سپریم کورٹ کی پابندی کے باوجود 30فیصد یوٹیلیٹی سٹوروں پر گھی اور کوکنگ آئل کی فروخت جاری

سپریم کورٹ کی پابندی کے باوجود 30فیصد یوٹیلیٹی سٹوروں پر گھی اور کوکنگ آئل کی ...

لاہور(جاوید اقبال،بلال چوہدری)یوٹیلٹی سٹورز کارپوریشن آف پاکستان کے زیر اہتمام چلنے والے 6567سٹوروں میں سے70فیصد پر گھی اور آئل کا سٹاک ختم ہو گیا ہے ۔جبکہ30فیصد سٹوروں پر یو ٹیلٹی آئل اور گھی موجود ہے مگر سپریم کورٹ کے واضح احکامات کو نظر انداز کیا گیا ہے ان سٹوروں پر تاحال یو ٹیلٹی گھی اور آئل کی فروخت جاری ہے۔ اس حوالے سے ان سٹوروں کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ان 30فیصد سٹوروں پر بھی آئندہ دو روز میں پرانا سٹاک ختم ہو جائے گا جس سے لوگ سستے گھی اور آئل سے محروم ہو جائیں گے ۔سٹوروں کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ علم میں ہونے کے باوجود کارپوریشن کے بورڈ آف ڈائریکٹرز اور انتطامیہ نے نئی کمپنیوں سے تاحال معیاری گھی اور آئل خریدنے کے لئے نہ کوئی اجلاس طلب کیا ہے اور نہ ہی کوئی حکمت عملی طے کی ہے جس کے باعث لاکھوں صارفین جو ان سرکاری سٹوروں سے رعایتی نرخوں پر گھی اور آئل خریدتے تھے وہ اس سے محروم ہو گئے ہیں ۔اعداد و شمار کے مطابق کارپوریشن کے زیر اہتمام یو ٹیلٹی سٹورز کارپوریشن آف پاکستان کی ملک بھر میں واقعہ 65ریجن اور 9زونوں میں ہر ماہ ایک ارب 75کروڑ سے لیکر 2ارب 20کروڑ تک کے سستا گھی اور آئل کی فروخت ہوتی ہے اور کارپوریشن کو منافع بخش ادارہ بنانے میں یہ دونوں آئٹم اہم کردار ادا کر رہی ہیں بلکہ گھی اور آئل کی فروخت کارپوریشن کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے ۔رواں سال کے لئے کارپوریشن کی پر چیز اینڈ ٹینڈر کمیٹی نے 7کمپنیوں کو ٹینڈر میں سال 2017-18کے لئے کوالیفائیڈ قرار دیا اور ان سے گھی اور آئل کی خریداری کی تاہم پر چیز کمیٹی کی ذمہ داری تھی کہ جن کمپنیوں سے گھی اور آئل خریدا جا رہا تھا ان کے گھی اور آئل کی لیبارٹری سے معیار جانچنے کے لئے نمونے بھیج کر تجزیہ کرواتی مگر ایسا نہیں کیا گیا ۔کمیٹی نے کمپنیوں سے اندر خانے معاملات طے کر کے ناقص اور غیر معیاری گھی خرید لیا جس کا سپریم کورٹ نے نوٹس لے لیا اس حوالے سے کارپوریشن کے 16ہزار ملازمین کی تنظیم ایسوسی ایشن آف یوٹیلٹی سٹورز کارپوریشن آف پاکستان کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ گھی اور آئل معیاری تھے۔کارپوریشن ایک واحد منافع بخش ادارہ ہے حکومت اس ادارے کی نجکاری کا منصوبہ بنا چکی ہے ۔جس میں بورڈ آف ڈائریکٹرز پیش پیش ہیں ۔ادارے کو خسارے میں ظاہر کرنے کے لئے بوگس بعض کنزیومرز کو سامنے لایا گیا اور ایک رپورٹ مرتب کروائی گئی کہ گھی اور آئل ناقص ہے جس کا مقصد گھی اور آئل کی فروخت رکوانا اور ادارے کو منافع بخش کی بجائے خسارے میں بھجوانا ہے تاکہ اس کی نجکاری ممکن ہو سکے۔اس حوالے سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ سپریم کورٹ کے واضح احکامات پر کارپوریشن نے عمل درآمد نہیں کروایا ۔سٹوروں پر موجود آئل اور گھی کو اٹھانے کی بجائے سیل کر دیا گیا70فیصد سٹوروں پر جو سٹاک موجود تھا اس کو 2روز میں فروخت کیا گیا۔تاحال آج بھی 30فیصد سٹوروں پر یو ٹیلٹی آئل اور گھی کا سٹاک موجود ہے جسے فروخت کیا جا رہا ہے ۔سپریم کورٹ آف پاکستان موجود سٹاک کو غیر معیاری قرار دے چکی ہے اور اس کی سیل روکنے کا واضح حکم بھی دے چکی ہے مگر کارپوریشن نے اس کے برعکس جو سٹاک موجود تھا اس کو فروخت کروایا جو کہ آج بھی جاری و ساری ہے اور آئندہ 2 سے 3دن میں جن سٹوروں پر سٹاک موجود ہے وہ بھی سیل ہو جائے گا۔اس حوالے سے یوٹیلٹی سٹورز آف پاکستان کے ایم ڈی وسیم مختار چوہدری سے بات کی گئی تو انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے احکامات پر من و عن عمل درآمد کروا دیا گیا ہے اس حوالے سے تمام 9زونز کے زونل مینجرز کو تحریری حکم دیا گیا ہے کہ سپریم کورٹ نے جن کمپنیوں کا گھی اور آئل بین کیا ہے ان کا سٹاک ا ٹھا لیں ،سٹاک اٹھانے کا کام جاری ہے جن سٹورز پر سے ابھی تک مال اٹھا یا نہیں گیا ان پر سے بھی کچھ روز میں اٹھا لیں گے آئندہ کی حکمت عملی کیا ہو گی اس کا فیصلہ بھی سپریم کورٹ کی ہدایات کے مطابق کریں گے اس سلسلے میں بورڈ آف ڈائریکٹرز کا اجلاس بلایا جا رہا ہے اس حوالے سے لاہور کے زونل مینجر فیضان علی سے بات کی گئی تو انہوں نے کہا کہ لاہور میں واقع سٹوروں سے بین شدہ گھی اور آئل اٹھانے کا کام جاری ہے ۔

مزید : صفحہ اول

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...