے سالک نے کہا کہ ستر سالوں سے حکمرانوں کے رویئے دیکھ رہے ہیں۔حکومت کشمیر کے مسئلہ پر کچھ نہیں کرے گی۔آل پاکستان مسلم لیگ کے چیف کو آرڈینٹر احمد رضا قصوری نے کہا کہ حکومت پاکستان کو سفارتکاروں کی کانفرنس کشمیر پر بلانی چاہئے ۔دو یا تین روزہ کانفرنس میں کشمیر پر لائحہ عمل دیا جائے۔جمعیت علماء اسلام(ف) کے رہنما مولانا امجد خان نے کہا کہ کشمیر پر اقوام متحدہ کے منفی کردار کی شدید مذمت کرنی چاہئے۔سردار گوپال سنگھ چاولہ نے کہا کہ پنجابی سکھ سنگت کا چیئرمین ہوں،ہر سال چھ سے سات ہزار بھارتیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے وہ صرف حافظ محمد سعید سے خوفزدہ ہیں۔دفاع پاکستان کونسل کے رہنما قاری یعقوب شیخ ، حافظ خالد ولید اور جمیل احمد فیضی ایڈووکیٹ نے کہا کہ کشمیریوں کا آزادی مانگنا جرم بن گیا ہے۔سوشل میڈیا پر کشمیریوں کی آزادی کیلئے جو لوگ کام کر رہے ہیں ان کے اکاؤنٹ بلاک کئے جارہے ہیں۔ہدیۃ الھادی گلگت بلتستان کے صدربیرسٹر خالد خورشید، پاک سرزمین پارٹی کے ر ہنما سیدحفیظ الدین ایڈو کیٹ، ہدیۃ الھادی پاکستان کے وائس چیئرمین رضیت بااللہ نے کہا کہ سی پیک گلگت بلتستان سے گزر رہا ہے۔ گلگت بلتستان کے لوگوں کو بھی کشمیر کی تحریک میں شامل اورکشمیر کمیٹی میں بھی گلگت بلتستان کو نمائندگی دی جائے ۔ اسی طرح کشمیرکے حوالہ سے گلگت میں کانفرنس کا انعقاد کیا جانا چاہئے۔

مزید : صفحہ آخر

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...