کیا آپ کو معلوم ہے درہم سے پہلے متحدہ عرب امارات میں کونسی کرنسی استعمال کی جاتی تھی؟ جواب جان کر آپ کی حیرت کی انتہا نہ رہے گی

کیا آپ کو معلوم ہے درہم سے پہلے متحدہ عرب امارات میں کونسی کرنسی استعمال کی ...
کیا آپ کو معلوم ہے درہم سے پہلے متحدہ عرب امارات میں کونسی کرنسی استعمال کی جاتی تھی؟ جواب جان کر آپ کی حیرت کی انتہا نہ رہے گی

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

ابوظہبی (مانیٹرنگ ڈیسک) ہم میں سے اکثر سمجھتے ہیں کہ روپیہ صرف پاکستان اور بھارت میں استعمال ہوتا ہے لیکن شاید آپ کو یہ جان کر حیرانی ہوگی کہ متحدہ عرب امارات کی موجودہ کرنسی کے وجود میں آنے سے بہت پہلے وہاں بھی روپیہ ہی بطور کرنسی استعمال ہوتا تھا۔

خلیج ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق تیل کا انقلاب برپا ہونے سے پہلے متحدہ عرب امارات میں کوئی کرنسی سسٹم نہیں ہوا کرتا تھا۔ کمپنی NUMISBIMG کے بانی رام کمار نے بتایا کہ اس دور میں امارات میں کئی طرح کی مختلف کرنسیاں استعمال ہوا کرتی تھیں۔ برطانیہ کے ساتھ اتحاد سے قبل خلیجی ریاستیں اپنے قرب و جوار میں واقع کسی بھی بڑے ملک کی کرنسی استعمال کر لیا کرتی تھیں۔ یہ تاج برطانیہ کے بھارت کا دور تھا لہٰذا اکثر ریاستیں اسی کی کرنسی استعمال کیا کرتی تھیں۔ اس دور میں دنیا کے کم ازکم 20 ممالک بھارتی روپیہ استعمال کر رہے تھے، اور 1957ءتک خلیجی ریاستوں میں بھی وہی کرنسی استعمال ہوتی تھی جو بھارت میں استعمال ہوتی تھی۔

بڑے عرب ملک میں پاکستانیوں نے دنیا کو پیچھے چھوڑدیا، اتنا مال بنالیا کہ سب دیکھتے ہی رہ گئے، تازہ رپورٹ میں بڑا انکشاف

پھر یہ مسئلہ سامنے آیا کہ تاجروں کی ایک بڑی تعداد نے خلیجی ریاستوں سے سونا بھارت سمگل کرنا شروع کردیا۔ اس مسئلے پر قابو پانے کے لئے 1957ءمیں بھارت میں ایکسٹرنل روپیہ یا خلیجی روپیہ کی پرنٹنگ شروع کی گئی۔ خلیجی روپیہ بھارتی روپے سے ملتا جلتا ہی نظر آتا تھا، البتہ اس کا رنگ مختلف تھا۔ خلیجی روپے کا بھارتی روپے سے ایک نمایاں فرق یہ بھی تھا کہ اس پر پرنٹ کئے گئے نمبر میں انگریزی حرف Z آتا تھا۔ یہ کرنسی نوٹ1، 5، 10 اور 100 روپے مالیت کے ہوتے تھے اور متحدہ عرب امارات کے علاوہ بحرین، کویت، عمان اور قطر وغیرہ میں بھی استعمال ہوتے تھے۔ سعودی عرب واحد ملک تھا جس نے یہ کرنسی کبھی ستعمال نہیں کی۔

اب خلیجی ریاستوں میں صرف خلیجی روپیہ استعمال ہونے لگا اور سونا سمگل کرنے والے تاجروں کے لئے اسے خریدنا ممکن نہ رہا۔ اسی طرح بھارت میں خلیجی روپیہ استعمال نہیں ہوسکتا تھا اور یوں سمگلنگ کے مسئلے پر قابو پالیا گیا۔ ایک ملک کی کرنسی دوسرے ملک میں استعمال کرنے کے لئے اسے ایکسچینج کروانا پڑتا تھا۔ اس دور میں دونوںکرنسیوں کی قدر برابر ہوا کرتی تھی۔ خلیجی روپیہ 1957ءسے 1966ءتک زیر استعمال رہا لیکن اس کے بعد ایک جانب خلیج میں تیل دریافت ہوگیا تو دوسری جانب بھارت نے اپنی کرنسی کی قدر کم کردی۔ اس کے بعد 1966ءسے 1973ءتک خلیجی ریاستوں میں قطر دبئی ریال استعمال ہوتا رہا۔

مزید : عرب دنیا