بونیر ،تجاوزات کی آڑ میں گھروں اور مساجد کو مسمار کرنا کہاں کا انصاف ہے ،صدیق اللہ

بونیر ،تجاوزات کی آڑ میں گھروں اور مساجد کو مسمار کرنا کہاں کا انصاف ہے ...

بونیر (ڈسٹرکٹ رپورٹر )پاکستان تحریک انصاف کے راہنماء اور ضلع کونسل میں اپوزیشن لیڈر حاجی صدیق اللہ نے درجنوں ساتھیوں کے ھمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈگر تا پیربابا روڈ پر گذشتہ روز تجاوزات ہٹاؤ مہم کے دوران متعلقہ ایس ڈی او ھائی وے اور اے اے سی ڈگر نے ناظمین کے سائن بورڈز سمیت دیگر سائن بورڈز اور عوام کے گھروں،مساجد،دکانوں،حجروں اور گیراجون کو جانے والے راستے مسمار کرکے امتیازی سلوک سے ثابت کیا ہے کہ بعض مقامات پر سیاسی اور انتظامی انتقام لیا گیا ہے جس کی پر زور الفاظ میں مذمت کی ہے اور ضلعی حکومت اور انتظامی سربراہ سے معاملہ کی تحقیقات کرانے اور ملوث اھلکاروں کے خلاف فوری کاروائی کا مطالبہ کیا ہے۔انھوں نے تجاوزات ھٹاو مھم کو اچھا اقدام قرار دیتے ہوئے اسکے لیے صوبائی حکومت اور ضلعی انتظامیہ کی تعریف کی ہے لیکن اپریشن کے اڑ میں اپنے اختیارات سے تجاوز کرکے کسی کو چھوڑنا اور کسی کو بلاوجہ نقصان پہنچانے کو نا انصافی قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ سڑک سے دور اور مقررہ حد سے اپر والے سائن بورڈز جن پر بحیثیت ناظم انکا نام درج تھا اور جو زائرین پیربابا کو خوش امدید کہنے کی عرض سے سرکاری خرچ پر بنایا گیا تھا کو گرانا نہ صرف ناظمین کی توھین بلکہ سرکاری فنڈز کو ضاییع کرنے کے مترادف ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے ۔انھوں نے مذکورہ ایس ڈی او ھائی وے پر الزام لگایا ہے کہ وہ تجاوزات مھم کے نام سے سیاسی اور انظامی انتقام لینے میں ملوث ہے اور مذید کہا ہے کہ ایس ڈی او کے پاس محکمہ کے دو ملازمین زاتی ڈرائیور بنے ہوئے ہیں جبکہ محمکہ کے دیگر تیس سے زائد ملازمین افسران کے بنگلوں میں خدمات انجام دے رہے ہیں اور سڑک پر کام نہ کرنے کی وجہ سے سڑک کی حالت روز بروز خراب ہوتی جارہی ہے،۔انھوں نے مذید کہا ہے کہ وہ پی ٹی ائی کارکن اور اپوزیشن لیڈر کی حیثیت سے ہر اچھے اقدام کی حمائت کرتاہے لیکن غیر قانونی کام پر اواز اٹھاکر عوام کے حققوق کی دفاع کرے گا۔اور خبر دار کیا ہے کہ اوچھے ھتکنڈوں سے ابھرتے ہوئے پی ٹی ائی کا راستہ روکا جاسکتاہے ۔انھوں نے ضلعی حکومت سے اداروں میں غیر حاضر اھلکاروں اور اختیارات سے تجاوز کرنے والے افسران سے باز پرس کا مطالبہ کیا ہے ورنہ عوام خود اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے اٹھ کھڑے ہونگے۔

مزید : پشاورصفحہ آخر