قیامت مزید قریب آگئی، اب صرف ڈھائی منٹ باقی۔۔۔ سائنسدانوں نے واضح اعلان کردیا

قیامت مزید قریب آگئی، اب صرف ڈھائی منٹ باقی۔۔۔ سائنسدانوں نے واضح اعلان ...
قیامت مزید قریب آگئی، اب صرف ڈھائی منٹ باقی۔۔۔ سائنسدانوں نے واضح اعلان کردیا

  

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) ڈونلڈٹرمپ کی صدارت نے ایک دنیا کو خائف کر رکھا ہے۔ دنیا کی تباہی کا وقت متعین کرنے والے سائنسدان بھی اس کا اثر لیے بغیر نہیں رہ سکے اور دنیا کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ روز سائنسدانوں نے ’قیامت کی گھڑی‘ کے نئے وقت کا اعلان کر دیا ہے جو پہلے نصف شب سے 3منٹ کی دوری پر11:57:00منٹ پر تھی، اب 30سیکنڈ آگے بڑھ کر نصف شب کے مزید قریب 11:57:30پر چلی گئی ہے، جس کا مطلب ہے کہ دنیا اپنے خاتمے کے مزید قریب ہو گئی ہے۔

’قیامت کی گھڑی‘ کا انتظام و انصرام سنبھالنے والی آرگنائزیشن کے سربراہ سائنسدانوں لارنس کراﺅس اور ڈیوڈ ٹائٹلے کا کہنا تھا کہ ”گھڑی کا وقت دنیا کے خاتمے کے مزید قریب آنے کی دو بڑی وجوہات ڈونلڈ ٹرمپ کی موسمیاتی تبدیلیوں اور ایٹمی ہتھیاروں کے متعلق پالیسیاں ہیں۔ اس وقت یہی دو بڑے خطرات ہیں جو انسانیت کو درپیش ہیں اور دنیا ان خطرات سے نمٹنے میں ناکام ہو گئی ہے۔ اس وقت امریکہ پر اس صدر کی حکومت ہے جو اپنی انتخابی مہم میں ان دونوں خطرات سے نمٹنے میں ہونے والی کوشش میں رکاوٹ ڈالنے کا وعدہ کر چکا ہے۔ (دنیا کو تباہی کے قریب کرنے پر) شکریہ ڈونلڈ ٹرمپ۔“

’اگر ایٹمی حملہ ہوجائے تو سب سے پہلے فوراً یہ کام کریں۔۔۔‘ ماہرین نے ایٹمی جنگ کی صورت میں جان بچانے کیلئے بہترین طریقہ بتادیا

سائنسدانوں کا مزید کہنا تھا کہ ”اس سے قبل آرگنائزیشن نے کبھی کسی ایک شخص کے بیانات کے باعث قیامت کی گھڑی کا وقت آگے نہیں بڑھایا۔ لیکن اب جس فردواحد کے بیانات اس کا باعث بنے ہیں وہ امریکہ کا نیا صدر ہے جس کے الفاظ معنی رکھتے ہیں۔اس کے علاوہ شمالی کوریا، روس، چین، بھارت اور پاکستان کی طرف سے ایٹمی ہتھیاروں میں اضافہ بھی گھڑی کا وقت آگے بڑھائے جانے کی وجوہات میں شامل ہے۔ دنیا اگر اس گھڑی کا وقت پیچھے کی طرف لیجانا چاہتی ہے تو اسے موسمیاتی تبدیلیوں اور ایٹمی ہتھیاروں کے پھیلاﺅ اور اضافے اور جدید ٹیکنالوجی کے تباہ کن استعمال کو روکنے کے لیے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کرنے ہوں گے۔“

واضح رہے کہ ’قیامت کی اس گھڑی‘ کا وقت 64سال بعد خطرے کے اس قدر قریب آیا ہے۔ اس سے قبل 1953ءمیں یہ اس سے بھی قریب، مڈنائٹ سے صرف 2منٹ کی دوری پر آ گیا تھا۔ یہ وہ وقت تھا جب امریکہ نے اپنے ایٹمی ہتھیاروں کو اپ گریڈ کرکے ایٹم بم سے ہائیڈروجن بم بنانے کا فیصلہ کیا تھا،جس کے بعد دنیا میں ایٹمی ہتھیاروں کی ایک دوڑ شروع ہو گئی تھی۔

مزید : ڈیلی بائیٹس