عالمی بینک ثالثی عدالت کے ذریعے پاک بھارت آبی تنازع حل کرائے : نواز شریف

عالمی بینک ثالثی عدالت کے ذریعے پاک بھارت آبی تنازع حل کرائے : نواز شریف

 اسلام آباد(اے ا ین این ) وزیراعظم نواز شریف نے امیدظاہرکی ہے کہ عالمی بینک ثالثی عدالت کے قیام کے ذریعے پاکستان اور بھارت کے درمیان جاری آبی تنازع کے حل میں مرکزی کردار ادا کرے گا۔ وزیراعظم ہاؤس سے جاری اعلامیے کے مطابق پاکستان کے دورے پر آئی ہوئی عالمی بنک کی چیف ایگزیکٹو آفیسر کرسٹا لینا آئی جارجیوا نے وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات کی۔ وزیراعظم نے عہدہ سنبھالنے کے بعد پہلے غیر ملکی دورے پر انھیں مبارکباد دی اور کہا کہ پاکستان 1952 کے بعد سے عالمی بنک کے ساتھ اپنی شراکت داری کو مقدم سمجھتا ہے اور ملک کے سماجی انفراسٹرکچر، پانی اور توانائی کے شعبوں میں بنک کی 31ارب امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ عالمی بنک کی طرف سے 2014 کے بعد اسٹرکچرل اصلاحات اور توانائی منصوبوں کیلئے اڑھائی ارب ڈالر کا قرضہ دیا گیا ہے جبکہ دیامر بھاشا ڈیم قومی اہمیت کا منصوبہ ہے، تربیلا فور، تربیلا فائیو اور داسو ہائیڈرو پراجیکٹ کے لیے ورلڈ بینک کا تعاون بھی گرانقدر ہے، اس کے علاوہ حکومت بلوچستان میں چھوٹے اور دریائے سندھ پر مزید بڑے ڈیم بھی بنانا چاہتی ہے۔ وزیراعظم نے پاکستان اور بھارت کے درمیان جاری آبی تنازعے کاذکر کرتے ہوئے امیدظاہرکی کہ عالمی بنک ثالثی عدالت کے قیام کے ذریعے پاکستان اور ہندوستان کے درمیان جاری آبی تنازعے کے حل میں مرکزی کردار ادا کرے گا ۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کو یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدے میں تبدیلی یا اس پر عملدرآمد میں رکاوٹ کا حق نہیں ،عالمی بنک اس معاہدے کا ضامن ہے اور اسے اپنا مناسب کردار ادا کرنا چاہیے۔اس موقع پر عالمی بنک کی چیف ایگزیکٹو افیسر نے کہاکہ انہیں وزیراعظم اور ان کی ٹیم سے مل کر بہت خوشی ہوئی، آخری مرتبہ 2011میں پاکستان کا دورہ کیا تھا تاہم اب پاکستان میں بہت مثبت تبدیلیاں آئی ہیں۔انہوں نے پاکستان کی توانائی، انفرااسٹرکچر اور مجموعی معاشی استحکام کو تسلی بخش قرار دیتے ہوئے کہا کہ انفراسٹرکچر اور معیشت بہتر جبکہ مہنگائی کم ہوئی ہے، عالمی بینک پاکستان میں ڈیڑھ ارب ڈالر سالانہ کی سرمایہ کاری کررہا ہے تاہم پاکستان کے ساتھ مضبوط شراکت داری کے لیے پرعزم ہیں۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان میں سرمایہ کاری کے لیے صورتحال بہت بہتر ہے اور یہاں کی معاشی صورتحال بھی بہتری کی جانب گامزن ہے۔ واضح رہے کہ حالیہ تنازع 2 پن بجلی (ہائیڈرو الیکٹرک)منصوبوں کشن گنگا اور رتلے کی وجہ سے سامنے آیا، جسے بھارت ان دریاؤں پر تیار کر رکھا ہے جن کے پانی پر سندھ طاس معاہدے کے تحت پاکستان کا حق ہے۔ 1960 میں ہونے والا سندھ طاس معاہدہ عالمی بنک کو ایک ضامن اور ثالث کے طور پر تسلیم کرتا ہے اور اس کے تحت پاکستان اور بھارت دونوں کو یہ اختیار حاصل ہے کہ اگر وہ باہمی طور پر اپنے جھگڑے کو حل کرنے میں ناکام رہتے ہیں تو وہ عالمی بنک سے ثالثی طلب کرسکتے ہیں۔ پاکستان ثالثی عدالت کا مطالبہ اس لیے کر رہا ہے کیونکہ اس کا ماننا ہے کہ اس تنازع میں قانونی اور تکنیکی مسائل شامل ہیں، ایک غیر جانبدار ماہر صرف تکنیکی پہلوؤں پر غور کرے گا جبکہ ثالثی عدالت قانونی پہلوں کو بھی بہتر طور پر دیکھ سکے گی۔

نواز شریف

مزید : صفحہ اول