تحریک انصاف کی طرف سے آج بھی قومی اسمبلی میں سخت رویے کا امکان

تحریک انصاف کی طرف سے آج بھی قومی اسمبلی میں سخت رویے کا امکان

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی )وفاقی دارالحکومت کاموسم انتہائی سرد ہونے کے باجود جہاں پانامہ کیس کی سیاسی تند و تیز بیان باذی سے سیاسی ماحول کافی گرم ہے وہاں اس سیاسی گرمی میں شدت اس وقت آئی جب پارلیمنٹ ہاوس کے باہرمسلسل بارش سے سردی کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ ارکان پارلیمنٹ کو ٹھٹھرتے ہوئے بھی دیکھا لیکن جیسے ہی جمعرات کے روز قومی اسمبلی کا اجلاس سپیکر ایاز صادق کی صدارت میں شروع ہوا ۔تو ایوان کے اندر کا ماحول ایسا تھا کہ جیسے ایوان کے اندر جون جولائی کی گرمی پڑ رہی ہو ۔قاعداعظم محمد عی جناح کی ہنستی مسکراتی تصویر کے سائے تلے حکومتی اور پاکستان تحریک انصاف کے اراکین دست گریبان دیکھنے میں آئے، عوام کے کروڑوں روپوں سے منعقد ہونے والے اس اجلاس میں مقدس ایوان کوئی گوجرونوالہ کا مشہور پہلوانوں کا کھڑا لگ رہا تھا ،اور سپیکر ایاز صادق مائیک میں ماحول کو سازگار بنانے کیلئے بولتے رہے ۔اور قاعداعظم کی تصویر خاموشی سے دیکھتی رہی ،ایوان میں حکومتی اور اپوذیشن کے اراکین کے درمیاں ہاتھا پائی اس وقت شروع ہوئی جب پی ٹی ائی کے شہر یار خان نے حکومتی بینچوں پر جا کر شاہد خان عباسی سے کسی بات پر غصہ کیا تب مسلم لیگ ن کے شاہد خاقان عباسی نے اٹھ کر نوید قمر کی طرف جانے کی کوشیش کی ،تو اس دوران شہر یار خان اور شاہد خان عباسی کے درمیاں سخت جملوں کاتبادلہ ہوا ۔جو ایوان کی کاروائی کا حصہ نہ بن سکے ،لیکن دوسری جانب وزیر دفاع خواجہ اصف اپنے خیالات کا اظہار کر رہے تھے تب پاکستان تحریک انصاف کے سنئیر رہنماء شاہ محمود قریشی نے وزیراعظم کے خلاف نعرے بازی کی ،اور جوابا خواجہ اصف نے بھی جارحانہ رویہ اختیار کیا اور حسب روایت کچھ سخت نرم لہجہ اختیارکیا ۔جس سے اپوزیشن پی ٹی آئی اور حکومتی ارکان کے درمیان گالم گلوچ ،اور معاملہ بڑھتے بڑھتے ہاتھا پائی تک جا پنچا ،اور اس طرح ایوان پہلوانوں کا کھاڑا بن گیا ،اور پانامہ کیس کی تند و تیز بیان بازی کی حد تک نظر انے والا غصہ بالاآخر باہر نکل ہی ایا ،اور دونون جانب کے اراکین نے نہ تو ایوان دیکھا اور نہ ایوان کا تقدس ۔۔۔اورسپریم کورٹ کے باہر زبان سے نکلنے والے الفاظی غصے پر محیط جملے عوامی پارلیمنٹ کے ایوان میں پریکٹیکل اور فزیکل انداز میں دلچسپ مناظر دیکھنے میں آئے ،۔اس ہنگامہ آرائی اور نورا کشتی کو سپیکر اور پیپلز پارٹی کے ارکان بھی روکنے میں ناکام رہے اور بالاآکر ایوان کی کاروائی معطل کرنی پڑی ۔اس نوراکشی کے دوران پیپلز پارٹی نے صرف پی ٹی آئی کو روکنے کی کوشیش کی بلکہ حکومتی ارکان کو صرف زبانی منع کرتے رہے اب دیکھنا یہ ہے کہ اس نورا کشتی کا پیپلز پارٹی کس حد تک سیاسی فائدہ اٹھاتی ہے اور دوسری جماعتیں کیا کردار ادا کرتی ہیں،کیونکہ سپیکر ایاز صادق نے اس معاملے کا سخت نوٹس لیا ہے ،اور تحقیقات کا بھی حکم دیدیا ہے ،اس بات کا تو کل صبح ہونے والے اجلاس میں ہی پتہ چلے گا کہ معاملہ مزید کس طرف جاتا ہے کیونکہ لگتا نہیں ہے کہ اسلام آباد کا سرد موسم ایوان کے سیاسی گرم موحول اثر انداز ہو سکے ۔کیونکہ انتہائی مصدقہ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے چیرمین عمران خان نے اپنے پارٹی کے سنئیر رہنماوں سے رات گئے تک مشاورت کی ہے اور شاہ محمود قریشی ایوان میں اس معاملے کا مسلم لیگ ن کے ساتھ بھر پور دفاع کرنے کا عندیہ بھی دیا گیا ہے۔ ۔اور یہ بھی قوی امکان ہے کہ اج کے اجلاس سے پہلے پی ٹی آئی کوئی سخت فیصلہ کر لے لیکن حکومتی ارکان پہلے سے ہی پی ٹی ائی کے ہر مقابلے کیلئے مورچہ زن ہیں ۔اب دیکھنا یہ ہے کہ اج جمعہ کے روز ہونے والے اجلاس میں کیا ہوتا ہے۔سپیکر قومی اسمبلی ہنگامہ کرنے والے ارکان کو اجلاس میں بیٹھنے کی جازات دیتے ہیں یا نہیں ۔کیونکہ پارلیمانی رولز کے تحت ایوان کا تقدس پامال کرنے والے ارکان کے خلاف سخت سے سخت کاروائی کا اختیار سپیکر کے پاس محفوظ ہے ۔لیکن سپیکر نے جس تحقیقات کا حکم دیا ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ سپیکر نے فیصلہ بھی ایوان کے سپرد کر دیا ہے اب دیکھنا یہ ہے بالخصوص پیپلز پارٹی ،مولانا فضل ارحمان اور افتاب خان شیر پاو کیا کردار ادا کرتے ہیں ۔اگر تو معاملہ ایوان میں ٹھنڈا ہو گیا تو پھر امکان ہے کہ پانامہ کیس پر ہونے والی بیان بازی بھی رک جائے گی ۔لیکن فی الحال ایسا کہیں دور دور نہیں لگتا ۔بلکہ معاملے میں شدت نظر ا رہی ہے ۔ویسے بھی محکمہ موسمیات کے مطابق سردی کی شدت میں ائندہ تین روز میں کمی آئی اور بارشوں کا سلسلہ بھی ہفتے تک روکنے کا امکان ہے لیکن اسلام آباد کی سیاسی محاذ آرائی ختم ہونے کے کوئی اثرات نہیں لگ رہے بلکہ مزید طول پکڑتے دیکھائی دے رہے ۔جبکہ عوامی حلقوں میںآئے روز سخت جملوں ،بیان بازی اور ایوان کی ہنگامہ ارائی سے سیاستدانوں کے اس روئیے کے خلاف سخت غصہ پایا جاتا ہے ،وہاں ایوان کا تقدس پامال کرنے والے جمہوریت کے دعویدار سیاستدانوں کا وقار ایک سوالیہ نشان بن گیا ہے ۔۔

مزید : صفحہ اول

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...