1965ءکے بعد پہلی بار اسمبلی میں ہاتھاپائی

1965ءکے بعد پہلی بار اسمبلی میں ہاتھاپائی
1965ءکے بعد پہلی بار اسمبلی میں ہاتھاپائی

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

اسلام آباد (آئی این پی) پیپلزپارٹی کے دوسرے دور حکومت کے بعد قومی اسمبلی میں حکومتی اور اپوزیشن ارکان کے درمیان لڑائی کا یہ دوسرا بڑا واقعہ ہے۔ اس سے قبل پیپلز پارٹی کے دور میں جب فاروق لغاری صدر مملکت کی حیثیت سے قومی اسمبلی کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرنے آئے تو ایوان میں اس وقت کی اپوزیشن جماعت مسلم لیگ (ن) نے احتجاج کیا تھا، اس دوران حکومتی اور اپوزیشن ارکان کے درمیان شدید ہاتھاپائی اور ہنگامہ آرائی ہوئی جس کے بعد پیپلزپارٹی کے کارکنوں نے حملہ کرکے مسلم لیگ (ن) کے رہنماﺅں بیگم تہمینہ دولتانہ، غلام دستگیر اور راﺅ قیصر علی کو زخمی کردیا جنہیں فوری طور پر ہسپتال لے جایا گیا تھا۔

قومی اسمبلی، لڑائی کے ذمہ دار سابق وفاقی وزراءکے بیٹے اور بھائی نکلے

1965ءکے بعد جمعرات کو قومی اسمبلی میں حکومتی اور اپوزیشن رہنماﺅں کے درمیان ہاتھاپائی اور لڑائی جھگڑے کا پیش آنے والا یہ دوسرا واقعہ ہے۔ اجلاس میں لڑائی کرانے کے ذمہ دار سابق وفاقی وزراءکے بیٹے اور بھائی نکلے۔

مزید : اسلام آباد