تاریخ میں پہلی مرتبہ سائنسدانوں نے انسان اور خنزیر کو ملا کر ایسی چیز بناڈالی کہ کوئی تصور بھی نہ کرسکتا تھا، جان کر آپ کے بھی ہوش اُڑجائیں

تاریخ میں پہلی مرتبہ سائنسدانوں نے انسان اور خنزیر کو ملا کر ایسی چیز ...
تاریخ میں پہلی مرتبہ سائنسدانوں نے انسان اور خنزیر کو ملا کر ایسی چیز بناڈالی کہ کوئی تصور بھی نہ کرسکتا تھا، جان کر آپ کے بھی ہوش اُڑجائیں

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) لیبارٹری میں مرد کے سپرم اور خاتون کے بیضے کے ملاپ سے بچہ پیدا کرنے کا عمل تو عام ہو چکا لیکن اب تاریخ میں پہلی بار سائنسدانوں نے انسان اور جانور کے ملاپ سے ایک عضویہ یا نامیاتی جسم پیدا کر ڈالا ہے جس کا کوئی تصور بھی نہ کر سکتا تھا۔ اس تجربے میں انسان کا ملاپ خنزیر سے کروایا گیا۔ نیشنل جیوگرافک کی رپورٹ کے مطابق اس تجربے کی کامیابی کا اعلان سائنسدانوں کی طرف سے چند روز قبل کیا گیا۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ”ہماری تحقیق سے ثابت ہوگیا ہے کہ ”انسانی خلیوں کا غیرانسانی خلیوں کے ساتھ بھی ملاپ کروایا جا سکتا ہے اور اس سے پیدا ہونے والا ’عضو‘ مادہ جانور کے پیٹ میں زندہ بھی رہ سکتا ہے۔“

شیطان کے پجاریوں کا سب سے بڑا اجتماع، اکٹھے ہوکر کیسے خوفناک انداز میں ’پوجا‘ کرتے رہے؟ تہلکہ خیز تفصیلات پہلی مرتبہ منظر عام پر

رپورٹ کے مطابق تاریخ کی یہ حیران کن سائنسی تحقیق امریکی ریاست کیلیفورنیا میں واقع ادارے ’سٹاک انسٹیٹیوٹ فار بائیولوجیکل سٹڈیز‘ میں سائنسدانوں کی ایک بین الاقوامی ٹیم نے کی ہے۔ انہوں نے انسانی اور خنزیر کے خلیوں کے ملاپ سے جو نامیاتی جسم پیدا کیا اسے Chimeraکا نام دیا ہے۔ لیبارٹری میں اس نامیاتی جسم کو پیدا کرنے کے بعد انہوں نے اسے مادہ خنزیر کے پیٹ میں رکھ کر اسے زندہ رکھنے کا تجربہ بھی کیا جو کامیاب رہا۔ رپورٹ کے مطابق اس کامیاب تحقیق کے بعد سائنسدانوں نے انسانی اعضاءپیدا کرنے کے منصوبے میں اہم سنگ میل عبور کر لیا ہے۔ دنیا میں کئی لوگوں کے بعض اعضاءناکارہ ہو جاتے ہیں اور عضو عطیہ کرنے والا شخص نہ ملنے کے باعث وہ موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ اگر اس تحقیق میں مزید پیش رفت ہو گئی تو سائنسدان ایسے مریضوں کے لیے انسانوں اور جانوروں کے خلیات کے ملاپ سے اعضاءتخلیق کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ اس معاملے کی مزید وضاحت کرتے ہوئے تحقیقاتی ٹیم کے رکن جوان کارلس کا کہنا تھا کہ ” انسان اور خنزیر کے خلیوں کے ملاپ سے ایمبریو پیدا کرنے کا یہ تجربہ دنیا میں ٹرانسپلانٹ کے لیے دستیاب اعضاءکی قلت کو دور کرنے کے سلسلے میں ہونے والی تحقیق کا حصہ تھا۔ اس تحقیق کے تحت سائنسدان جانوراور انسان کے خلیوں کو اس طرح ملائیں گے کہ مادہ جانور کے پیٹ میں جانور ہی کا بچہ نشوونما پائے گا لیکن اس کا کوئی ایک مخصوص عضو، لبلبہ یا کوئی اور، انسانی ہو گا۔ جو بعدازاں اس جانور سے نکال کر انسان کے جسم میں پیوند کر دیا جائے گا۔“

مزید : ڈیلی بائیٹس