مسجد الحرام کرین حادثہ کیس کا فیصلہ ہوگیا، مقدمہ خارج

مسجد الحرام کرین حادثہ کیس کا فیصلہ ہوگیا، مقدمہ خارج
مسجد الحرام کرین حادثہ کیس کا فیصلہ ہوگیا، مقدمہ خارج

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

جدہ (ڈیلی پاکستان آن لائن)مسجدالحرام میں ستمبر2015ءمیںہونیوالے کرین حادثے کا مکہ کریمینل کورٹ نے حیران کن فیصلہ سنادیااور قراردیاہے کہ دائرہ اختیار میں کمی کی وجہ وہ کوئی فیصلہ نہیں سکتے لہٰذا وہ مقدمہ خارج کرتے ہیں،طویل سماعت کے بعد عدالت نے یہ فیصلہ پراسیکیوٹر اور مشتبہ ملزمان کی موجودگی میں سنایا،حادثے میں 110افراد شہید اور 209زخمی ہوگئے تھے ۔ تین ججوں پر مشتمل پینل کے دوججوں نے مقدمہ خارج کرنے کا فیصلہ کیا جبکہ تیسرے کا خیال تھا کہ عدالت کو مقدمے کا اختیار حاصل ہے ۔ پراسیکیوٹر نے بھی اس ضمن میں جاری ہونیوالے شاہی فرمان کے پیش نظر عدالتی دائرہ اختیارہونے کی تائید کی ۔

عرب نیوز کے مطابق دائرہ اختیار میں کمی کی وجہ سے عدالت کی طرف سے مقدمہ خارج کیے جانے سے قبل پراسیکیوٹر نے مشتبہ ذمہ داران سے تفتیش بھی کی ، عدالت نے 13ملزمان کا دفاع کرنیوالی قانونی ٹیم کو بتایاکہ رسمی طورپر فیصلہ بعدازاں جاری کیا جائے گا اور اس ضمن میں تاریخ سے آگاہ کردیاجائے گا۔

دوران سماعت بن لادن گروپ کی طرف سے رپورٹس پیش کی گئیں جن میں موقف اپنایاگیاکہ موسم میں اچانک بدلاﺅاور پیش گوہی میں مشکلات کے بعد غیرمعمولی ہواﺅں کی وجہ سے کرین گرگئی، طوفان کیساتھ ہی شدید بارش اور تیزہوائیں تھیںجس کی وجہ سے درجہ حرارت میں 45سے 21ڈگری سینٹی گریڈ تک گر گیاتھا۔

سول ڈیفنس کے ترجمان نے بتایاکہ اس دن تھوڑے ہی وقت کے دوران مکہ میں 40ملی میٹر بارش ہوئی تھی ۔ مقدمے کی سماعت کے دوران مشتبہ ذمہ داران نے اپنے بیان حلفی عدالت میں پیش کیے اور ذمہ داری سے انکارکیا۔ انوسٹی گیشن بیورواور پبلک پراسیکیوشن نے تحقیقاتی ایجنسیوں کی تفتیش پر انحصار کرتے ہوئے قراردیاہے کہ حفاظتی اقدامات کو مد نظرنہیں رکھاگیا، کام نہ ہونے یا تیزہواو¿ں کی صورت میں کرین کے بڑے حصے کو سرنگوں کرناچاہیے تھا ۔

مزید : عرب دنیا