جگت نہیں، عمل چاہئے

جگت نہیں، عمل چاہئے
جگت نہیں، عمل چاہئے

  

تحریر: سید امجد حسین بخاری

پانامہ پیپرز کے خلاف درخواستیں زیر سماعت ہیں، یوں تو عدالت میں پانچ ججوں پر مشتمل ایک بنچ بغور اس کی سماعت کر رہا ہے۔ قانونی نقطے زیر بحث آرہے ہیں، ایک جانب الزام ثابت کرنے کے لئے ثبوت کی فرمائش ہے جبکہ دوسری طرف بے گناہی پر بھی دلائل مانگے جا رہے ہیں۔عوام کی نظریں عدالت عالیہ کی جانب ہیں، میڈیالمحہ بہ لمحہ عدالت کی کارروائی عوام تک پہنچا رہا ہے۔ ملک کے نامی وکلاءحکومت اور اپوزیشن دونوں کی پیروی کر رہے ہیں، نامی کی تعریف جب ایک دوست نے پوچھی تو پاس کھڑے ایک صاحب نے ارشاد فرمایا بھئی اس سے مراد سب سے بھاری فیسیں لے کر ہلکے دلائل دینے والا وکیل ہے ۔

جب سے پانامہ کیس عدالت میں آیا ہے عوام ایک ذہنی اضطراب کا شکارہیں، سنجیدہ حلقوں سے جب اس بارے میں بات کی تو انہوں نے اس کیس پرمایوسی کا اظہار کیا ، ان کے مطابق حکومت، اپوزیشن اور عدالت جان بوجھ کر کیس کو طوالت دے رہے ہیں ، بس عوام کو اطمینان دلایا جارہا ہے۔ لوٹی ہوئی دولت کا حساب تو درکنار اس پر بات کرنا بھی ممکن نہیں رہا۔ مجھے عدالت عالیہ اور اس کے باہر روزانہ چلنے والی جگت بازی کی محافل پر شرمندگی ہوتی ہے۔ قومی قیادت اور سنجیدہ سیاست دان ایک دوسرے پر جملے یوں کستے ہیں جیسے کوئی سٹیج شو ہو اور کامیڈین اپنی ریٹنگ بڑھانے کے لئے بڑھ چڑھ کر ایک دوسرے پر وار کرتے ہیں۔ کامیڈی ہوتی تو شاید کچھ حد تک برداشت بھی کرلیا جاتا ، ایک دوسرے سے آگے نکلنے کے لئے ، ایک دوسرے کا راستہ کاٹنے کے لئے نت نئے حربے استعمال کئے جاتے ہیں ، گذشتہ دنوں حکمران جماعت کے ایک نمائندے کی جانب سے شرارتی انداز میں تحریک انصاف کے رہنماﺅں کی گاڑیوں کو اوور ٹیک کیا گیا جس کے نتیجے میں گاڑیوں میں تصادم ہوا، خدا کا شکر ہے کہ قوم ایک بڑے حادثے سے بچ گئی۔ یہ انداز آوارہ نوجوانوں کا تو ہو سکتا ہے مگر قومی رہنماﺅں کی جانب سے یہ وطیرہ قابل گرفت ہے مگر اس جنگ میں اپنوں کا احتساب کیوں کر ممکن ہے؟۔

اب ذرا عدالت عالیہ کے ریمارکس کا جائزہ لے لیا جائے۔ پانچ قابل ججوں پر مشتمل بنچ عوامی نمائندوں کے احتساب کے لئے تشکیل دیا گیا۔ یہ پنج اپوزیشن اور حکومت کے وکلاءکو یوں الجھائے ہوئے ہے گویا کیس کو لمبا کرکے منتقی انجام تک پہنچانے کی بجائے بس لٹکائے رکھا جائے۔ تحریک انصاف اور شیخ رشید صاحب میدان میں وزیراعظم کے احتساب کا مطالبہ لے کر آئے جبکہ جماعت اسلامی پانامہ لیکس میں موجود تمام تین سو پاکستانیوں کے احتساب کا مطالبہ لئے عدالت کے دروازے پر کھڑی ہے۔ جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق کا مطالبہ ہے کہ احتساب سب کا ہونا چاہئے مگر اس کی ابتداءوزیر اعظم اور ان کے خاندان سے ہونی چاہئے۔

دوماہ قبل پانامہ کیس کے ابتدائی دنوں میں کیس کے حوالے سے تحریک انصاف کی جانب سے جمع کرائے گئے ثبوتوں پر سپریم کورٹ کے ریمارکس پر سوشل میڈیا پر کافی تنقید کا سامنا کرنا پڑا جس میں سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ نعیم بخاری نے جو کاغذات جمع کرائے ان کی ضرورت نہیں تھی،پی ٹی آئی کی ان دستاویزات کا کیس سے تعلق ہی نہیں۔ بینچ میں شامل جسٹس عظمت سعید شیخ نے ریمارکس دیے کہ پی ٹی آئی کی دستاویزات میں اخباری تراشے بھی شامل ہیں ،اخبارات کے تراشے کوئی ثبوت نہیں ہوتا، درخواست گزار نے سچ کو خود ہی دفن کردیا ہے۔ان کا مزید کہناتھا کہ اخباری تراشے الف لیلیٰ کی کہانیاں ہیں،الف لیلیٰ کی کہانیوں پر ہمارا وقت کیوں ضائع کیا؟ اخبارایک دن خبرہوتاہے اگلے روزاس میں پکوڑے فروخت ہوتے ہیں، اخبارمیں خبر آجائے کہ اللہ دتہ نے اللہ رکھاکوقتل کردیاہے توکیاپھانسی دیدیں گے؟ کل دستاویزات جمع کرادیتے تو ہم دیکھ تو لیتے۔ جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیے کہ حامد خان صاحب آپ نے اخباری تراشے جمع کرادیے ہیںجن کا کیس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ چیئرمین نیب خود ساختہ جلاوطنی میں چین چلے گئے ہیں، ہم کیا کریں؟چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہم کوئی کمپیوٹر تو نہیں ایک منٹ میں صفحات کوا سکین کرلیں،نیب اور دیگر اداروں کی ناکامی کاملبہ ہم پر نہ ڈالیں۔انسان ہیں کمپیوٹر نہیں کہ دستاویزات فیڈ کریں اور جواب آ جائے، دستاویزات آ گئی ہیں، اگلا مرحلہ کمیشن کی تشکیل ہے۔ انکا کہنا تھا کہ آپ کے دلائل سے لگتا ہے آپ درخواست گزاروں کے نہیں دوسرے فریق کے وکیل ہیں۔700 صفحات ایک طرف سے، 1600دوسری طرف سے جمع کرائے گئے ۔

ابھی کل شاہد حامد جو کہ وزیر اعظم کے وکیل ہیں ان سے عدالت میں جج نے مریم نواز کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ”لگتا ہے یہ اکاﺅنٹینٹ کی جادوگری ہے۔“ جس پر پاکستان کے مہنگے ترین وکیل شاہد حامد صاحب نے بے بس ہوکر فرمایا: ”مائی لارڈ! آپ اس قسم کے ریمارکس نہ دیں۔ میڈیا اس کی چٹپٹی سرخی لگا کر میرے کلائنٹ کے لیے مسئلہ پیدا کرتا ہے۔ جناب اعلیٰ میڈیا کو تو مصالحہ چاہئے ورنہ یہ نیوز کی ہنڈیا ذائقہ دار کیسے بنے گی۔ میڈیا کی خبروں کو مصالحہ دار تو آپ خود ہی بناتے ہیں۔ باری باری درجنوں کیمروں کے سامنے آکر روزانہ انجمن ستائش باہمی کا عملی نمونہ پیش کرتے ہیں ، اپنی اپنی پارٹیوں کی خوشنودی کے لئے جگت بازی میں سبقت لے جانے کی کوشش کرتے ہیں۔ جب تک آپ لائیو نہیں جاتے پارٹی سربراہان کی نظروں میں آپ کا مقام بہتر نہیں ہوتا۔

حکومتی وزراءاپنی وزارتوں کو وقت دینے کی بجائے سپریم کورٹ کے طواف میں مصروف ، اپوزیشن والے بھی کچھ ایسا ہی کردار نبھا رہے ہیں۔ اسمبلی اجلاسوں میں جس کے لئے عوام نے منتخب کیا تاخیر ممکن ہے مگر سپریم کورٹ میں تاخیر نہ ہو، بروقت پہنچیں ، پارٹی کی باقی قیادت سے پہلے پہنچیںاور سپریم کورٹ کی سماعت کے دوران الزام ثابت ہوتے ہیں اور نہ ہی بے گناہی کو ثابت کیا جا سکتا ہے۔ ہاں البتہ عدالت عالیہ کے باہر بلاتعطل سٹیج شو لگتا ہے، جس میں عزتیں اچھالی جاتی ہیں، القابات سے نوازا جاتا ہے، جگتیں لگائی جاتی ہیں اور آوازیں کسی جاتی ہیں۔ کاش کے جتنا وقت الزامات اور جگتوں کی تیاری پر اپوزیشن اور حکومت کے ارکان ضائع کرتے ہیں اتنا وقت سنجیدگی کے ساتھ عدالت کی جانب سے مانگے جانے والے ثبوتوں کی فراہمی کے لئے صرف کیا جاتا ، پانامہ کیس دن بدن طویل ہوتا جا رہا ہے جس سے عوام کا وقت برباد ہو رہا ہے جبکہ سیاسی کارکنان کے صبر کا بھی امتحان لیا جاتا رہا ہے۔

سپریم کورٹ کے فاضل ججز صاحبان کو حکومتی اور اپوزیشن ارکان کو سپریم کورٹ کے باہر کورٹ لگانے سے روکنا ہوگا اور خود بھی کیس کے جلدی فیصلے کے لئے اقدامات کرنا ہوں گے ورنہ آئے دنوں بنچ کے ججز کے ریمارکس کی وجہ سے عدل و انصاف پر سے عوام کا اعتما د اٹھ رہا ہے کیوں کہ اب عوام کو جگت بازی نہیں عملی اقدامات درکار ہیں۔

لکھاری سپیریئر یونیورسٹی میں ایم فل جرنلزم کے طالبعلم ہیں۔ نوجوانوں کے میگزین ہم قدم کے مدیر رہےاور بچپن سے بچوں کے لئے کہانیاں لکھنا شروع کیں ۔آج کل قومی اخبارات میں ’’جلتی کتابیں‘‘ کے نام سے تعلیمی اور معاشرتی مسائل پر لکھ رہے ہیں۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ