ممتاز قادری کی شہادت پر ملنے والی بدعائیں حکمرانوں کو لگنا شروع ہو گئیں، پانامہ کیس ان کیلئے دلدل ثابت ہو رہا ہے: سراج الحق

ممتاز قادری کی شہادت پر ملنے والی بدعائیں حکمرانوں کو لگنا شروع ہو گئیں، ...

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق نے کہا ہے ممتاز قادری کی شہادت پر ملنے والی بدعائیں انہیں لگنا شروع ہو گئی ہیں۔ حلال مال سے 52 کروڑ روپے جیسے تحائف نہیں دئیے جا سکتے، پانامہ سکینڈل حکمران خاندان کیلئے دلدل ثابت ہو رہا ہے اور اس سے نکلنا ان کیلئے ناممکن ہے۔

”کبھی کسی لیڈر کی اس طرح تلاشی نہیں ہوئی ،پہلی بار ہورہا ہے کہ سپریم کورٹ حکمرانوں کی تلاشی لے رہی ہے“عمران خان

تفصیلات کے مطابق میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سراج الحق نے کہا کہ پانامہ سکینڈل حکمران خاندان کیلئے ایسا دلدل ثابت ہو رہا ہے جس سے ان کیلئے نکلنا ناممکن ہے، ہم سن رہے ہیں کہ 52 کروڑ کے تحفے دئیے اور لئے جا رہے ہیں، کیا حلال مال سے کوئی ایسے تحفے دیتا ہے؟ لیکن جہاں مال مفت ہوتا ہے وہاں دل بے رحم ہوتا ہے، میں سمجھتا ہوں کہ حکومت نے بڑی کوشش کی کہ مٹی پاﺅ پالیسی پر عمل ہو جائے لیکن ہمیں عدالت پر یقین ہے کہ وہ سچائی اور حقیقت پر پہنچ جائے گی اور جو بھی اس کرپشن اور پانامہ سکینڈل میں ملوث ہے اسے سزا ملے گی۔

انہوں نے کہا کہ آج عدالت نے ایک بار پھر حدیبیہ مل کے حوالے سے ریمارکس دئیے۔ اس کیس کی دوبارہ تحقیقات کی ضرورت ہے اور آج ہمارے اس موقف کو تقویت مل رہی ہے کہ جب نیب کے چیئرمین کی تقرری میں اپوزیشن لیڈر اور وزیراعظم ہی فیصلہ کن کردار ادا کریں گے اور ان کی مرضی سے تقرری ہو گی تو تاریخ نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ حکمران کا احتساب نہیں کر سکتے۔ لہٰذا میں اس تجویز کو دہرانا چاہوں گا کہ نیب کے چیئرمین کی تقرری 100 فیصد غیر سیاسی ہو اور چیف جسٹس پاکستان، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس، اور چاروں صوبوں کی ہائیکورٹس کے چیف جسٹس ان کی تقرری کریں تاکہ پوری قوم یہ سمجھے کہ یہ 100 فیصد غیر جانبدار ہیں اور عدل و انصاف کو یقینی بنائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ اگر نیب کا چیئرمین کسی کا احسان مند نہ ہوتا تو اتنا عرصہ گزرنے کے باوجود وہ کیوں انکوائری نہیں کر سکے۔ اس عدالت میں آنے سے قبل میں نے اپنی طرف سے نیب کے چیئرمین کو خط لکھا تھا کہ یہ نیب کی ذمہ داری ہے کہ وہ پانامہ سکینڈل کی تحقیقات کرے اور مجرم کے بارے میں کیس بنا کر عدالت کو بھیجے لیکن ظاہر ہے کہ وزیراعظم نیب کے چیئرمین کی تقرری کرتا ہے وہ کبھی وزیراعظم کے خلاف کیس نہیں بنا سکتا اور نہ نشاندہی کر سکتا ہے۔

میرے علم کے مطابق حکمران ٹولہ اپنے اثاثہ جات اور ان کے حلال ذرائع بتانے ناکام ہو گئی اور ان کی جانب سے دی گئی دستاویزات میں بہت کچھ نہیں ہے جس کے باعث معاملہ الجھ ہوا ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ عدالت عظمیٰ جلد از جلد یہ کیس حل کر لے کیونکہ پوری قوم اس کے انتظار میں ہے۔

سراج الحق نے کہا کہ ایک طرف نریندر مودی نے پانی بند کرنے کی بات کی ہے تو دوسری طرف وزیراعظم نواز شریف کو سمری بھیجی کی گئی ہے جس میں بھارتی فلموں کی نمائش کی اجازت کی بات ہے۔ کیا یہ شرم کی بات نہیں کہ ہندوستان پانی بند کرتا ہے اور کہتا ہے کہ خون اور پانی ایک ساتھ نہیں چل سکتا، خون بھی وہ بہا رہا ہے اور پانی بھی وہ بند کر رہا ہے لیکن یہاں ایک لابی کو فکر ہے کہ کیسے بھارتی فلموں اور بھارتی اداکاروںو فنکاروں کی مارکیٹنگ کی جائے۔

انہوں نے گزشتہ روز قومی اسمبلی میں ہونے والی ہنگامہ آرائی سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس کے باعث ایوان کے در و دیوار کا تقدس مجروح ہو اہے اور پوری قوم پریشان ہے۔ میں ممبران اسمبلی سے درخاست کروں گا کہ قوم نے انہیں قانون سازی کیلئے ایوان میں بھیجا ہے اس لئے تہذیب، اخلاق اور شائستگی کے حوالے سے ان کی رہنمائی کریں، لیکن آپ خود لڑتے ہی اور مکے مارتے ہیں تو قوم یہی سمجھتی ہے کہ ایوان میں بیٹھنے والے لوگ، سسٹم اور جمہوریت قوم کو کچھ دینے کے قابل نہیں، ایسے واقعات سے جمہوریت اور انتخابات کی بدنامی ہوتی ہے۔

سلو اوور ریٹ، اظہر علی کو ایک ون ڈے میچ کیلئے معطل کر دیا گیا، میچ فیس کا 40 فیصد جرمانہ بھی عائد

ان کا کہنا تھا کہ جب تک قوم دیانتداروں، امانت داروں کو ووٹ نہیں دے گی تب تک تقدیر نہیں بدل سکتی، مجھے افسوس ہے کہ ایک لابی کوشش کرتی ہے کہ کہ جھوٹے لوگ جو آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 پر پورے نہیں اترتے اور اسے مشکل کام ثابت کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ایسا ممکن نہیں، اور کوشش کر رہے ہیں کہ آرٹیکل 62 اور 63 کو آئین سے نکال ہی دیا جائے، ہم بھی یہ کوشش کر رہے ہیں کہ اس بات کو یقینی بنائیں آرٹیکل 62 اور 63 پر پورا اترنا یقینی ہو جائے اور نتیجہ جو بھی نکلے موجودہ ایوان کو بھی اس کی روشنی میں دیکھنا چاہئے کہ کیا یہ لوگ اس قابل ہیں کہ قوم کی نمائندگی کریں۔

مزید : قومی /اہم خبریں

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...