سعودی عرب نے ایک ایسی جدید ترین چیز خریدنے کی تیاری کرلی کہ اب ملک میں مرضی کے بغیر پتہ بھی ہلے گا تو فوری معلوم ہوجائے گا

سعودی عرب نے ایک ایسی جدید ترین چیز خریدنے کی تیاری کرلی کہ اب ملک میں مرضی کے ...
سعودی عرب نے ایک ایسی جدید ترین چیز خریدنے کی تیاری کرلی کہ اب ملک میں مرضی کے بغیر پتہ بھی ہلے گا تو فوری معلوم ہوجائے گا

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

ریاض (مانیٹرنگ ڈیسک)یمن کی جنگ اور خطے کے عمومی عدم استحکام کے باعث سعودی عرب کو کئی طرح کے خطرات لاحق ہیں،جن کا توڑ کرنے کے لئے مملکت نے ایک ایسا ہتھیار خریدنے کا فیصلہ کر لیاہے جو خطرات کو سر اٹھانے سے قبل ہی کچل دینے میں مدد فراہم کرے گا۔

ویب سائٹ عریبین بزنس کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب نے خطرات کا پیشگی پتہ چلانے والا یہ ہتھیار امریکا سے خریدنے کا فیصلہ کیا ہے اور امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے اس کی ممکنہ فروخت کی منظوری دے دی ہے۔ ساڑھے 52 کروڑ ڈالر (تقریباً ساڑھے 52 ارب پاکستانی روپے)مالیت کا 74K پرزسٹنٹ تھریٹ ڈیٹیکشن سسٹم (پی ٹی ڈی ایس) امریکی فوج 2003ءسے استعمال کررہی ہے اور اسے افغانستان اور عراق میں بھی فوجی اڈوں کے اردگرد وسیع و عریض علاقے کی نگرانی کے لئے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔

سوات ایکسپرس وے کے بعد سعودی فرمانروا شاہ سلمان کا پاکستانیوں کیلئے ایک ارب 25 کروڑ روپے کا ایک اور انتہائی شاندار تحفہ، مشکل وقت میں ہر پاکستانی کا دل جیت لیا

امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے ایک بیان کے مطابق سعودی عرب کی جانب سے 10 عدد پی ٹی ڈی ایس ایرو سٹیٹ، 14 عدد گراﺅنڈ موونگ ٹارگٹ انڈیکیٹر راڈار، 26 عدد MX-20 الیکٹرو آپٹک انفراریڈ کیمروں اور 10 کمیونیکیشنز انٹیلی جنس سینسرز کے لئے درخوست کی گئی ہے۔ سپورٹ پیکجز، گراﺅنڈ کنٹرول سسٹمز اور مورنگ سسٹمز ہمراہ پاورڈ ٹیدر ہمراہ ایمبیڈڈ فائبر آپٹکس بھی اس سسٹم کا حصہ ہوں گے۔

امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کا کہنا ہے کہ سامان حرب کی یہ فروخت مشرق وسطیٰ میں سیاسی استحکام اور اقتصادی ترقی میں اہم کردار ادا کرنے والے امریکی اتحادی کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط کرنے اور فروغ دینے میں اہم ثابت ہوگی۔ اسے سعودی رائل لینڈ فورس اور امریکی فورسز کے درمیان عسکری تعاون کے شعبے میں اہم پیشرفت بھی قراردیا جارہا ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ مجوزہ فروخت سعودی عرب کی موجودہ اور مستقبل کے خطرات سے نمٹنے کی صلاحیت میں اضافہ کرے گی اور اس کے کریٹیکل انفراسٹرکچر کو بہتر تحفظ فراہم کرے گی، جبکہ سعودی عرب کو یہ سسٹمز اپنی مسلح افواج میں جذب کرنے میں کسی قسم کی مشکل کا سامنا نہیں ہوگا۔

مزید : عرب دنیا