آف شور کمپنیاں 5 فیصد ٹیکس دیکر کھربوں کا کالا دھن سفید کر سکیں گی،چوتھی ایمنسٹی سکیم کا خاکہ تیار

آف شور کمپنیاں 5 فیصد ٹیکس دیکر کھربوں کا کالا دھن سفید کر سکیں گی،چوتھی ...
آف شور کمپنیاں 5 فیصد ٹیکس دیکر کھربوں کا کالا دھن سفید کر سکیں گی،چوتھی ایمنسٹی سکیم کا خاکہ تیار

  

اسلام آباد (ویب ڈیسک) عالمی مالیاتی فنڈ(آئی ایم ایف)کو کسی قسم کی ٹیکس ایمنسٹی سکیم جاری نہ کرنے کی تحریری یقین دہانی دینے کے باوجود وفاقی حکومت نے ایک اور ٹیکس ایمنسٹی سکیم جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے ،اس مرتبہ آف شور کمپنیز مالکان کیلئے ٹیکس ایمنسٹی جاری کرنے کی تیاریاں ہورہی ہیں ، جس کے تحت پانچ فیصد ٹیکس کی ادائیگی پر اربوں کھربوں روپے کا کالا دھن سفید ہوسکے گا۔ ایف بی آر نے مجوزہ ٹیکس ایمنسٹی سکیم کا ابتدائی خاکہ تیار کرلیا ہے ، ٹیکس ایمنسٹی سکیم ایک دفعہ اورچھ ماہ کے عرصے کیلئے دینے کی تجویز ہے۔

پی آئی اے اور ترکش ائیرلائنز کے درمیان منسلک پروازوں میں تعاون بڑھانے کا معاہدہ ہو گیا

روزنامہ دنیا کے مطابق ایف بی آر کی جانب سے آف شور کمپنیز مالکان کیلئے مجوزہ ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کی تیار کردہ تجویز کے تحت پہلے دو ماہ کے دوران سرمایہ پاکستان لانے پر پانچ فیصد ٹیکس ، اگلے دو ماہ کے دوران ساڑھے سات فیصد اور آخری دو ماہ کے دوران سرمایہ منتقل کرنے پر دس فیصد ٹیکس لگانے کی تجویز ہے۔ یہ ٹیکس منتقل کردہ رقم کی مجموعی مالیت پر لگانے کی تجویز ہے۔ دوسری جانب سے ایک نجی فرم نے بھی وزارت خزانہ میں آف شور کمپنیز مالکان کیلئے ٹیکس ایمنسٹی سکیم سے متعلق سفارشات جمع کرائی ہیں جس کے تحت 9ماہ کیلئے ٹیکس ایمنسٹی سکیم دینے کی تجویز دی گئی ہے ،ان تجاویز کے تحت ٹیکس سکیم کے پہلے تین ماہ میں 5فیصد ،دوسری سہ ماہی میں ساڑھے سات فیصد اور آخری سہ ماہی کے دوران دس فیصد ٹیکس لگانے کی تجویز ہے۔

اخبار کے مطابق موجودہ دور حکومت میں یہ چوتھی ٹیکس ایمنسٹی سکیم ہوگی اس سے پہلے تاجروں ،صنعت کاروں اور ریئل سٹیٹ سیکٹر کیلئے ٹیکس ایمنسٹی سکیم کا اجراءکیا جاچکا ہے ،صنعت کاروں اور تاجروں کیلئے متعارف کرائی جانے والی ٹیکس ایمنسٹی سکیم کے تحت حکومت مطلوبہ نتائج حاصل نہ کرسکی جبکہ حال ہی میں ریئل سٹیٹ سیکٹر کیلئے اعلان کردہ ٹیکس ایمنسٹی سکیم پر تاحال عمل جاری ہے۔ وفاقی حکومت نے حال ہی میں عالمی مالیاتی فنڈ کو تحریری یقین دہانی کرائی کہ ایف بی آر مستقبل میں کسی قسم کی ٹیکس ایمنسٹی سکیم جاری نہیں کرے گا اور نہ ہی کسی کو ٹیکس چھوٹ یا ٹیکس رعایت دے گا۔

مزید : اسلام آباد