کومبنگ آپریشن میں 3دہشتگرد ، 112مشکوک افراد گرفتار ، کارروائیاں تیز کرنے کا فیصلہ

کومبنگ آپریشن میں 3دہشتگرد ، 112مشکوک افراد گرفتار ، کارروائیاں تیز کرنے کا ...

 لاہور،شیخوپورہ(محمدیونس باٹھ، شعیب بھٹی +ارشد شیخ)خیبر پختونخوااور پنجاب کے تمام اضلاع میں کومبنگ آپریشن میں تیزی لا نے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔جبکہ فورسز نے 185 مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا۔ صو بو ں میں قانون نافذ کرنیوالے اداروں کی غیرقانونی وردیاں بنانے و پہنے و ا لو ں کو بھی حراست میں لینے کا حکم دے دیا گیا ہے۔ 23 اضلاع میں کارروائی کے دوران 112 افراد کو گرفتار کیاگیا ہے ،یہ مشترکہ آپریشنزملتان، فیصل آبا د ، راولپنڈی ڈویژن، سرگودھا ڈویژن، گجرات ،گجرانوالہ، او ر دیگر اضلاع میں کئے گئے ہیں جبکہ گوجرانوالہ ڈی سی کالونی میں سی ٹی ڈی نے کاروائی کرتے ہوئے تین مبینہ دہشت گرد وں کوگرفتارکر لیا ہے ۔ ذرا ئع کا کہنا ہے کہ مبینہ دہشت گرد لاہور میں اہم تنصیبات کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔گرفتا ر ہو نے والے ملزما ن میں رضوان،واجد علی اور ارماگھن شامل ہیں۔ دہشت گردوں کے قبضہ سے بارودی مواد اور ڈیٹو نیٹرز برآمد ہوئے ہیں۔ذرائع کے مطا بق لاہور میں پولیس نے کومبنگ آپریشن کے دوران 92 افرادکو گرفتار کیاگیا ہے ۔اقبال ٹا ون سرکل ، واہگہ باڈر، باٹاپور اور مناواں کے علا قو ں سے بھی 2مشکوک افراد کو حراست میں لے لیا گیا۔ سکیورٹی فورسز نے مستونگ میں 12گھنٹے طویل کومبنگ آپریشن میں کالعدم تنظیم کے 27 افرادکوگرفتارکرلیا، ان میں9 افغان باشند ے بھی شامل ہیں۔ شبہ ہے کہ زیر حراست افراد سانحہ سول ہسپتال میں ملوث ہیں۔ ہنگو کے علاقہ ماموں بانڈہ میں پو لیس نے خفیہ اطلاع پرایک افغا ن با شند ے کے گھر پر چھاپا مارا اور اسے گر فتار کر لیا۔ دہشت گرد کے قبضے سے دو کلا شنکوف، تین رائیفلز، چا ر ستی بم، دو سیون ایم ایم رائفلز، پا نچ ہزار مختلف قسم کے کارتوس، ایک پستول اور چار خنجر برآمد ہوئے۔ محکمہ انسداددہشتگردی بنوں نے کاروائی کرتے ہوئے ایک دہشتگرد کو گرفتار کر لیا، ملز م پولیس پر حملوں میں ملوث تھا ۔پشاور پولیس نے تریج میں دہشتگردوں کی موجو دگی کی اطلاع پر ایک سرچ آپر یشن کیا، جہاں فورسز اور دہشت گردوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا ۔ دہشت گردوں نے مقامی سہولت کاروں کی عدم دستیابی کے بعد لاہور میں ایک ورکشاپ کھولنے کا منصوبہ بنایا ہے جہاں پر گاڑیوں کی مرمت کی آڑ میں دہشت گردی کیلئے ممکنہ طور پر گاڑیاں اور بارودی مواد چوری چھپے تیار کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق تعلیمی اداروں میں طالبعلم اور برقعہ پوش خاتون کے ذریعے دہشت گردی کے منصوبے کا بروقت سرا غ لگالیا اور اس بارے میں پولیس سمیت تمام قانون نافذکرنیوالے اداروں کو ہائی الرٹ کرکے اس منصوبہ کو ناکام بنادیا جس کے بعد اعلیٰ سطحی اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ تمام تعلیمی اداروں کے باہر ایک سو میٹر کے فاصلے پر بلاتاخیر ریڑھیاں اور خوانچے لگانے پر پابندی عائد کردی جائے تاکہ ان ریڑھی بانوں جن میں سے زیادہ تر کا تعلق پٹھان قبائل سے ہوتا ہے کی آڑ میں کوئی دہشت گرد پناہ نہ لے سکے۔ موٹر وے پر مسافروں کو اتارنے اور چڑھانے والی گاڑیوں کے ڈرائیوروں کے خلاف سخت کاروائی کریں ۔

مزید : صفحہ اول