طب یونانی کے خلاف غیر قانونی کر یک ڈاؤن

طب یونانی کے خلاف غیر قانونی کر یک ڈاؤن
طب یونانی کے خلاف غیر قانونی کر یک ڈاؤن

ٹریڈ باڈی ایکٹ کے تحت رجسٹرڈ ملک بھر کے معیاری طبی دواساز اداروں کی نمائندہ تنظیم PTPMAہے ، جس میں تمام بڑے یو نانی دواساز اداروں ک ساتھ ساتھ درمیانے اور چھوٹے درجے کے ادارے بھی شامل ہیں ۔یہ تنظیم 1985سے یونانی دواسازی کے لئے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ ، نیشنل کو نسل فارطب اور پاکستان طبی کا نفرنس کے تعاون سے الگ قانون کی تشکیل میں مصروف رہی ہے ان کو ششوں کے نتیجے میں طبی میڈیسن ایکٹ تین بار قومی اسمبلی میں پیش کیا گیا۔ دوباراسمبلیاں توڑ دی گئیں اور تیسری بار 2002کی اسمبلی میں مجلس قائمہ کی رپورٹ اسمبلی میں پیش ہونے کے باوجود ایکٹ کی منظوری عمل میں نہ آسکی۔2012میں پیپلز پارٹی کے دور میں سٹیک ہو لڈرز کی مشاورت کے بغیر ڈرگ ریکو لیٹری اتھارٹی آف پاکستان (DRAP)کا آرڈیننس نا فذ کر دیا گیا ۔ ڈرگ ایکٹ 1976میں یونا نی، آیورو یدک اور ہو میو پیتھک ادویات کو ڈرگ کی تعریف سے استثناء دیا گیا تھا، کیونکہ ان ادویات کی فلاسفی اور ان کا طریقِ تیاری ایلو پیتھک سے بالکل مختلف ہے، لیکن (DRAP)نے اس استثناء کو ختم کر دیا۔2014میں SRO 412سٹیک ہو لڈرز کی مشاورت کے بغیر جاری کر دیاگیا ، جس میں تیرہ مختلف اور ایک دوسرے سے بالکل مختلف آئٹمز کو یکجا کر کے ان کے لئے مشترک رولز نافذ کر دیئے گئے جو کسی صورت بھی قابلِ عمل نہیں تھے ۔ان کے نفاذ سے یو نانی دواسازی کی 90فیصد سے زائد صنعت کا یکسر خاتمہ ہو جاتا ۔چنانچہ PTPMA نیسند ھ ہائی کورٹ میں رٹ پٹیشن دائر کی جس پر معز ز عدالت نے حکم امتناعی جا ری کر دیا جو آج بھی VALIDہے۔ اس دوران (DRAP)سے ہمارے مذاکرات جاری رہے۔ انہوں نے ہماری یہ بات تسلیم کر لی کہ یونانی دواسازی کو الگ سے CLASSIFYکیا جائے چنانچہ نومبر 2016کے تیسرے ہفتے میں طب یونانی کے لئے الگ سے قواعد (DRAP)کی ویب سائٹ پر UPLOADکئے گئے، جن کی رو سے یونانی دواساز اداروں کی ENLISTMENTکے لئے تیاری کا عمل شروع ہوا۔ لیکن اسی دوران پنجاب میں جعلی ادویات کے خلاف کریک ڈان کا آغاز کردیا گیااور بادی النظر میں اسے جعلی ایلو پیتھک ادویات کے خلاف ہونا چاہیے تھا ، کیو نکہ یو نانی دوا سازی کے لئے تو ابھی قوانین نا فذ ہی نہیں ہوئے لیکن بد قسمتی سے اس کا رخ یو نانی دوا ساز اداروں کی طرف موڑ دیا گیا۔ صدیوں سے بننے والی یو نانی ادویات کو جعلی قرار دے کر بیسیوں دوا سا زاداروں کو سیل کیا جا چکا ہے، ایف آئی آردرج کر کے گر فتاریاں کی جا رہی ہیں ۔ خوف و ہراس ہر طرف پھیل چکا ہے ہزاروں کارکن بے روز گار ہو رہے ہیں اور نفرتوں کا سیلاب امڈ رہا ہے ۔ جب تک یو نانی دوا ساز اداروں کا ENLISTMENT PROCESSمکمل نہیں ہو تا ، چھاپوں ، فیکٹریوں کو بند کرنے اور پکڑ دھکڑ کا سلسلہ بند کر کے یو نانی دواسازی کی صنعت کو FACILITATEکیا جا نا چاہئے تا کہ ہمارے اسلاف کا یہ عظیم ورثہ ملک کے مسئلہ صحت کو حل کرنے میں اپنا مؤثر کر دار ادا کرسکے۔

طب قدیم طریقہ علاج ہے اور اس کی بند ش کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔دنیا بھر میں طب سے استفادہ کیا جاتا ہے لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں اس طریقہ علاج کو بند کرنے کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے ۔ طب سے بھر پور فائدہ اٹھانے کے لئے قانون سازی ضروری ہے۔طب کی ادویات کیمیکل سے پاک ہو تی ہیں اور جڑی بویٹوں سے ادویات کی تیاری کی جاتی ہے ۔ہربل ادویہ ساز ادرے ڈریپ کا حصہ بننا چاہتے ہیں لیکن ایلو پیتھک سسٹم آف میڈیسن کے ساتھ نتھی نہ کیا جائے کیونکہ ہربل ادویہ سازی کی اپنی ایک شناخت اور معاشرے میں اہمیت مسلمہ ہے اس لیے ہربل ادویہ ساز ی کے لیے الگ سے پروٹو کولز مرتب کیے جائیں پھر ہربل ادویہ ساز ادارے ڈریپ کا حصہ بننے کے لیے تیار ہیں ۔ہربل ادویات کی تیاری کا عمل انگریزی ادویات کی تیاری سے با لکل مختلف ہے اس لیے کسی صورت انگریزی دؤاں کی تیاری والے ایس او پیز قبول نہیں کر یں گے ۔پنجاب حکومت کی جانب سے جاری کر یک ڈاؤن کسی صورت درست عمل نہیں اس کی مخالفت کر یں گے حکومت اگر ہربل انڈسٹری کو پروان چڑھانا چاہتی ہے تو سسٹم کودرست کر نے میں ہربل انڈسٹری حکومت سے تعاون کرے گی اور اگرزور زبردستی کی گئی تو ہربل سسٹم مکمل طور پر تباہ ہو جائے گا ۔

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...